کشمیر: پیش رفت کے لئےالٹی میٹم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے معاملے یا مسئلہ کشمیر پر جولائی، اگست کے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی تو معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ اسلام آباد سے صحافی احتشام الحق نے بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا کہ صدر جنرل مشرف نے یہ بات آرمی ہاؤس میں پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام نیوز نائٹ کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں کچھ دانشوروں، صحافیوں اور سابق سفیروں کے سامنے گفتگو کے دوران کہی۔ احتشام الحق نے انٹرویو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف نے حاضرین سے کہا کہ وہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی قیادت، امریکہ اور مغربی ممالک کو بتا دیا ہے کہ اگر امن مِشن آگے نہیں بڑھتا اور جولائی اگست کے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر پر کوئی بات نہیں ہوتی تو ان کے لئے اس کارروائی میں فریق بننا اور پاکستان کے لئے اس مِشن کو آگے بڑھانا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو زیر بحث آنا چاہیے اور اسے حل کی طرف جانا چاہیے۔ انہوں نے جنرل مشرف کے حوالے سے بتایا کہ کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہاں کے لوگوں کی طرف سے جاری تحریکِ آزادی ہے اور پاکستان ہر حال میں اس کی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ احتشام نے بتایا کہ وانا میں جاری فوجی کارروائی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان سے غیر ملکی ’دہشت گرد‘ عناصر کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے پاکستان میں مبینہ طور پر موجود غیر ملکی جنگجؤوں سے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیں تو انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ احتشام کے مطابق صدر مشرف نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان امریکہ کے دباؤ میں کارروائی کر رہا ہے۔ صدر نے کہا کہ لوگوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اپنا جوہری پروگرام رول بیک کر رہا ہے۔ احتشام نے بتایا کہ صدر مشرف نے جوہری پروگرام کے بارے میں کہا کہ پاکستان مزید دھماکے کرے گا اور میزائل بنائے گا اور انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پوری دنیا کو بتا دیا ہے کہ وہ کسی صورت میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے بتایا کہ پوری دنیا کو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا احساس ہے اور اگر امریکہ میں نئے صدر بھی آ جاتے ہیں تو وہ بھی اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ احتشام نے مزید بتایا کہ صدر مشرف نے کہا کہ کوئی بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اس کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||