لیبیا جانے کی پابندی ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نےلِیبیا کے خلاف تئیس سال تک مختلف قسم کی پابندیوں کے بعد تعلقات کی بہتری کے لئے اپنے شہریوں کو لیبیا جانے کی اجازت دے دی ہے۔ بہت سی تجارتی پابندیاں اپنی جگہ قائم رہیں گی لیکن اب امریکی کمپنیاں لیبیا واپس جا سکیں گی۔ امریکہ کا یہ فیصلہ لیبیا کی طرف سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے کا انعام ہے۔ اس سے قبل لیبیا کے وزیر اعظم شکری غانم کے اس بیان کے بعد کہ لیبیا نے امریکی جہاز کی تباہی کی ذمہ داری صرف پابندیاں ختم کروانے کے لئے قبول کی ہے امریکہ نے لیبیا سفر کرنے کی اجازت کو موخر کرنے کی بات کی تھی۔ بدھ کے روز لیبیا نے تصدیق کی تھی کہ وہ برطانیہ میں لاکربی کے مقام پر امریکی طیارے کی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنے کے فیصلے پر قائم ہے۔ جمعرات کے روز ایک پیش رفت میں لیبیا نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لِیبیا پر سے پابندیوں کے خاتمے کامقصد اس کی معیشت کو سہارا دینا اور اس کی بین الاقوامی برداری میں انضمام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں پابندیاں لگنے سے پہلے لیبیا میں کاروبار کر رہی تھیں اب واپس جا سکیں گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات کے بعد امریکی کمپنیوں کے لئے تیل کے ذخائر سے مالا مال لیبیا کے ساتھ قانونی طور پر کاروبار کرنے میں آسانی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||