بینظیر قتل کی تحقیقات سے کیا ہو گا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک کے سب سے بڑے ٹرین سٹیشن گرینڈ سینٹرل پر اترا تو ہزاروں کی بھیڑ کے وقت بھی ٹرنسٹائیل کے ساتھ ہی کونے پر مغرب رخ ایک باریش بابا فرش پر رنگین جائے نماز بچھا کر نماز پڑھ رہا تھا۔ ’کون کہتاہے امریکہ میں مسلمان کے ساتھ ظلم ہورہا ہے!‘ میں نے خود سے کہا۔ گرینڈ سینٹرل کے باہر مصروف ترین فارٹی سیکنڈ سٹریٹ پر لوگ اتنی تیزی سے چل رہتے تھے جیسے فلم، ٹی وی یا کمپیوٹر سکرین پر فاسٹ موشن میں چلتے دکھائے جاتے ہیں۔ ایسا لگتا نیلی چھتری والے کے ہاتھ میں کوئي ریموٹ ہے جس سے اس نے بارش یا سورج کی تپش کا بٹن دبایا اور نیچے فاسٹ موشن میں چلتے لوگوں نے تلواروں کی طرح چھتریاں نکال لیں اور زندگی کا رن جاری اور ساری رہا۔چلتا رہا۔ ’کس رن کی آمد ہے کہ شیر کانپ رہا ہے‘، پاکستان میں شاید ستائيس دسمبر دو ہزار سات سے پہلے کا منظر نامہ کچھ یونہی ہوگا۔ کسی سیانے نے کہا تھا ’آج کا آدمی نہ جانے کیوں ہر کام جلدی سے کرنے کی بازی میں ہے سوائے سیکس کے جو وہ آہستہ اہستہ کرنا چاہتا ہے۔‘ فورٹی سیکنڈ سٹریٹ جیسے مینہیٹن کے علاقوں میں چلتے چلتے آدمی کو لگتا ہے کہ وہ شاید ’سیکس اینڈ سٹی‘ جیسی فلم کے اندر چل رہا ہو۔ فورٹی سیکنڈ ایسٹ پر فاسٹ موشن میں چلتے چلتے آخری نکڑ پر جب آپ فرسٹ ایونیو پر آتے ہیں آپ کے سامنے ایک ایسی عمارت آتی ہے جس کے اوپر کئی ممالک کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں۔ اس ساکت سی بے حس سی دو حرفی عمارت ’یو این‘ کے باہر سلو موشن میں قتل ہوتی ہوئی، خون بہاتی ہوئی دنیا ہے۔ درافور کی قتل گاہوں سے لے کر نہ جانے کہاں کہاں تک انسانی کھوپڑیوں کے مینار ہیں، کمبوڈیا سے لے کرقندھار تک اجتماعی قبریں ہیں۔ ٹارچر، ریپ اور گمشدگیاں ہیں، بھوک، افلاس اور ایڈز ہے۔ اور یو این کے اندر بڑی ٹھنڈی اور گرم دنیا ہے۔ بحث مباحثے ہیں۔ اتنی ہی قراردایں اور ان کے مردہ سرد تاریک یا دلفریب الفاظ ہیں جنتے جنگوں، قتل عاموں، نسل کشیوں میں مرتے گھائل ہوتے انسان۔ میں جب بھی ’یو این‘ کی عمارت کے سامنے سے گزرتا ہوں تو مجھے پتہ نہیں کیوں شیخ ایاز کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے: ’اے زمانوں کے ضمیر کیسی منزل مقصود ہے۔‘ یہیں بھٹو نے اسی سلامتی کاؤنسل میں پولینڈ کی طرف سے پاکستان، بھارت جنگ بندی والی قرارداد کا مسودہ پھاڑ کر پھینک دیا تھا جہاں ابھی کل ہی مشرق وسطی میں امن پر اجلاس ختم ہوا ہے۔ لیکن یہ صرف اقوام متحدہ میں ہی ممکن ہے جہاں ڈیلیگیٹس لابی میں ایک ہی میز پر اسرائیلی اور عرب صحافی ساتھ بیٹھے نظر آئيں گے۔ بھانت بھانت کی بولیوں اور دنیا میں درخت درخت کی لکڑی، پھولوں اور لہجوں جیسے لوگ۔ ’لبنانی فوج کو غیر مسلح کردو، مشرق وسطی میں امن قائم ہو جائیگا کیونکہ لبنانی فوج کو مسلح کرنے والا شام ہی ہے‘، اسرائیلی صحافی عرب صحافی سے کہہ رہا تھا۔ یہاں پاکستانی صحافی عرب صحافیوں سے زیادہ فلسطینی ہیں۔
’ہم نے بچپن سے الاہرام کا نام سنا تھا- اور حسنین ہیکل کا بھی،‘ میں نے الاہرام کے صحافی سے کہا۔ ’اور تمہارے نجیب محفوظ کے تو ہم لکھنے والے عاشق ہیں۔ پھر اس نے کہا اردن کے ایک شہر کی مسجد میں لوگوں نے اس امام کی پٹائي کردی جو اپنے وعظ میں اسرائیل کی حمایت کررہا تھا۔ ’یہ جو بڑا قالین دیوار پر سجا ہے یہ ایران نے تحفہ دیا تھا کئي سال پہلے،‘ میرے صحافی دوست نے مجھے بتایا- اگر وہ نہ بتاتے تومیں سمجھا تھا یہ عظیم الشان اجرک تھا کیونکہ اسکی ڈیزائين بلکل نیلے اچرک سے ملتی جلتی ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے بھاشن اور تقریریں پاکستان میں ہوں تو ہوں لیکن اقوام متحدہ میں ابتک ’ککڑوں کوں‘ لگي ہوئی ہے‘، یعنی اس کا کوئی ذکر کہیں بھی نہیں۔ سندھی میں ککڑوں کوں یعنی مرغے کی ’اذان‘ کو خاموشی یا ویرانی سے تعبیر کیا جاتا ہے سوائے اس کی صبح صادق سے پہلے والی آذان کے۔ پتہ نہیں مرغوں کی آوازوں کو اذان کیوں کہا گیا ہے۔ ’کیا ہوگا کچھ بھی نہیں۔ چالیس پچـاس ملین ڈالر خرچ ہونگے اور کچھ بھی نہیں ہوگا۔ حریری کے قتل کی تحقیقات کا کیا ہوا؟‘ اقوم متحدہ کو برسوں سے کور کرنے والے ایک صحافی نے کہا۔ ’اصل مسئلہ تو پاکستان کا آٹا، مہنگائي اور بیروزگاری ہے،‘ اس نے کہا۔ لیکن ان کی (پاکستانی نئے حکمرانوں کی) بھی تو گھریلو مجبوری ہے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کروانا۔ خوراک کا مسئلہ تو پوری دنیا میں ہے۔‘ ایک پاکستانی سفارتکار نے قدرے نوکرشاہی والی لاپرواہی میں کہا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آصف زرداری کے وکیل وزیر قانون فارق نائیک آنیوالے دنوں میں اقوام متحدہ میں آ کر بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کی باقاعدہ درخواست کی پیروی کرنے آئيں گے۔ خوراک کے عالمی بحران پر اقوام عالم کی جنرل اسبملی میں اعلٰی دماغ سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے دنیا میں خوراک کے بحران سے نمٹنے کیلیے 250 ملین ڈالر دیے ہیں جن کو ’شکرن‘ کہنے کیلیے سیکرٹری جنرل بان کی مون سعودی عرب جارہے ہیں۔ یو این ڈیلیگیٹس لابی میں ایک ٹیبل پرسرخ مارلبورو سگریٹ کے دھویں اور ننھے سے کپوں میں کپیچینو کی خوشبو میں عرب صحافیوں میں ’ٹربل میکر‘ سمجھا جانے والا الجزیرہ کا خالد بھی بیٹھا ہے جس کے سوال کا جواب دینے سے دنیا کے اتنے بڑے فورم یعنی یو این کے سیکرٹری جنرل بھی قاصر تھے۔ حال ہی میں ادارے ’سیو دی چلڈرین فنڈ‘ کی طرف سے جنوبی سوڈان، ہیٹی اور آئیوری کوسٹ میں متعین اقوام متحدہ کی امن فوج کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں کی رپورٹ کے حوالے سے یو این میں جب الجزیرہ کے صحافی خالد نے سیکرٹری جنرل سے پوچھا: ’عراقی بچوں کیساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آپ کیا کہتے ہیں؟‘ تو سیکرٹری جنرل کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ’جب یو این کے سکرٹری جنرل کے پاس کسی سوال کا جواب نہ ہو تو پھر دنیا میں بات ختم ہے‘، ایک پاکستانی صحافی نے کہا جنہوں نے سلامتی کاؤنسل میں بھٹو کے کاغذ پھاڑ کر پھینک کر واک آؤٹ کرنے کو بھی کور کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||