BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 October, 2003, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہم تیار ہیں: ریاض کھوکھر
دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بڑھانے کی بات
’کئی تجاویز غیر سنجیدہ ہیں‘

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امن کے لئے پیش کی جانے والے بھارتی تجاویز میں سے اکثر پر عمل درآمد کرنے کے لئے تیار ہے۔

تاہم پاکستان کے سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اصل مسائل، جیسا کہ کشمیر، صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے بھارت کے امورِ خارجہ کے وزیر نے فضائی، اور ریلوے کے رابطے بحال کرنے کے علاوہ اضافی طور پر پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بس چلانے کی بات کی تھی۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس لکھتے ہیں کہ بھارتی تجاویز کا مفصل جواب دیتے ہوئے خارجہ سیکرٹری ریاض کھوکھر نے کہا کہ ان میں سے اکثر پاکستان نے پہلے پیش کی تھیں اور وہ ان پر بغیر کسی تاخیر کے عمل درآمد کرنے کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفر کے لئے پیش کی جانے والی چند تجاویز حقیقی ہیں اور باقی غیر سنجیدہ اور پروپیگینڈا کے لئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان ہر ایک پر بات کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطہ بحال رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ملکوں کے فضائی ماہرین کے درمیان بات چیت کے ایک اور دور کی تواریخ کے لئے راضی ہے تاکہ فضائی رابطے بحال کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے دلی سے کہا ہے کہ جلد از جلد ریل کا رابطہ بحال کیا جائے کیونکہ یہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان منقسم خاندانوں کے سفر کا اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان چاہے گا کہ دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کی تعداد دوبارہ پوری ایک سو دس کر دی جائے جو بھارت کے اصرار پر اس سال کے شروع میں آدھی سے کم کر دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان بس سروس کا خیال ایک منفرد خیال ہے اور پاکستان اس پر غور کرنے کے لئے بھی تیار ہے اگر یہ کام اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی کیا جائے۔

ریاض کھوکھر نے کہا کہ ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے عوام کو کچھ ریلیف ملے گا لیکن ’اصل جھگڑا صرف اس وقت حل ہو گا جب بھارت سنجیدگی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہو گا‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد