برطانیہ کا دورہ پینتیس سال بعد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا کے وزیر خارجہ محمد عبدالرحمان شلقم منگل کے روز برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے اہم ملاقات کرنے والے ہیں۔ لیبیا کے وزیرخارجہ برطانیہ کے دو روزہ دورے پر سوموار کو لندن پہنچے تھے۔ ان کا دورہ لیبیا کے اس اعلان کے بعد ممکن ہو سکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سمیت وسیع تباہی کے تمام ہتھیار بنانے کا منصوبہ ترک کر رہا ہے۔ شلقم اپنے ہم منصب جیک سٹرا سے بھی ملاقات کریں گے۔ پچھلی تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ کے دوران یہ کسی لیبیائی وزیرخارجہ کا پہلا دورۂ برطانیہ ہے۔ برطانیہ دفتر خارجہ ان کے اس دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں سنگ میل قرار دے رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس دورے سے لیبیا کے بین الاقوامی دھارے میں شمولیت میں بھی مدد ملے گی۔ برطانیہ نے سن انیس سو ننانوے میں لیبیا سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔ اسی سال لیبیا نے سن اٹھاسی میں لاکربی بمباری کے ملزمان کو مقدمے کے لئے پیش کر دیا تھا۔ ادھر اٹلی کے وزیراعظم سلویو برلسکونی منگل کے روز لیبیا کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں وہ تیل کی دولت سے مالامال ملک کے سربراہ کرنل معمر قذافی سے ملاقات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||