BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 July, 2006, 06:19 GMT 11:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پرے ہٹو یار، بیروت ہماری بہن ہے‘

بیروت
بیروت کی تباہ حال عمارتوں سے اٹھتا دھواں
بیروت نہ صرف امریکہ کے شہر لاس اینجلس کا ’سسٹر سٹی‘ یا ’بہن شہر‘ ہے بلکہ جب وہاں اسرائیلی حملہ ہوا تو لاس اینجلس سٹی کے کچھ نمائندے بیروت کو ’بہن شہر‘ قرار دینے کے جشن کی تقریبات منانے کے سلسلے میں وہاں موجود بھی تھے۔

لاس اینجلس کے سٹی ہال کی دیواروں پر بیروت کا نام اب بھی دنیا کے ان تئيس شہروں کی فہرست میں شامل ہے جنہیں لاس اینجلس سٹی نے ’سسٹر سسٹیز‘ قرار دیا ہوا ہے-

بیروت اور اسرائيل کے شہر ایلات کے علاوہ دنیا کے ان شہروں میں جرمنی کا شہر برلن، فرانس کا شہر باغدو، کینیڈا کا شہر وینکوور، نیوزی لینڈ کا آک لینڈ، میکسیکو کا نیو میکسیکو، انڈونیشیا کا جکارتہ، کروشیا کا اسپلٹ،اور زیمبیا کا لوساکا بھی شامل ہیں۔

اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ کے مطابق لبنان میں جنگ شروع ہونے سے دو روز قبل سٹی کونسل کے صدر ایرک گارسیتی اور ان کی گرل فرینڈ ایمی ویکلینڈ، کونسل مین ڈینس زائين اور بیورو آف انجینئرنگ کے گس مالکاؤنس بمعہ اہل خانہ بیروت میں اس کی لاس اینجلس شہر کی بہن بننے کے جشن منانے کے لیئے موجود تھے۔ ایرک گارستی اور ڈینس زائين جنگ چھڑنے سے محض دو روز قبل بیروت چھوڑ چکے تھے، جبکہ ان کی گرل فرینڈ ایمی ویکلینڈ کا جہاز ٹیک آف کر کے فضا میں ہی تھا جب بیروت ائيرپورٹ پر اسرائيلی طیاروں نے حملہ کیا۔

 لاس اینجلس کے سٹی ہال کی دیواروں پر بیروت کا نام اب بھی دنیا کے ان تئيس شہروں کی فہرست میں شامل ہے جنہیں لاس اینجلس سٹی نے ’سسٹر سسٹیز‘ قرار دیا ہوا ہے-

اس ضمن میں بات کرنے کے لیئے لاس اینجلس سٹی میں کونسل رکن ایرک گارسیتی کے دفتر سے متعدد بار ٹیلفون پر کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا۔

’ پرے ہٹ جاؤ یار! بیروت ہماری بہن ہے‘ کے عنوان سے لاس اینجلس ٹائمز میں کالم نگار جویل اسٹین نے لکھا ہے کہ’ہمیں (لاس اینجلس کے باشندوں کو) دو بہنوں (بیروت اور اسرائيل) کے بیچ امن قائم رکھنے کے لیئے وہاں جا کر پیس کیپنگ کرنی چاہیے۔ اگر ایک خاندان میں بہنیں رات گئےگھر سے باہر رہتی ہیں، غلط لوگوں کے ساتھ گھومتی پھرتی ہیں تو ہمیں آگے آ کر کہنا چاہیے کہ اب بہت ہوچکی۔ اور یہ ہے وہ کام جس کا واشنگٹن انتظار کرتا رہتا ہے لیکن کر نہیں پاتا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد