’ کل نئی تجاویز کا تبادلہ ہوگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکٹریوں نے پیر کے روز سلامتی کے امور پر مذاکرات کیے ہیں اور منگل کو کشمیر پر بات چیت ہوگی جس میں اس مسئلے پر نئی تجاویز کا تبادلہ ہوگا۔ اسلام آباد بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے بتایا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکٹریوں کی ملاقات سے ملنے والا پیغام بہت واضح تھا۔ اور وہ پیغام یہ تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر جو اختلافات ہیں انہیں حال ہی میں شروع ہونے والے امن کے عمل کو پٹری سے اترنے نہیں دینا چاہیئے۔ پاکستان کا موقف تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے تمام فریق متفق ہوں۔ پاکستان کے خارجہ سیکٹری ریاض کھوکھر اور ان کے بھارتی ہم منصب شیام سرن نے گزشتہ ادوار کے مذاکرات پر بھی بات چیت کی اور اگلے سال کے مذاکراتی ایجنڈے پر بھی گفتگو کی۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا کہ مذاکرات کے موجودہ دور کو زیادہ بامعنی بنانے والی بات بھارت کے سیکٹری خارجہ کی یقین دہانی ہے کہ ان کا ملک نہ بات چیت سے کنارہ کش ہوگا اور نہ مسائل کو پسِ پشت ڈالے گا۔ کشمیر پر مزید بات چیت اب منگل کو ہوگی اور توقع ہے کہ اس میں فریقین مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز کا تبادلہ کریں گے۔ مسعود خان کا کہنا تھا کہ پیر کے دن جو بات چیت ہوئی اس کا موضوع امن اور سلامتی تھا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ایشو ایجنڈے پر بہت اہم تھا اور دونوں اطراف نے جوہری ہتھیاروں کے حادثاتی اور غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے اعتماد کی بحالی کا ایک نظام وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اکثر معاملات پر دونوں ملکوں میں سمجھ بوجھ کا جو اختلاف پایا جاتا ہے، موجودہ مذاکرات شاید اسے ختم کرنے میں نتیجہ خیز نہ ہو۔ تاہم پاکستانی ترجمان نے کہا کہ دونوں فریق اس عمل کو آگے بڑھانے کے بارے میں بہت پر عزم ہیں اور متازع امور پر اگلے سال بات چیت کے ادوار اور ان کی تاریخوں کا تعین بھی کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||