بارات پر فائرنگ: متعدد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق مغربی عراق میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے شام کی سرحد کے نزدیک ایک گھر پر فائرنگ کی ہے جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حملے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہو ئے ہیں جن میں خواتین اور بچے دونوں شامل ہیں۔ جبکہ امریکی فوج نے اس خبر کی مکمل طور سے تصدیق نہیں کی ہےـ واشنگٹن میں پینٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔ لیکن مغربی عراق میں واقع رمادی سے عراقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بدھ کی صبح مکر الدیب نامی گاؤں میں اُس وقت پیش آیا جب باراتیوں نے خوشی میں ہوائی فائرنگ شروع کر دی تھی۔ اس کے علاوہ بتایا جاتا ہے کہ اس حادثہ سے پہلے بھی شادیوں کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں امریکی فوج فائرنگ کرنے والوں کو اپنا دشمن سمجھ کر جوابی فائرنگ کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فوج پر بھی حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں امریکی فوج کی جوابی فائرنگ میں کچھ افراد ہلاک اور گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ ادھر عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے سلسلے میں عراق میں امریکی فوجی کمانڈر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ’قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی‘ ان کے لائحہ عمل میں شامل نہیں ہے۔ واشنگٹن میں سینٹ کی عام سروسز کی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی فوجی کمانڈر جنرل جان ابی زید نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی صرف عراق میں ہی نہیں بلکہ افغانستان میں ’گوتنامو بے‘ نامی کیمپ میں بھی ہوئی ہے۔ لیکن اس بارے میں تمام کمانڈروں نے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری طور سے کسی فوجی اہلکار کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ سماعت کے دوران کمیٹی کے چیئرمین جان وارنر نے اعلان کیا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے حوالے سے ایک اور سی ڈی ملی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ایک امریکی فوجی کو عراق کے ابو غریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کے جرم میں ایک سال کی قید سزا سنائی گئی ہے۔ اس طرح وہ پہلے امریکی فوجی بن گئے ہیں جنہیں بدسلوکی کے جرم میں سزا سنائی گئی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||