لیبیا کی فوج کو برطانوی تربیت کی پیش کش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کرنل معمر قذافی کے ساتھ ملاقات کے دوران لیبیا کی فوج کو تربیت دینے کی پیش کش کریں گے۔ برطانوی حزبِ اختلاف ٹوری پارٹی نے اس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم ٹونی بلیئرکا یہ کہنا کہ وہ دہشت گردی اور ممنوعہ ہتھیار ختم کرنے والی ریاستوں کی طرف دست تعاون بڑھا رہے ہیں لیبیا کے دورے کا دفاع کرنے کے لئے ہے۔ دورے کی تصدیق ہوتے ہی ٹوری پارٹی نے کہا کہ اس سے لاکربی بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو دکھ پہنچے گا۔ لاکربی بم دھماکوں میں دو سو ستر ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کی رائے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے لیبیا کے دورے پر بٹی ہوئی ہے۔ فوج کو تربیت دینے کی برطانوی پیش کش سے لیبیا کے فوجی افسروں پر سینڈھرسٹ اکیڈمی کے دروازے کھل جائیں گے۔
بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر اینڈریو مار کے مطابق اس پیش کش کا مقصد لیبیا کو یہ باور کرانا ہے کہ اسے انسانی تباہی کے ہتھیار رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹوری رکن ایوان مائیکل انکرم نے میڈرڈ میموریل سروس کے فوری بعد دورے کے شیڈول کو حیران کن قرار دیا ہے۔ بلیئر نے دورے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکا مقصد ریاستوں کو پیغام دینا ہے کہ انسانی تباہی کے ہتھیار اور دہشت گردی ختم کرنے والوں کے لئے ہمارا تعاون حاضر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس کامطلب ماضی کی تکلیف بھولنا نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اب آگے بڑھنے کاوقت ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ ’سانحہ میڈرڈ کا صدمہ دل میں لئے ہمیں اختلافات بھلا کر اور دہشت گردی کے ذریعے تقسیم نہ ہونے کا عزم کرتے ہوئے نیا طرز عمل اپنانا ہے اور اسکا آخر تک تحفظ کرنا ہے ‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||