ہندسوں کی شاعری اور غیرملکی دورے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارے جیسے دیسوں کے حکمران جب غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں تو اپنے ساتھ اڑتے ہوئے محلات اور چلتے پھرتے درباریں لے جاتے ہیں۔ حالانکہ کچھ غیر ملکی دوروں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی جبکہ ایسے مواقع تو آجکے دور میں ایک فیکس یا ای میل کی مار ہونے چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف (جنہیں اب غالباً مخلوطیوں یا کولیشن پارٹنرز، نے صدر مان ہی لیا ہے) بمعہ پی پی پی کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہِ چین، اور نو تشکیل شدہ مخلوط حکومت کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے امریکی دورے کے وفود کے سائز اور انکے قومی خزانے سے اخراجات کے بلز کیا ہیں، لیکن ہر وزیر خزانہ کے پاس اپنے پیشرؤوں سے لی ہوئی ایک ہی تقریر کی ری سائیکلڈ کاپی ہوتی ہے جسے وہ ’ہز ماسٹرس وائس‘ والے گراموفون پر پرانے توا ریکارڈ کیطرح بجاتے رہتے ہیں۔ ایوب خان حکومت کے اقتصادی دماغ محمد شعیب سے لیکر شوکت عزیز تک سب ہی ایک ہی قسم کا راگ الاپتے رہے ہیں۔ حقیقت میں ملک کی درگت وزرائے خزانہ نے بنائي ہے۔ غلام محمد سے لیکر غلام اسحاق خان تک سبھی وزیرخزانہ تھے۔ ملک جلتا رہا وزرائے خزانہ ہندسوں کی شاعری اور غیر ملکی دورے فرماتے رہے۔ شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دنوں میں انکی دعوت پر لاڑکانہ آئے تھے۔ شہنشاہ ایران کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے موقع پر سندھ میں تب کے وزیر بلدیات جام صادق علی نے اپنے سر پر بڑی مہارت سے شراب کا جام رکھ کر اس طرح رقص کیا تھا کہ انکے سر پر رکھے ہوئے جام سے دوران رقص نہ ہی ایک قطرہ بھی شراب کا اور نہ ہی جام گرا تھا۔ شہنشاہ ایران نے جام کی یہ پرفارمنس اور پروٹوکول دیکھ کر ازراہِ تفنن بھٹو سے کہا تھا کہ وہ اپنے اس وزیر کو انہیں مستعار دے دیں کہ وہ انہیں ایران کا وزیر خزانہ بنائيں گے۔
نہیں معلوم کہ شہنشاہ ایران جام صادق علی کو وزیر خزانہ بنانے پر الفنسٹن اسٹریٹ پر آتے یا نہ لیکن پاکستان کی اقتصادی پالییسیوں نے غریب عوام کو ایلفی کا بھکاری بنادیا۔ پرانے زمانوں کی ایلفی عرف ایلفنسٹن جو اب بہت دنوں سے زیب النساء اسٹریٹ بنا دی گئی ہے کی عقب میں ڈیلی ویجز راج مزدور اور کئي بیروزگار حکومت آئے یا جائے لیکن سورج طلوع ہوتے ہی روزی روٹی کی تلاش میں آ بیٹھتے ہیں اور سورج ڈھلتے ہی واپس ہاتھوں خالی گھر واپس جاتے ہیں۔ پاکستان کی غربت میں بھٹو زرداری، شریف اور انکی کمپنیوں فوج، اور چودھریوں سمیت انکے اتحادیوں کی بہت عظیم کنٹری بیوشنز ہیں۔ ’خدا کے فضل سے وہی وزارت، وہی آفس اور وہی عملہ مجھے پھر واپس ملے ہیں‘،امریکہ کا دورہ کرنے والے وزیر خزانہ اسحاق ڈار گزشتہ رات منی پاکستان کہلانے والے کونی آئيلینڈ ایوینیو بروکلین میں انکے اعزاز میں مسلم لیگ نون نیویارک کے دیے گۓ عشائیے میں تقریر کے دوران کہہ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بہت معمولی ردودو بدل کیساتھ وہی پالسیاں بھی جاری رہیں گی۔ کشکول توڑ دینے کی بات کرنیوالے مسلم لیگ نوازشریف کے پارٹی رہنما اور وزیر خزانہ انٹرنیشنل مانٹری فنڈ یا عالمی مالیاتی ادارے (آئي ایم ایف) کے عالمی اجلاس میں شرکت کرنے آئے ہیں۔ نیوکلیئر بم کا ساتواں دھماکہ کرنے کے دنوں میں حکومت نے جو قوم کو گھاس کھلائی تھی وہ پاکستان کے غریب لوگ آج تک کھارہے ہیں۔ لیکن اسحاق ڈار فخر سے بتا رہے تھے امریکہ کی بہت بڑی معاشی اور اقتصادی مراعات کی پیشکش کے باوجود انکی حکومت نے دھماکہ کیا (آٹھواں دھماکہ نون والے کالا باغ ڈیم کی مجوزہ تعمیر کو کہتے تھے) اور کشکول بھی توڑ دیا تھا!
