ہرجانہ امن کی قیمت ہے: لیبیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا کے وزیر اعظم شُکری محمد غانم نے کہا کہ لیبیا انگلینڈ میں لاکربی کے علاقے میں تباہ ہونے والے امریکی طیارے میں ہلاک ہونے والوں کے عزیزوں کو ہرجانہ دینے کے لئے صرف اس لئے راضٰی کیونکہ وہ امن چاہتا ہے۔ لیبیا کے صدر کرنل قذافی نےحالیہ عرصے میں اپنی ساکھ بہتر کرنے کے لئے ڈرامائی فیصلہ کئے ہیں جس کے دوران انہوں نے ہرجانے کی اہمیت کو کم کرنے کی بھی کوشش کی۔ لیبیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہرجانہ دینے کا فیصلہ لیبیا کی طرف سے اعتراف جرم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کی حکومت نے یہ فیصلہ پابندیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچنے اور امن کی خاطر کیا۔ یاد رہے کہ امریکی فضائی کمپنی پین ایم کی ایک فلائٹ انیس سو اٹھاسی میں لاکر بی کے مقام پر تباہ ہو گئی تھی۔ جہاز میں دو سو ستر مسافر سوار تھے۔ بی بی سی انٹرویو دیتے ہوئے شُکری محمد غانم نے کہا ملک کے صدر کرنل قذافی کی طرف سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے کے وعدے کا عراق پر امریکی حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیبیا کے وزیر اعظم نے لندن میں انیس سو چراسی میں اپنے سفارتخانے کے باہر تعینات برطانوی پولیس کی ایک اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مقتولہ پر سفارتخانے کے اندر سے گولی چلائی گئی۔ برطانیہ میں ہونے والی تفتیش کے مطابق پولیس اہلکار پر سفارتخانے کے اندر سے گولی چلائی گئی تھی۔ زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی حمایت کے بارے میں لیبیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہر معاملے میں مغرب کی پسند اور ناپسند کے مطابق فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رابرٹ موگابے کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||