سات جولائی سے سات جولائی تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک سال قبل سات جولائی کو لندن میں خودکش بم حملوں نے برطانیہ میں ایسی کایا پلٹی ہے کہ جس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے۔ ان حملوں میں چار نوجوان مسلم خود کش بمبار سمیت چھپن افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد کا پورا ایک سال برطانیہ کے مسلمانوں نے ایک عجیب کرب و بلا اور خوف و ہراس کے ماحول میں گزارا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ کے عوام طرح طرح کے وسوسوںُ اندیشوں اور خطرات میں گھرے رہے ہیں اور ٹونی بلئیر کی حکومت نے ان حالات پر اپنے دست قدرت کے اظہار کے لیئے انسداد دہشت گردی کے نام پر ظالمانہ حدوں کو چھوتے ہوئے تابڑ توڑ قوانین نافذ کیئے جن سے برطانیہ کا وہ چہرہ مسخ ہوگیا جو جمہوری اقدار شہری آزادیوں اور انسانی حقوق سے تابندہ نظر آتا تھا۔ سات جولائی سن دو ہزار پانچ کے خود کش حملوں کے بعد برطانیہ کے مسلمان جن اجتماعی شکوک و شبہات کا نشانہ بنے ایک سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ان کے حصار سے نہیں نکل سکے ہیں۔ پچھلے مہینے مشرقی لندن کے علاقہ فارسٹ گیٹ میں غیر مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر پولیس کی جنونی کارروائی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ برطانیہ کے عام شہریوں کو تو نہیں البتہ پولیس اور حکام کو ہر مسلمان ایک خطرناک جہادی نظر آتا ہے۔
برطانیہ میں سات جولائی کے حملوں کے بعد اس ملک میں برسوں سے آباد مسلمانوں کو شکوک و شبہات کی جن نظروں سے دیکھا گیا اور میڈیا نے مسلمانوں کی جو خوفناک امیج اور شبیہ پیش کی اسے باطل ثابت کرنے کے لیئے برطانوی مسلمانوں نے پچھلے ایک برس میں ہر محاذ پر کوشش کی ہے۔ گذشتہ نومبر میں برطانوی دارالعوام میں پروگریسو برٹش مسلمز کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی تھی جس کا مقصد سیکولر عقائد سے منسلک ممتاز مسلم شخصیتوں کو منظم کرنا ہے جو اس معاشرہ میں مفاہمت اور مصالحت کی بنیاد پر مسلم آبادی کے ساتھ اشتراک عمل کے لیئے ماحول پیدا کریں اور مخاصمت اور محاذ آرائی کی فضا کو یکسر بدل دیں۔ اسی کے ساتھ حکومت نے مسلم برادری سے رابطہ اور سلسلہ جنبانی کے لیئے ایک سو سے زیادہ ان ممتاز مسلم رہنماؤں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جو حکومت کے قریب تصور کیئے جاتے ہیں اور حکومت کو مختلف مراحل پر مشورے دیتے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ٹاسک فورس نے اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ رابطہ کو با مقصد اور فعال بنانے کے لیئے چونسٹھ سفارشات پیش کی ہیں جن میں سے ستائیس سفارشات براہ راست حکومت سے متعلق ہیں لیکن ان میں سے صرف تین سفارشات کو حکومت نے منظور کیا ہے۔ اس امر کے پیش نظر کہ سات جولائی سن دو ہزار پانچ کے چاروں نوجوان خود کش بمبار اس ملک میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اسی ملک کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور ان کی اسی معاشرے میں اور یہاں کے ماحول میں پرورش ہوئی۔
سات جولائی کے حملوں کے بعد وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت تمام رہنماؤں اور میڈیا کے کار پردازوں نے سارا شورو غل اس پر مچایا تھا کہ برطانیہ کی بیشتر مساجد کے امام اپنے خطبوں میں مسلمانوں کو جہاد پر اکستاتے ہیں اور یہاں تک کہا گیا کہ عراق، افغانستان، فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیئے مساجد میں دعائیں بھی مسلمانوں کو دہشت گردی پر اکسانے کے مترادف ہیں۔ اس امر کے پیش نظر برطانیہ میں مسلم تنظیموں کے اتحاد مسلم کونسل آف برٹن، ایم سی بی، مساجد اور اماموں کے قومی مشاورتی بورڈ: مناب نے فوری اقدامات کیئے اور اماموں کو خطبوں کے سلسلہ میں رہنما اصول جاری کیئے۔ ٹونی بلئیر کی حکومت نے شدت پسندی اور انتہا پرستی کے مسئلہ کو جبر و استبداد کی قانون سازی اور تمام مضمرات سے آنکھیں بند کر کے ان کے نفاذ کے بل پر حل کرنے کی راہ اختیار کی ہے۔ حقوق انسانی کے علمبردار کارکن اور اس ملک کے ممتاز مسلمان یہ بات شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ ان قوانین سےشدت پسندی کے مسئلہ کے حل میں قطعی کوئی مدد نہیں ملی بلکہ ان قوانین کی وجہ سے برطانیہ کے مسلمانوں میں ٹونی بلئیر کی حکومت پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشت گردی کے شعبہ کے سربراہ نے چند روز پہلے یہ انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردی کے سلسلہ میں ستر معاملات کی تفیش ہو رہی ہے اور ساٹھ افراد کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات درج کیئے گئے ہیں۔ خود برطانوی ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق نئے قوانین کے تحت آٹھ سو بہتّر مسلمانوں کو دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کیا گیا اور اب تک ان میں سے تین کے خلاف مقدمات چلائے گئے ہیں اور انہیں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس وقت برطانیہ میں آٹھ ہزار ایسے مسلمان ہیں جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اور ان پر کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
پچھلے دنوں عدالت عالیہ نے انسداد دہشت گردی کے نئے قوانین کے تحت گھروں میں نظر بند افراد پر کڑی پابندیوں کو حقوق انسانی کے خلاف اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس فیصلہ کو دہشت گردی کے خلاف ٹونی بلئیر کی حکومت کی حکمت عملی کو شدید دھچکہ قرار دیا گیا ہے۔ کسی استثناء کے بغیر برطانیہ کے تمام مسلمان یہ بات شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ سات جولائی کے حملوں کے بعد ٹونی بلئیر کی حکومت نے ان اسباب کو جاننے کی قطعی کوئی کوشش نہیں کی جن کی بناء پر انگلستان کے شمال میں یارک شائر میں پروان چڑھنے والے ان نوجوانوں نے یہ مہلک اقدام اٹھایا۔ بلا شبہ ان نوجوانوں نے یہ حملہ نہایت منظم اور سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کیا تھا اور یہ ان کا کوئی اچانک سر پھرا اقدام نہیں تھا۔ اس کے باوجود برطانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت نےاس کی مذمت کی اور تازہ جائزے کے مطابق صرف تیرہ فی صد مسلمان ایسے ہیں جو ان نوجوانوں کو شہید سمجھتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ برطانیہ کے مسلم نوجوانوں میں اقتصادی محرومی کا ایک عام احساس ہے کیونکہ ان میں بے روزگاری کی شرح اپنے انگریز ساتھیوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے لیکن ایسے کوئی شواہد نہیں کہ ان نوجوانوں کے اقدام کے پس پشت خاص عوامل کار فرما ہوں۔
پھر یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ڈیوز بری کے یہ مسلم نوجوان ملک کے سیاسی منجھدار سے کٹے ہوئے تھے اور ان میں سیاسی علیحدگی کا احساس جاگزیں تھا کیونکہ اس علاقہ سے ایک پاکستانی نژاد نوجوان شاہد ملک پچھلے عام انتخابات میں ٹونی بلئیر کی جماعت لیبر پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ سات جولائی کے حملوں کے سربراہ صدیق خان کی جو وڈیو کئی ماہ کے بعد منظر عام پر آئی اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان حملوں کے پیچھے محرکات در اصل افغانستان کے خلاف جنگ جُھوٹ کی بنیاد پر عراق پر فوج کشی اور فلسطین کے محکوم عوام کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم پر برطانیہ کی یکسر خاموشی کی پالیسی پر برطانوی مسلم نوجوانوں میں شدید ناراضگی، برہمی، جھنجھلاہٹ اور بے کسی کےاحساس ہیں۔ جب جب یہ مطالبہ کیا گیا کہ ان حملوں کے اسباب کی آزادنہ تحقیقات کرائی جائے ٹونی بلئیر نے اسے صاف ٹھکرا دیا جس سے یوں نظر آتا ہے کہ ٹونی بلئیر سخت خائف ہیں کہ کہیں اصل اسباب طشت از بام نہ ہو جائیں۔ وہ اس بات کو چھپانے کے ہزار جتن کریں لیکن ان کے لیئے یہ حقیقت پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں کہ ان حملوں کا براہ راست تعلق عراق کے خلاف جنگ میں امریکا کا بھر پور ساتھ دینے اور عمومی طور پر مشرق وسطی کے بارے میں ان کی پالیسی اور عالم اسلام کے تئیں ان کے رویہ سے ہے۔ چند روز قبل وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے یہ کہہ کر برطانیہ کے مسلمانوں کو مشتعل کیا ہے کہ اعتدال پسند مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی برادری میں انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ برطانیہ کے بیشتر مسلمانوں کا یہ استدلال ہے کہ ٹونی بلئیر کو اس پر غور کرنا چاہیئے کہ مسلمانوں میں انتہا پسندی کا رجحان آخر کیوں بڑھ رہا ہے اور اس میں خود ان کی پالیسیوں کا کتنا دخل ہے۔ |
اسی بارے میں لندن حملے: شہزاد تنویرکی ویڈیو06 July, 2006 | آس پاس ’مجھے آج بھی یقین نہیں آتا‘06 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||