اور اس سے قبل جب پی پی پی کی حکومت تھی تو میاں شریف کو بھی جیل کی ہوا کھاني پڑی تھی۔ اور اب قبرستانی ڈپلومیسی اور قومی مفاہمتی آرڈیننس کے کرامات کے تحت ایک نئي بیلینس شیٹ بنائي جا رہی ہے۔ نئے وزیر خزانہ اسحاق سیاسی مخالفین کیخلاف نواز شریف کی سابقہ حکومت میں داخل کیے گئے کیسوں پر قومی خزانے سے ہونے والے اخراجات سے متعلق سوال کا جواب دینے سے نہ فقط قاصر تھے بلکہ وہ ایسا سوال پوچھنے پر خاصے برہم بھی ہوئے۔ سیف الرحمان اور مسلم لیگ نواز اور پی پی پی قیادت نے ایک دوسرے سے معافیاں مانگ لیں لیکن کیا پاکستان مسلم لیگ نواز پاکستان کے عوام سے بھی معافی مانگے گی جس کے ٹیکسوں کو انہوں نے سیاسی انتقام پر بے رحمی سے خرچ کردیا۔ اس سوال پر اسحاق ڈار کو اعتراض تھا اور انہوں نے کہا۔ ’نہیں ہم کو ئي بھی معافی نہیں مانگيں گے۔ ہماری حکومت نے جو بھی کیا قانون کے مطابق کیا۔ ان سے پوچھیں جنہوں نے معافی دی اور مقدمات واپس کیے۔ ہماری پارٹی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔‘ دفاعی بجٹ کوپارلیمان میں زیر بحث لانے کی بات کرنے والے اب اس میں کٹوتی کے متعلق سوال پر بھی کافی حساس لگے۔ آپ پاکستانی ہیں اور ایسے سوالات پوچھتے وقت آپکو خبردار رہنا چاہیے۔ وہ خفا تھے کہ، بقول انکے، ’بی بی سی والے بس یہ ایک ہی سوال کیوں پوچھتے ہیں۔‘ وہ دن بھی دور نہیں جب حکمران پارٹیوں کے لوگ عوام سے کہیں گے ووٹ بھی تم نے بھٹو اور بینظیر یا معزول ججوں کو دیئے ہیں جاؤ جاکر آٹا اور بجلی بھی انہی سے مانگو۔ یوسف رضا گیلانی کی حکومت انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ اعجاز شاہ کو معافی دینے پر تو غور کرسکتی ہے لیکن ملتان کے عوام کو بجلی مانگنے پر لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’اسکا مطلب بی بی کا خون ایسے ہی رائیگان گیا‘، مسلم لیگ نواز والوں کی اس تقریب میں شریک ایک پی پی پی جیالا دوسرے سے کہہ رہا تھا۔۔۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||