| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا: وسیع تباہی کے ہتھیار ترک
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا کے رہنما کرنل قذافی نے انہیں بتایا ہے کہ لیبیا وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا تھا اور اس سلسلے میں منصوبہ بندی بھی کررہا تھا لیکن اب وہ اس منصوبے کو مکمل طور پر ترک کردے گا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے یہ بیان جمعہ کے روز دیا ہے۔ امریکی صدر بش اور ٹونی بلیئر نے کرنل قذافی کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ یہ فیصلہ جرات مندانہ اور تاریخی ہے۔ ڈرہم کیتھیڈرل میں بیان دیتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ کرنل قذافی نے انہیں بتایا ہے کہ وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کا منصوبہ ترک کرنے کاعمل شفاف اور واضح ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا کو صرف تین سو کلومیٹر پہنچ کے میزائل بنانے یا رکھنے کی اجازت ہوگی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بہت عرصے سے شک کرتے آئے ہیں کہ لیبیا خفیہ طور پر کیمیاوی اور جراثیمی ہتھیار بنانے کے پروگراموں پر عملدرآمد کررہا ہے۔ تاہم لیبیا نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اس کا موقف رہا ہے کہ لیبیا کے پاس صرف ادویات بنانے اور زرعی تحقیقات کرنے کی سہولیات ہیں۔ ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ برطانیہ گزشتہ نو ماہ سے لیبیا سے مذاکرات کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’لیبیا کے مذاکرات کا مارچ میں ہمارے پاس آئے تھے۔ یہ دورہ لاکربی کے معاملات طے کرنے کے بعد کیا گیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا معاملہ بھی اسی خوش اسلوبی سے طے پا جائے‘۔ ٹونی بلیئر نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے لیبیا اب عالمی برادری میں شامل ہوسکے گا۔ صدر بش نے وائٹ ہاؤس سے اس اعلان کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کرنل قذافی فوراً ہی غیر مشروط طور پر اسلحے کے معائنہ کاروں کے لیبیا آنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ صدر بش نے کہا ’کرنل قذافی نے اگر اپنا وعدہ پورا کیا تو اس سے ہمارا ملک اور تمام دنیا محفوظ اور پر امن ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا ’وہ رہنما جو جراثیمی اور کیمیاوی ہتھیاروں کے منصوبے ترک کردیتے ہیں ان کے لئے امریکہ اور دوسرے ممالک سے تعلقات استوار کرنے کے لئے راستہ کھلا ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||