ملکہ کو اپنے پالتو ’کورگی‘ کتوں سے کیسے محبت ہوئی اور پھر انھوں نے اس روایت کو کیسے فروغ دیا؟

The queen pictured at Balmoral with Susan in 1952. The queen leans on a wall in a pale green suit. Susan is a dark red corgi with a pointed, foxy face, and an almost smiling expression

،تصویر کا ذریعہBettmann/getty images

،تصویر کا کیپشنملکہ کی اپنی پالتو کتیا 'سُوزن' کے ساتھ بالمورل قلعے میں لی گئی سنہ 1952 کی تصویر، وہ اسی سال تخت نشین ہوئی تھیں
    • مصنف, ربیکا سِیلز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ملکہ کی موت کے بعد سے، ان کے پالتو 'کورگی' نسل کے کتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اب اُن کا کیا بنے گا۔ یہ وہ پالتو جانور ہیں جن کا ایک بڑا غول ملکہ نے اپنے بچپن سے ہی جمع کر رکھا تھا۔ اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان کے پیارے کتوں کی دیکھ بھال ان کے بیٹے شہزادہ اینڈریو اور ان کی سابقہ بیوی ڈچز آف یارک کریں گی۔ یہ کہانی ہے کہ کس طرح الزبتھ اور ان کے 'کورگی' نسل کے کتوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہو گیا۔

Short presentational grey line

سنہ 1959 کی ایک تصویر جس میں ملکہ الزبتھ دوم، 32 سال کی عمر میں جب وہ دو بچوں کی ماں بن چکی ہیں، اپنی کتیاسوزن کی قبر کا کتبہ ڈیزائن کر رہی ہیں۔

سوزن ان کی 18ویں سالگرہ پر انھیں ملی تھی اور اس کے چند برسوں کے بعد ان کی شہزادہ فلپ سے شادی کے بعد ان کے ہنی مون کے موقع پر شاہی بگھی میں ایک قالین میں لپیٹ کر اسے شاہی محل چھپا کر لایا گیا تھا۔

ملکہ نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ 'مجھے ہمیشہ اسے کھونے کا خوف تھا، لیکن میں ہمیشہ اس بات کی شکر گزار ہوں کہ اس کی تکلیف طویل نہیں تھی۔'

سوزن کے شاہی گھڑی چلانے والے اور محل کے ایک نوجوان محافظ کو کاٹنے کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں، حالانکہ ان واقعات کا ذکر اس کی قبر کے کتبے پر نہیں کیا گیا ہے۔ اسے سینڈرنگھم میں پالتو جانوروں کے اس قبرستان میں دفن کیا گیا جس کی بنیاد ملکہ وکٹوریہ نے رکھی تھی۔

سوزن کی قبر کا کتبہ

،تصویر کا ذریعہTim Graham Photo Library via Getty Images

،تصویر کا کیپشنسوزن کی قبر کا کتبہ نارفوک میں واقع شاہی جاگیر سینڈرنگھم میں پالتو جانوروں کے قبرستان میں نصب ہے

یہ ایک پیمبروک ویلش کورگی نسل کی کتیا کی زندگی کا خاتمہ تھا - لیکن یقینی طور پر یہ ملکہ کے لیے ایک اختتام نہیں تھا، جن کے دور کا حال ہی میں آغاز ہوا تھا۔

اگلی چھ دہائیوں کے دوران وہ سوزن کی نسل کے 30 سے زیادہ کتوں کی مالکن بنیں۔ انھوں نے اس ویلش کیٹل کتے کی نسل کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھوایا اور شہزادی مارگریٹ کے ڈیشنڈ نسل کے کتے، 'پپکِن' کی مدد سے حادثاتی طور پر ایک نئی ڈورگی نسل پیدا کروائی۔

