’کسی احتجاج کا غم نہ کر میرے بادشاہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس اختتام ہفتہ پر ایک ہوٹل کے اندر حسین حقانی کا نرم اور گرم لہجہ اور باہر انکے خلاف احتجاج تھا، اور دن کو پاکستان میں معزول ججوں اور وکلاء کی تحریک کی یکجہتی میں نیویارک کی سڑکوں پر ’جوڈیشل بس-‘ ’آگئي ساڈی بس مشرف نس مشرف نس مشرف‘ کا نعرہ نیویارک کے مقامی پاکستانی شاعر بشیر کھوکھر کی مشہور نظم ’ نس مشرف نس‘ میں ایک نیا اضافہ تھا- بشیر کھوکھر بھی، جنہیں میں نیویارک میں لٹل پاکستان کہلانے والے پاکستانیوں کے علاقے کونی آئیلینڈ ایوینیو کا حبیب حالب کہتا ہوں، اسی بس پر سوار تھے۔ بیشر کھوکھر، جو شہر میں ہر حکومت مخالف ریلی میں شریک ہوتے ہیں، مجھے بتا رہے تھے کہ وہ اصل میں پاکستان میں پنجابی زبان کے فلمی شاعر تھے جب لاہور میں فلم انڈسٹری کا دور دورہ تھا- کونسی فلموں کے گانے لکھے آّپ نے؟ میں نے بشیر کھوکھر سے پوچھا- ’بشیرا فلم دیکھی تھی تم نے۔ بشیرا سمیت کئي فلموں کے گانے میں نے لکھے تھے-‘ ’میں ٹوٹے کردیاں گي‘ جیسا گانا بھی بشیر کھوکھر نے لکھا تھا- ضیاءا لحق کا دور آیا اور پاکستان میں فلم انڈسٹری کا بھی زوال شروع ہوگیا- بشیر کھوکھر پنجابی فلمی شاعری سے سیاسی شاعری کرنے لگے اور پھر جب، بیشر کھوکھر کہتے ہیں، ضیاءالحق کی ایجنسیوں کے کارندے انکے پیچھے بھنبھنانے لگے تو وہ کسی بہانے چپکے سے امریکہ نکل آئے۔
اٹھائیس برس ہوگۓ لیکن اس شاعر نے اپنا وطن نہیں دیکھا- لیکن وطن کے روز و شب سے کس طرح جڑا ہوا ہے- ’ظالم تیری ایمرجنسی قوم کو نا منظور ہے‘ بیشر کھوکھر کی مشہور نظم ہے جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی سے لیکر آجتک نیویارک میں پاکستانیوں کے احتجاجی اجتماعات میں بڑي مقبول بنی ہوئی ہے- سنیمہ گھروں سے تو کب کی اتر چکی لیکن ’بشیرا اور مولا جٹ‘ جیسی فلمیں پاکستان میں لوگوں کے ذہنوں سے نہیں اترتیں- ایسی ہی ایک اور فلم کے ڈائریکٹر اور نغمہ نگار آغا رفیق بھی ہیں جنہوں نے فلم ’وحشی جٹ ‘ بنائی اور اسکے ’ہوشربا‘ گانے بھی خود ہی لکھے تھے- کچھ دن ہوئے کہ آغا رفیق مجھے بتا رہے تھے کےکس طرح وہ پہلے مسرت شاہین اور پھر انکی جگہ عشرت چودھری کے ڈانسز پر مبنی فلم ’وحشی جٹ‘ کو نسیم حجازی جیسے ناول نگار کے سنسر بورڈ کے چئرمین ہوتے ہوئے بھی سنسر سے پاس کروانے میں کامیاب ہوگۓ تھے- لیکن پھر لاہور کی فلم انڈسٹری کے ’پہلوانوں‘ میں سے ایک نے، بقول آغا رفیق، انکے دفتر پر قبضہ کیا اور انہوں نے پھر فلمیں بنانے سے کنارہ کشی کرلی- آغا رفیق پنجابی کے بہت اچھے شاعر ہیں اور ’تنخواہ ملی جے‘ انکی مشہور مزاحیہ نظم ہے - بس یارا! ’وقت کہے میں بادشاہ‘ نسیم حجازی کے ناولوں کا طعنہ اب حسین حقانی اور ’جیو‘ کے ڈاکٹر شاہد مسعود کو دیتے ہیں- سندھی میں کہتے ہیں ’بھینس کہہ رہی تھی گائے سے ’چل ری دم کالی-‘ لیکن نیویارک میں پاکستانی ايڈووکیٹس فار ہیومن رائٹس کی ’جوڈیشل بس ‘ میں شاعر حسن عباس رضا بس پر اپنی غزل سنا رہے تھے: کسی احتجاج کا غم نہ کر میرے بادشاہ اگرچہ امریکہ میں تانگہ پارٹی کا کوئي مذاق یا سوال نہیں ہے پر گزشتہ دن پاکستانی ایڈووکیٹس فار ہیومن رائیٹس کی اس منی بس ٹائپ جوڈیشل بس، جسے اسے منظم کرنے والے رانا رمضان ’کاروان انقلاب دستور‘ قرارد دے رہے تھے پر ’سیٹ بائي سیٹ‘ سوار ہونے والوں کا حوالہ کوانٹٹی سے زیادہ کوالٹی کا تھا۔
ساتھ ہی پاکستان مسلم ليگ نون کے مقامی لیڈر اور کارکن بھی تھے تو کچھ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن بھی سوار تھے- ’جوڈیشل بس‘ کے منتظم رانا رمضان مجھے بتا رہے تھے کہ انہوں نے اپنی تنظیم پہلے ایڈووکیٹس فار سول رائیٹس کے نام سے امریکی سول لبرٹیز یونین کے ساتھ میں دو ہزار ایک میں پاکستانیوں کو انکے شہری اور بنیادی حقوق یا امیگریشن مسائل کے حل کےلیے قائم کئي تھی جو کہ دو ہزار سات سے پاکستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی اور اسکے بعد ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف پاکستانی امریکیوں اور امریکی وکلاء کے ساتھ پاکستانی ایڈووکیٹس فار ہیومن رائٹس کے نام پر سرگرم ہے۔ جوڈیشل بس کے شرکاء نے اقوام متحدہ اور پاکستان قونصلیٹ کے سامنے بھی مظاہرے کیے۔ پاکستان قونصلیٹ کے سامنے پاکستانی فوج اور آصف زرداری کیخلاف ایک شریک کار بوبی خان اور انکے ساتھیوں کے نعروں پر جوڈیشل بس کے کئي شرکاء نے اعتراضات کیے۔ ’زرداری کا جو یار ہے غدار ہے‘ اور حکومت پاکستان اور پاکستانی فوج پر تبرے نما نعرے تھے۔ بس میں پاکستانی فوج کے سابق کمانڈو اور اب پاکستان پپیلز پارٹی کے پرانے کارکن چيمہ صاحب بھی سوار تھے۔ انہوں نے پینسٹھ کی جنگ لڑی اور اب اتنے سالوں بعد وہ پاکستان اور بھٹو کے سپاہی جمہوریت اور ججوں کی بحالی کے نام پر بس پر سوار تھے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی بجلی کی طرح آتی جاتی رہتی ہے۔ یہ بات اس رات نیویارک میں پاکستانیوں کی ایک تنظیم یو ایس لیگ آف امریکہ کے ’جشن جمہوریت‘ کی تقریب میں اسی تنظیم کے منور سندھو کہہ رہے تھے۔اس تقریب میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی مہمان خصوصی تھے۔ لیکن اس ہوٹل کے باہر نیویارک میں پاکستانی چاہے وہ امریکی احتجاجی لینڈ اسکیپ کے مستقل فیچر شاہد کامریڈ اور انکی تنظیم پاکستان یو ایس فریڈم فورم کے ڈاکٹر شفیق، سفیر حسین حقانی اور پاکستان میں قبائلی علاقوں میں امریکی فوجوں کے مبینہ حملے میں ہلاک ہونیوالے گیارہ پاکستانی قوجیوں کی ہلاکت کیخلاف احتجاج کررہے تھے۔ انہوں نے جو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے والا بینر اٹھا رکھا تھا اس پر تحریر تھا: نئے سفیر نے اپنا غصہ پاکستانی صحافیوں پر اتارا جب انہوں نے ان سے پاکستانی فوجوں کی تازہ ہلاکتوں کے بارے میں تیز و تند سوالات کیے۔ ایک صحافی کے اس سوال پر کہ ’ کیا پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم فقط مہمند ایجینسی کے حالیہ واقعے کی تحقیقات کرے گی یا اس سے پہلے والے حملوں کی بھی!‘ سفیر حقانی صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے اس صحافی کے سوال کے جواب میں باڈی لینگوئيج استعمال کرتے ہوئے صحافی کی آنکھوں میں گھورتے اور مسکراتے رہے اور اسے ہی انکا جواب سمجھا گیا! ایک اور سوال پر سفیر موصوف خاصے برہم ہوئے۔ انہوں نے کہا ’صحافی لکھے ہیں لیکن پڑھے نہیں۔ میرے اندر کا پروفیسر زندہ ہوچکا ہے اور میں صحافیوں کو پڑھاؤں گا۔‘ اور یہ بھی کہ ’مجھے کم از کم تین سفیروں نے کہا کہ ’اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو پاکستانی صحافیوں سے دور رہنا۔‘ فریقین نے ایک دوسرے سے ’بدتمیزی‘ کے شکوے بھی کیے۔ سندھی میں کہتے ہیں شکم سیری یا بھینس برداشت کرسکتی ہے یا پھر بنیا۔ اس سے قبل تقریب سے اپنے خطاب میں بھی سفیر موصوف ’پاکستانی سیاست میں نرم لہجے کے کلچر کی ضرورت پر لیکچر دیتے رہے تھے- منیر نیازی، افتخار عارف اور فیض احمد فیض کے شعروں سے بھرپور لیکن انکے لفظوں کی ساحری کا فسوں اور بھرم اسوقت ٹوٹا جب انکے اور صحافیوں کے درمیاں لفظوں کی ’دانت کاٹ‘ شروع ہوئی- ’صحافی کا کام سوال کرنا ہے اور اسے جواب مل جائے تو سوال ختم لیکن کچھ لوگ ہیں جو اپنے ایجنڈے یا تحریک کو لیکر آگے بڑھتے ہیں۔ ’ انہوں نے اس صحافی کے سوال کے جواب میں کہا جنہوں نے ان سے ’پاکستانی فوجیوں کی لاشوں کی قیمت‘ لگانے والا تبصرہ نما سوال کیا۔ انکی نرمی و گرمیء گفتار کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے، بقول میرے ایک لکھاری دوست کے، کوئی قراۃ العین حیدر کا ناول پڑھتے پڑھتے ماریو پیوزو کا ناول پڑھنے لگا ہو- |
اسی بارے میں زرداری،مشرف مشینری،مفاہمت27 February, 2008 | قلم اور کالم خواب لے لو خواب۔۔۔۔01 April, 2008 | قلم اور کالم ہندسوں کی شاعری اور غیرملکی دورے15 April, 2008 | قلم اور کالم بینظیر قتل کی تحقیقات سے کیا ہو گا؟31 May, 2008 | قلم اور کالم جو ’رامچند پاکستانی‘ میں نہیں04 May, 2008 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||