BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 January, 2004, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیبیا کے پروگرام کے معائنہ پر بات
لیبیا کا جوہری پروگرام ابھی ابتدائی مراحل میں تھا
لیبیا کا جوہری پروگرام ابھی ابتدائی مراحل میں تھا

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی ای اے ای) کے سربراہ نے کہا ہے کہ لیبیا کے جوہری پروگرام کا معائنہ کرنا ان کے ادارے کا کام ہے، امریکہ یا برطانیہ کا نہیں۔

یہ بات انہوں نے پیر کے روز آسٹریا کے شہر ویانا میں اس ملاقات میں کی جو برطانوی اور امریکی حکام نے لیبیا کے جوہری پروگرام کے معائنہ کے بارے میں پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کے لئے کی تھی۔

بین الاقوامی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل محمد البرادعی نے اس ملاقات میں کہا کہ معائنے کا کام ان کے ادارے کو ہی کرنا ہوگا تاہم ادارے کو کچھ مدد کی ضرورت بھی ہوگی۔

محمد البرادعی کی پیر کو امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جون بولٹن اور ان کے برطانوی ہم منصب ولیم اہرمین سے ملاقات ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق شرکاء میں ذمہ داریوں کے تعین پر اتفاق ہو چکا ہے۔

دسمبر میں لیبیا کے جوہری پروگرام ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے آئی ای اے ای اور برطانوی اور امریکی حکام کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام کی معائنہ کاری کی ذمہ داری ان کے ماہرین کی ہے۔

ایجنسی کے ترجمان کے مطابق جوہری عدم پھلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے اس سلسلے میں بہت واضح ہیں اور ان کے تحت جوہری پروگرام کی معائنہ کاری کی ذمہ داری ا یجنسی کے معائنہ کاروں کی ہے۔

جب کہ برطانوی اور امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ کیوں کہ لیبیا کو اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے اور اپنی تنصیبات کو معائنہ کے لیے کھولنے پر انہوں نے رضامند کیا تھا اس لیے یہ ان کا حق ہے کہ وہ لیبیا کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کریں۔

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھلاؤ کے بین الاقوامی ادارے اور برطانوی اور امریکی حکام میں اس بات پر بھی اختلاف پایا جاتا کہ لیبیا جوہری ہتھیار بنانے کے کتنے قریب تھا یا وہ یہ ہتھیار بنانے کی کتنی صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔

آئی ای اے ای کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا کا پروگرام ابھی ابتدائی مراحل میں ہی تھا اور وہ جوہری ہتھیار بنانے سے بہت دور تھا۔

برطانوی اور امریکی خفیہ اداروں کے حکام نے لیبیا کے حکام کے درمیان گزشتہ سال طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدے طے پایا تھا جس کے تحت لیبیا نے اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت لیبیا نے اپنی جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے کھولنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔

واضح رہے کہ لیبیا اور پاکستانی سائنسدانوں کے درمیان جوہری توانائی کے شعبے میں مبینہ تعاون کے بارے میں بھی امریکی خفیہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد