BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2004, 23:44 GMT 04:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لیبیا پر پابندیاں برقرار رہیں گی‘
صدر قذافی

امریکہ نے کہا ہے کہ اگرچہ برطانیہ لیبیا کو بین الاقوامی سیاست کے دھارے میں واپس لانے کی کوشش کررہا ہے لیکن امریکہ کی جانب سے اس پر لگی ہوئی پابندیاں برقرار رہیں گی۔

ایک بیان میں بش انتطامیہ نے لیبیا کے گزشتہ مہینے کے اِس فیصلے کا خیر مقدم کیا کہ وہ اپنا جوہری مسالے کا ذخیرہ ضائع کردے گا اور جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے دیگا۔

لیکن بیان میں کہا گیا ہے کہ الفاظ کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ امریکہ نے 1986 میں لیبیا پر پابندیاں لگائ تھیں جن کی ہرسال تجدید کی جاتی ہے۔

اس سے پہلے برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے اعلان کیا تھا کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو ختم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں لیبیا کے وزیر خارجہ محمد عبدالرحمان شلقم کو برطانیہ آنے کی دعوت دی گئی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ لیبیا کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بحال ہو چکا ہے اور اسی بنیاد پر لیبیا نے پہلے دہشت گردی سے دوری اختیار کی ہے اور اب اپنے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے پروگرام کو ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ برطانیہ کے ذمہ داری ہے کہ وہ لیبیا کی بین الاقوامی برادری میں واپسی کو ممکن بنائے۔

بی بی سی سفارتی امور کے نامہ نگار بارنابی میسن کے مطابق یہ خبر کہ لیبیا اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں نو مہینے سے امریکہ اور برطانیہ سے مذاکرات کررہا تھا یکایک دسمبر کے مہینے میں منظر عام پر آئی تھی۔

برطانوی وزیر خارجہ جیک سّٹرا نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ لیبیا نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے جوہری ایندھن پیدا کرنےکا سلسلہ شروع کردیا تھا جس میں یورینیئم کی افزودگی بھی شامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ لیبیا نے ابھی تک جوہری ہتھیار نہیں بنایا ہے لیکن اس راہ پر چل پڑا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا کیمیاوی پروگرام پر بھی عمل کررہا تھا۔ جیک سّٹرا نے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ ایسے معاملات مذاکرات کے ذریعہ طے کرنے چاہئیں ، بشرطیکہ کوئی مذاکرات کرنے والا موجود ہو۔

جیک نے کہا کہ یہ معاہدہ لیبیا کے ساتھ امریکہ اور برطانیہ کے طویل المیعاد تعلق کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔

’میری دانست میں ہم نے باہمی اعتماد کی راہ و رسم استوار کرلی ہے جس کی بنا پر لیبیا نے پہلے دہشت گردی کو ترک کیا ہے اور اب وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تیاری کو۔‘

جیک سّٹرا نے کہا کہ لیبیا کے وزیر خارجہ محمد عبدالرحمان شلقم کی آئندہ تین چار ہفتے میں آمد اس عمل کے سلسلے میں ہوگی جو لیبیا کے ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ اس معاملے میں اس کو وہ مدد دینےکے لئے تیار ہیں جو ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی( آئی اے ای اے) اور کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کے دائرہ کار کے اندر ہوگی۔

تاہم اس بات کے آثار ہیں کہ آئی اے ای اے اور بش انتظامیہ کے درمیان اس وجہ سے اختلافات ہیں کہ امریکہ نے ایجنسی کے انسپکٹروں کو عراق سے دور رکھا ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اس کی راۓ پر تنقید کی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد