BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 October, 2005, 04:02 GMT 09:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'برطانیہ:ہزاروں مر سکتے ہیں'
سر لیام ڈانلڈسن
برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر سر لیام ڈانلڈسن
برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ہے کہ ان کا ملک بھی برڈ فلو کی وبا کا شکار ہوگا لیکن ضروری نہیں کہ ایسا اسی سال ہو۔

سر لیام ڈونلڈسن نے اتوار کو بی بی سی کے ایک پروگرام میں بتایا کہ اس بیماری سے پچاس ہزار لوگ مر سکتے ہیں لیکن اس بیماری کا مرکز مشرقی ایشیا میں ہونے کاامکان ہے۔

سنیچر کو برطانیہ میں ٹیسٹ سے تصدیق ہو گئی کہ رومانیہ میں برڈ فلو کا ایک کیس ملا ہے جو انسانوں کے لیے جان لیوا ہے۔ برطانیہ میں خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ بیماری پرندوں کے ذریعے برطانیہ پہنچ سکتی ہے۔

برڈ فلو کی خطرناک قسم اگر انسانی فلو سے مل جائے تو وبا کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔

سر ڈانلڈسن نے کہا کہ اس بات کا امکان کم ہے برڈ فلو کی نئی قسم اس سال برطانیہ آئے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر برڈ فلو دنیا کے کسی اور مقام پر پہلے پہنچ گیا تو اس سے برطانیہ میں ڈاکٹروں کو اس کے لیے موثر دوا تیار کرنے موقع مل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم اس بیماری کو آنے سے نہیں روک سکتے کیونکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے، یہ آئے گی'۔ 'لیکن ہم اس کا اثر کم کر سکتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جمعرات کو ایک پروگرام کا اعلان کرے گی جس میں بتایا جائے گا کہ بیماری سے کیسے نمٹا جائے گا۔

ساڑھے سات لاکھ اموات
سر ڈانلڈسن نےکہا ہے کہ اگر حفاظتی دوائی تیار ہونے سے پہلے یہ بیماری برطانیہ پہنچی تو پچاس ہزار زیادہ لوگ اس کا شکار ہوں گے اور کل ساڑے سات لاکھ افراد کی ہلاکتیں 'ناممکن نہیں' ہیں۔

وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر مارٹن وسلکا نے کہا کہ 'پچاس ہزار افراد کی ہلاکت' محض ایک اندازہ ہے۔ 'اس سے کم بھی ہو سکتا اور زیادہ بھی۔ میرے خیال میں ابتدائی طور پر اسے سے زیادہ ہو سکتا ہے'۔

برطانیہ نے برڈ فلو سے بچنے کے لیے حفاظتی دوائی کی ایک کروڑ چھیالیس لاکھ خوراکیں منگوائی ہیں جو کہ اس کی پچیس فیصد آبادی کے لیے ہوں گی۔

سر ڈونلڈسن نے کہا کہ برطانیہ میں اس وقت پچیس لاکھ خوراکیں موجود ہیں اور ہر ماہ آٹھ لاکھ خوراکیں منگوائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برڈ فلو کی وبا ہر دس سے چالیس کے بعد آتی ہے اور برطانیہ میں یہ آخری بار 1968 میں آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بیماری کے ابتدائی مراحل کے لیے حفاظتی دوائی بھی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو اٹھارہ میں ہسپانیہ میں پھیلنے والے برڈ فلو کی مثال یہاں صادق نہیں آتی جب دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب بہتر ہسپتال موجود ہیں اور طب کے علم میں بہت ترقی ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد