این ایف سی ایوارڈ،ایک اوراجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں صوبوں کو وسائل کی تقسیم کا فارمولا طے کیا جائے گا۔ اجلاس کی میں چاروں صوبوں کے وزراء خزانہ اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ صوبوں کو وسائل کی تقسیم پر بلوچستان سندھ اور صوبہ سرحد کے اعتراضات ہیں۔اس سے پہلے کمیشن کے اجلاس اسلام آباد کراچی لاہور اور پشاور میں ہو چکے ہیں لیکن تاحال حکام کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ اس کے بعد ایک اجلاس اسلام آباد میں ہو گا جس میں وسائل کی تقسیم کا فارمولے کا اعلان کیا جائے گا۔ بلوچستان، سندھ اور صوبہ سرحد کا مطالبہ ہے کہ وسائل آبادی کے ساتھ ساتھ رقبہ، محاصل اور پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں۔ صوبوں کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس اس وقت بارہ ارب ڈالر کے ذخائر ہیں جن میں سے ہر صوبے کو پچاس فیصد میں حصہ ملنا چاہیے۔ صوبہ بلوچستان کو پرانے فارمولے کے تحت لگ بھگ پانچ فیصد حصہ مل رہا ہے جس کی رقم کوئی نو ارب روپے بنتی ہے جبکہ صوبائی حکام کا دعویٰ ہے کہ گیس کی مد میں صوبہ بلوچستان کی آمدن پندرہ سے ا ٹھارہ ارب روپے بنتی ہے۔ اس حوالے سے اگر نیا فارمولا طے پا جاتا ہے تو صوبہ بلوچستان کے حصے میں کوئی پینتیس ارب روپے آئیں گے جس سے صوبے کی پسماندگی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح صوبہ سندھ کے حکام کا دعوی ہے کہ ملک کے ساٹھ فیصد محاصل کا تعلق ان کے صوبے سے ہے لیکن ان کو قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے کم حصہ ملتا ہے۔
اس طرح صوبہ سرحد ہائیڈل پاور جنریشن میں اپنی رائلٹی کا مطالبہ کرتا ہے۔ موجودہ فارمولے کے تحت جو آبادی کی بنیاد پر ہے صوبہ پنجاب کو زیادہ فائدہ حاصل ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ صوبہ بلوچستان کوئی دو ارب روپے سے زیادہ رقم اوور ڈرافٹ کی صورت میں لے چکا ہے جس کی بڑی وجہ صوبے کا کم حصہ اور مالیاتی کمیشن کے اعلان میں تاخیر بتائی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||