| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کا مطالبہ
صوبہ بلوچستان نے قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس جلد از جلد طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مرتبہ آبادی کے علاوہ رقبہ پسماندگی اور محصولات کو بھی مد نظر رکھا جائے وگرنہ بلوچستان یونہی پسماندہ رہے گا۔ وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس طلب کرنے میں تاخیر کی وجہ بلوچستان کے نجی رکن کی عدم نامزدگی ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبہ بلوچستان کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ روا رکھا ہے جس کی وجہ سے صوبے کو اس کے حقوق نہیں دیے جارہے۔ انھوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس فوراً طلب کیا جائے۔ اس کے علاوہ صوبے کو گیس رائلٹی، ترقیات کے حوالے سے اضافی محصولات یعنی ڈیویلپمنٹ سرچارج دیا جائے جبکہ صوبے میں فنڈز کی تقسیم کا فارمولا بھی تبدیل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اب تک صرف آبادی کی بنیاد پر فنڈز تقسیم کئے جاتے رہے ہیں جس سے صرف ایک صوبے کو فائدہ ہورہا ہے لہذا اب آبادی کے ساتھ ساتھ رقبہ، پسماندگی اور محصولات کو بھی مد نظر رکھا جائے کیونکہ سندھ سب سے زیادہ محصولات حاصل کرتا ہے جبکہ بلوچستان کا رقبہ پورے ملک کا بیالیس فیصد حصہ ہے اور یہ صوبہ سب سے زیادہ پسماندہ بھی ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کے بارے میں جب اسلام آباد میں وزارت خزانہ کے ترجمان ڈاکٹر اشفاق حسن خان سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان ن نے ابھی تک اپنا پرائیویٹ ممبر یعنی نجی رکن نامزد ہی نہیں کیا ہے جبکہ باقی تینوں صوبوں نے اپنے نمائندوں کے نام بھجوا دیے ہیں۔ بلوچستان نے جس رکن کا نام بھجوایا تھا وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ سینیئر وزیر مولانا عبدالواسع نے اس بارے میں کہا ہے کہ انھوں نے سابق سیکرٹری پیٹرولیم گلفراز کو نامزد کیا تھا جسے بغیر کسی وجہ کے مسترد کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان ہمیشہ گیس کی مد میں مطالبات کرتا رہا ہے لیکن مرکزی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ کوئی سمجھدار شخص بلوچستان کی نمائندگی کرے۔ انھوں نے کہا ہے کہ شوبہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس کی قیمت بائیس روپے فی مکعب فٹ رکھی گئی ہے جبکہ دیگر صوبوں سے نکلنے والی گیس کی قیمت ایک سو چوبیس روپے فی مکعب فٹ رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس پر اخراجات کم آئے ہیں اس لئے اس کی قیمت کم رکھی گئی ہے جبکہ گیس کی مد میں کھاد کی فیکٹریوں کو دی جانے والی رعایت کا بو جھ بھی اس غریب صوبے پر ڈالا گیا ہے جس کی کل قیمت کوئی دس ارب روپے سے بارہ ارب روپے تک بنتی ہے اور ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت صوبہ بلوچستان کو بجلی کی مد میں رعایت دے رہی ہے جس کی قیمت کوئی ڈیڑھ ارب روپے سے دو ارب روپے بنتی ہے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں گیس کی مد میں اپنی رقم دی جائے ہم اپنے لوگوں کو مفت بجلی دیں گے‘۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اراکین اور وزراء نے بارہا کہا ہے کہ مرکزگیس کی رائلٹی اور ڈیویلپمنٹ سرچارج کے حوالے سے کوئی چھ ارب روپے کا مقروض ہے لیکن مرکز مسلسل ادائیگی سے انکار کررہا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن میں صوبہ پنجاب کو آبادی کے تناسب کی بنیاد پر کوئی ستاون فیصد حصہ ملتا ہے۔ اسی طرح سندھ کو چوبیس فیصد سرحد کو چودہ فیصد اور بلوچستان کو صرف پانچ فیصد حصہ ملتا ہے۔ رائلٹی اور دیگر اضافی فنڈز علیحدہ ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر وسائل کی تقسیم کا یہی طریقہ کار رہا اور چھوٹے صوبوں کے ساتھ اسی طرح زیادتی جاری رہی تو بلوچستان اور دیگر چھوٹے صوبے یونہی پسماندہ رہ جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||