ان سے طالبان اچھے! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئی ایک ماہ قبل ھانگ کانگ سے ایشین ہیومین رائٹس کمیشن نے ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے ایک گاؤں بابا کوٹ میں عمرانی قبیلے کی میٹرک اور انٹر میڈیٹ کی تین طالبات نے پسند کی شادی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق اس معاملے کی بھنک جب پیپلز پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی اور بلوچستان کے وزیرِ ہاؤسنگ و تعمیرات صادق عمرانی کے بھائی عبدالستار عمرانی کے کان میں پڑی تو ان تینوں لڑکیوں کو دو معمر خواتین کے ساتھ سرکاری نمبر پلیٹ کی لینڈ کروزر میں ڈالا گیا اور نواحی علاقے نو آبادی میں ایک ویران جگہ پر تینوں طالبات کو گولی ماری گئی اور انہیں قریباً چھ مسلح افراد نے شدید زخمی حالت میں گڑھے میں ڈال دیا۔شور مچانے پر دونوں معمر خواتین کو بھی اسی گڑھے میں ڈال دیا گیا اور پھر زمین پاٹ دی گئی۔ اس رپورٹ کے تناظر میں بی بی سی نے صوبائی وزیر صادق عمرانی سے وضاحت چاہی تو انہوں نے بتایا کہ تین خواتین کو ہلاک کرکے دفن کرنے کا واقعہ تو ان کے علم میں آیا ہے۔البتہ اس واقعے میں اپنے بھائی کو ملوث کرنے پر وہ ایشین ہیومین رائٹس کمیشن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ تاہم اس واقعہ کو ایک ماہ سے زائد گزر جانے کے باوجود نہ تو صادق عمرانی نے ہیومین رائٹس کمیشن کے خلاف چارہ جوئی کی ہے۔ نہ ہی اس واقعہ کی مقامی پولیس نے رپورٹ درج کی ہے۔ بس وفاقی مشیرِ داخلہ، وزیرِ اطلاعات اور سینیٹ میں قائدِ ایوان نے کہا ہے کہ اس معاملے کی چھان پھٹک کی جا رہی ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی اس معاملے پر مکمل طور سے خاموش ہے۔ حکمران اتحاد کی کسی جماعت نے اب تک ایک لفظ نہیں کہا اور نہ ہی مسلم لیگ نواز کو یہ معاملہ زیادہ سنجیدہ لگ رہا ہے۔ سینیٹ میں البتہ مسلم لیگ ق کی سینیٹر یاسمین شاہ اور کامل علی آغا نے اس واقعہ کو اٹھانے کی کوشش کی۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ وہ اس واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ عمرانی قبیلہ ان کے قبیلے کا ہمسایہ ہے۔البتہ بلوچستان کے ایک سینیٹر میر اسرار زہری نے کھل کر کہا کہ ایسی خواتین کو دفن کرنا بلوچ روایات کا حصہ ہے اور روایات سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ سینٹر جمال لغاری کا کہنا ہے کہ بلوچ معاشرے میں اس طرح کی کوئی روایت نہیں ہے۔ اس دوران میڈیا نے سینٹر اسرار زہری کے لتے لینے شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ پاکستان کی ہر بڑی جماعت میں اسرار زہری کی طرح سوچنے والے لوگ اچھی خاصی تعداد میں ہیں لیکن وہ اسرار زہری کی طرح صاف گو نہیں بلکہ اپنے خیالات کو منافقت کی چادر اوڑھا کر رکھتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ نو برس قبل جب ایک پختون لڑکی صائمہ سرور کو پسند کی شادی کے مسئلے پر دن دھاڑے انسانی حقوق کی سرکردہ کارکن حنا جیلانی کے لاہور دفتر میں قتل کیا گیا تو سینٹ کے سو میں سے صرف چار ارکان نے قرار دادِ مذمت کی حمایت کی۔ب اقی یا تو غیر حاضر رہے ، یا مخالفت کی یا واک آؤٹ کیا۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کا دم بھرنے والی جماعتوں کے کئی ارکانِ پارلیمان ایسے جرگوں کی صدارت بھی کرتے ہیں جہاں روایات سے انحراف کرنے والی عورتوں کی زندگی اور موت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ پچھلے کم ازکم چار عام انتخابات میں یہ تواتر کے ساتھ ہورھا ہے کہ کئی علاقوں میں سیکولر اور مذہبی جماعتیں مقامی طور پر گٹھ جوڑ کر کے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکتی ہیں۔اس بنیاد پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آج تک کوئی انتخابی نتیجہ منسوخ نہیں کیا۔ ان سب سے اچھے تو طالبان ہیں جو یہی سب کام کم از کم صدقِ دل سے ببانگ دہل تو کر رہے ہیں ! |
اسی بارے میں اپنا اپنا پاکستان !17 August, 2008 | قلم اور کالم جنازے میں آئیں نا !03 August, 2008 | قلم اور کالم زرداری کی چھ گیندیں27 April, 2008 | قلم اور کالم بلی خود گھنٹی باندھے!25 May, 2008 | قلم اور کالم یادِ مسلسل کیسے ہو !22 June, 2008 | قلم اور کالم بدنیتی کو تین طلاق !13 July, 2008 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||