کائنات کی عُمر کا نیا تخمیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطالوی اور جرمنی کے سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ کائنات کا وجود اربوں سال سے بھی زیادہ پرانا ہو سکتا ہے۔ اٹلی میں ایک زیرِ زمین تجربہ گاہ میں ہونے والے تجربات سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ستاروں میں توانائی پیدا کرنے والے جوہری ردِ عمل کی رفتار انسانی اندازے سے بھی آہستہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اجرامِ فلکی کی زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ اس تحقیق سے کائنات کی عمر ایک اندازے کے مطابق چودہ ا عشاریہ سات بلین سال بتائی جاتی ہے جبکہ اس سے پہلے یہ تخمینہ تیرہ اعشاریہ سات کے لگ بھگ تھا۔ اس تحقیق میں سائنس دان کاربن نائیٹروجن آکسیجن سائیکل پر تحقیق کر رہے ہیں جو سورج کی نسبت انتہائی تھوڑی مقدار میں توانائی فراہم کرتا ہے۔ تحقیقی نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کاربن نائیٹروجن آکسیجن سائیکل کا عمل ہمارے اندازے سے بھی آدھا ہے۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بڑے ستارے ہمارے اندازے سے بھی زیادہ عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ کائنات کا قدیم ہونا، قدیم ستاروں پر منحصر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||