بیسلان اب بھی غم میں ڈوبا ہوا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے شہر بیسلان کا سکول نمبر ایک، جس پر ایک مہینہ پہلے قبضہ کیا گیا تھا۔ آج ایک نئی شکل میں نظر آتا ہے ، گو کہ دکھ کی پرچھائی وہاں آج بھی صاف عیاں ہیں۔ قبضے کے دوران اس سکول میں 1200 لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، جن میں سے تین سو تیس لوگ خون خرابے میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ ہلاک ہونے والوں میں سکول کے بچے، مدرس اور دوسرے لوگ شامل تھے۔ اسکول کے فرش پر بچھا قالین جو تب خون سے رنگین ہو گیا تھا آج پھولوں سے بھرا دکھائی دیتا ہے۔ سکول کھلنے سے ایک دن قبل وہاں کے مدرسوں کی جانب سے تحریر کی ہوئی ایک سطر ان پیغامات سے ٹھیک اوپر، کچھ اس طرح لکھی نظر آتی ہے ’علم و دانش کا ملک آپ کا استقبال کرتا ہے‘۔ سکول کی عمارت کے مختلف حصوں، کھلی جگہوں اور سکول سے ہسپتال کے تمام راستے میں جا بجاان بچوں کی تصویریں اور پوسٹر نظر آتے ہیں جو اب تک لاپتہ ہیں۔ بیسلان کے درجنوں خاندانوں کو ابھی تک ان کے دلاروں کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ یہاں تقریبا ً پچاس بچے اب تک گم ہیں۔ اور اس غیر یقینی صورتحال نے ان کے رشتہ داروں کو درد و کرب میں ڈبو دیا ہے۔
اروتین علی خان جنہوں نے اس سانحے کے بعد اپنے دس سالہ بچے کی تدفین کی تھی اب بھی اپنی اہلیہ روزانہ اور چار سالہ بیٹی انی کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ مجھے اگر ان کی موت کی بھی خبر مل جائے تو ٹھیک ہے ۔ کم از کم مجھے ان کی قبر کا تو پتہ رہے گا۔ مجھے علم رہے گا کہ میری فیملی اب نہیں رہی۔ مگر یہ تزبزب کی کیفیت تو بڑی مشکل ہے۔‘ کو ڈھونڈنے بیسلان کے سارے ہسپتال اور مردہ خانوں میں جا چکے ہیں۔ کچھ دن قبل انہوں نے شناخت کی غرض سے اپنا خون ڈی این اے ( DNA ) امتحان کے لئے بھی دیا تھا۔ وہ اب پریشان ہیں اور لا چاری سے پوچھتے ہیں ’میں کس سے دریافت کروں ؟ کہاں جاؤں ؟ آپ مجھے بتائیں‘۔ وہ مزید کہتے ہیں ’ کوئی سرکاری اطلاع مہیا نہیں ہے۔ مجھے صرف افواہوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ شاید ان کو پیسوں کی لالچ میں یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ یا ان کو بھیڑیوں نے کھالیا اور وہ مرگئے ہیں۔ مجھے کس طرح ان کا پتہ چلے گا‘۔ اسکول پر چیچنیا کے علٰیحدگی پسندوں کے قبضے کے ایک ماہ بعد بیسلان کے بارہ خاندانوں کو ان کے رشتہ داروں کے مارے جانے کی خبر وہاں سے پانچ سو میل دور کے مردہ خانے سے وصول ہوئی ۔ اور اب وہ ان کو وہاں سے لانے میں لگے ہیں۔ لیکن ان کی پریشانیاں پھر بھی جاری رہیں گی۔ اروتین ہی کی طرح ان کو بھی ہرجانہ (معاوضہ) وصول کرنے کے لیے کاغذات لے کر سرکاری دفتروں کے دھکے کھانے پڑینگے۔ حقوق انسان کے لیے کام کرنے والوں کی جانب سے امداد تو جاری ہے۔ لیکن بیسلان کے لوگوں کو کبھی ایسا بھی لگتا ہے کہ شاید ان کو ان کے غم کے ساتھ اکیلے ہی چھوڑ دیا جائے گا۔
عطیے کے طور پر ملی چیزوں میں اروتین کو ان کے خالی اپارٹمنٹ میں چھوٹے بچے کی ایک سائیکل رکھی نظر آئی ہے۔ جو ان کو اس وقت ملی ہے جب وہ آرمینیا سے اپنے بچے مارٹن کی تدفین کے بعد بیسلان واپس لوٹے تھے۔ تاتیانا لاورنتیوا نامی ماہر نفسیات نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا ’ یہاں تاتیانا کے پاس کئی بچے آکر کھیلتے، بیٹھتے، اور اس ذہنی کیفیت کو بھلانے کی کوشش کرتے جو ان پر قبضے کے دوران طاری ہوئی تھی ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں وہ یہاں صرف تیس بچوں کا اس طرح علاج مہیا کیا جاسکتا ہے ۔ بیسلان میں اس سانحے کی سوگواری کے چالیس دن ختم ہونے ہی والے ہیں۔ لیکن وہاں کے لوگوں کو اب بھی یہ خدشہ گھیرے ہوئے ہے کہ کہیں پھر نیا خون خرابہ شروع نہ ہو جائے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||