BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 December, 2006, 13:45 GMT 18:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گدھا اور گاجر

انسان اور گدھا
ڈھائی ہزار سال پہلے لکھے گئے خط کا متن آج کے دور کا بھی عکاس ہے۔
آج سال دو ہزار چھ کا آخری دن ہے۔میں نےخود کو اپنے کمرے میں قید کر رکھا ہے۔صبح سے میر کا یہ شعر تیر کی طرح میرے سر میں پیوست ہے۔
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا۔

شاید مفروضہ ہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ Reality بھی دراصلvirtual reality ہے سائنس کی عمارت جس صفر پر کھڑی ہوئی ہے وہ تک مفروضہ ہے۔

ہم سب روزانہ مفروضے خریدتے ہیں اور مفروضے بیچتے ہیں اور مفروضوں کی اس تجارت نے ہی شاید ہمیں مکمل پاگل ہونے سے بچا رکھا ہے۔

آنے والا کل یقیناً آج سے بہتر ہوگا۔سیاہ رات کے بعد سورج نکلتا ہے۔صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔سانچ کو آنچ نہیں۔بے بس کی مدد غیب سے ہوتی ہے۔جیسا بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

اس طرح کے ہزاروں مفروضے ہیں جو ہمیں کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں اور زندگی کی تکالیف میں کمی کے لیے نفسیاتی گاؤ تکیہ بن جاتے ہیں۔

آئیے میں آپ کو ایک خط سناتا ہوں۔

’ پیارے بیٹے
مجھے اس بات کی بےحد خوشی ہے کہ تمہارا یہاں سے کوچ کرنا تمہارے کام آیا اور بالاخر تم طائر میں ایک جہازی کی نوکری ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے۔ تمہارے بعد یہاں کا حال اور ابتر ہوگیا ہے۔رومنوں کی زیادتیاں بڑھ گئی ہیں۔

ہمارے ہی لوگ ان کے لیے ہماری مخبری کرتے ہیں۔اس کےعوض رومن حاکم نے انہیں لوٹ مار کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ان کے بچے عورتوں پر آوازے کستے ہیں۔ شرفا کا نکلنا محال ہوگیا ہے۔ پروہت صرف صبر اور دعا کی تلقین کرتا ہے۔ اشیائے خوردو نوش اور کپڑا دستیاب ہے لیکن خریدار بےحال ہے۔میرا کاروبار بھی چوپٹ ہے۔میری مانو تو اب وہیں بسنے کی سوچو اور کسی شریف آدمی کے ہاں رشتہ طے کرلو۔بس خبر کردینا ہم خوش ہوجائیں گے۔تمہاری والدہ خیریت سے ہیں۔اپنی صحت سے غافل نہ رہنا اور ہماری فکر مت کرنا۔‘

یہ خط اب سے تقریباً ڈھائی ہزار برس پہلے یروشلم کے نواح میں رہنے والے ایک باپ نے اپنے بیٹے کو لکھا تھا۔

کیا ان ڈھائی ہزار برس کے دوران ہمارے حالات یا توقعات میں کوئی بنیادی تبدیلی آئی۔

کیا میں وہ گدھا نہیں ہوں جس کے سرپر ایک ڈنڈا باندھ دیا گیا ہے اور ڈنڈے کے سرے پرگدھے کے منہ سے دو انچ پرے تابناک مستقبل کی وہ گاجر لٹکا دی گئی ہے کہ جسے پانے کی آرزو میں گدھا مسلسل چلے چلا جا رھا ہےاور گاجر اور منہ کا فاصلہ کم ہو کے ہی نہیں دے رھا۔

ہم سب کو ایک اور پرتوقع سال مبارک ہو۔

لگڑبھگا نہیں چھوڑتا
سینکڑوں لوگوں کو منہ میں دبا کر لے جا رہا ہے
ابھی انتظار میں
غلام، تارکینِ وطن، مغویان اور اقلیتیں
اسی بارے میں
کب دستخط فرمائیےگا۔۔۔
03 December, 2006 | قلم اور کالم
’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘
19 November, 2006 | قلم اور کالم
مچھلی پکڑنا سکھا دو
15 October, 2006 | قلم اور کالم
کہاں چلے گئے
08 October, 2006 | قلم اور کالم
سرکاری خود داری
24 September, 2006 | قلم اور کالم
امریکہ اور شیر
22 October, 2006 | قلم اور کالم
’پہلے مرنا چاہیے تھا‘
05 November, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد