’انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اشرف قاضی نے کہا ہے کہ عراق میں حکام کو انسانی حقوق کے تحفظ پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کے نمائندے مائیکل واس کے مطابق اشرف قاضی نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ عراق میں مناسب طریق کار کے بغیر حراستوں کی مسلسل اطلاعات ہیں اور فلوجہ جیسے علاقوں میں عوام کو کوئی تحفظ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحفظ انہیں انسانی ہمدردی کے عالمی قانون کے تحت حاصل ہے۔ جنوری کے انتخاب کے بعد کل پیر کا اجلاس عراق کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے سلسلے میں پہلی سہ ماہی کا اجلاس تھا۔ سیاسی حوالے سے اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے ان سًنی عربوں کی سیاسی عمل میں شرکت پر زور دیا جنہوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ معاشرے کے تمام عناصر کو سیاسی دھارے میں شامل کرے۔ یاد رہے کہ دو سال قبل بغداد میں بم حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے وہاں سے اپنا عملہ نکال لیا تھا۔ تاہم کچھ عملہ انتخابات کے انعقاد میں مدد کے لیے واپس عراق گیا تھا اور اب اقوامِ متحدہ اربیل اور بصرہ میں دفاتر کھولنے کے عمل میں ہے۔ ابھی تک ان کا تحفظ امریکی فوج کے ذمہ تھا لیکن اب اس مقصد کے لیے الگ خصوصی دستے تشکیل دیے گئے ہیں جن میں جارجیا اور رومانیہ کے فوجی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||