A graphic of a corgi

آخر 'کورگی' نسل ہی کیوں؟ اس کا جواب چھوٹے بچوں کے والدین بہتر سمجھ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سنہ 1933 میں جب شہزادی الزبتھ سات سال کی تھیں تو ایسا ایک کتا ان کے دوستوں کے پاس تھا اور وہ بھی ایسا کتا لینا چاہتی تھیں۔

'پیمبروک کورگی' ویلز میں کتوں کی ایک جانی پہچانی مگر انگلینڈ کے لیے بالکل نئی نسل تھی۔ الزبتھ کے والد، ڈیوک آف یارک نے اس سلسلے میں کتوں کی افزائش نسل کروانے والی معروف بریڈر تھیلما گرے سے رابطہ کیا جنھوں نے جنوبی انگلینڈ کی کاؤنٹی سرے میں واقع اپنے فارم 'روزاویل کینلز' سے شاہی خاندان کے لیے تین کتے پیش کیے۔

شاہی خاندان کا ایک چھوٹی کورگی کتے پر دل آگیا، جس کا نام 'روزاویل گولڈن ایگل' تھا کیونکہ وہ واحد کتا تھا جس کی دم بہت چھوٹی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب فارم کے عملے نے سنا کہ ڈیوک آف یارک اس کتے کے مالک بننے جا رہے ہیں تو اسے ڈوکی کا نام دے دیا گیا اور پھر یہ نام پکّا ہو گیا۔

ڈوکی بہت بدمزاج کتا تھا، درباریوں اور مہمانوں کو کاٹ لیا کرتا تھا - لیکن اس رویے کے باوجود الزبتھ اور اس پست قد کتے کی ایک تصویر اخبارات کے لیے جاری کی گئی جس نے پیمبروک کورگی کو عوام میں ایک دلکش کتے کے طور پر متعارف کروایا۔

Princess Elizabeth pictured walking down stairs at Glamis Station with a small Pembroke Corgi - Dookie

،تصویر کا ذریعہImagno/Getty Images

،تصویر کا کیپشنشہزادی الزبتھ نے ڈوکی کے ساتھ گلیمز سٹیشن پر اس کے شاہی خاندان میں شامل ہونے کے فوراً بعد تصویر کھنچوائی

چند سال بعد لیڈی جین نامی اسی نسل کی ایک اور کتیا سرے کاؤنٹی کے اُسی بریڈر سے منگوائی گئی۔ سنہ 1936 میں کرسمس کے موقع پر شاہی تعلقاتِ عامہ کے محکمے نے شاہی خاندان اور ان کے پالتو جانوروں کو 'ایک خاندان کی مکمل تصویر' کے طور پر بچوں کی ایک کتاب 'ہماری شہزادیاں اور ان کے کتے' کی شکل میں پیش کیا۔ کتوں کی تصویروں اور خاندانی اقدار کے ذکر سے پُر یہ کتاب ڈیوک کے بڑے بھائی کی تخت سے دستبرداری اور اس کے نتیجے میں ملکہ الزبتھ کے والد کی تخت نشینی سے چند دن پہلے فروخت کے لیے پیش کی گئی تھی۔

بکنگھم پیلس ملکہ کے کتوں کے بارے میں انتہائی خـاموش رہتا ہے کیونکہ اسے شاہی خاندان کے 'نجی معاملے' کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ شاہی خاندان نے ابتدا میں کورگی کتوں کے حوالے سے ایک نرم طبعیت والا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی۔

Princess Elizabeth, beaming in a dress and sandals aged about 10, cradles one Corgi while another stands at her feet.

،تصویر کا ذریعہLisa Sheridan/Studio Lisa/Hulton Archive/Getty

،تصویر کا کیپشنشہزادی الزبتھ اپنی پہلی کورگی - ڈوکی اور جین کے ساتھ - اپنے بچپن کے گھر پیکاڈیلی، لندن، جولائی سنہ 1936 میں۔

کینل کلب (کتوں کے افزائشی فارم کی ایک تنظیم) کے سنہ 1936 اور 1944 کے اعداد و شمار پیمبروک کورگی کی رجسٹریشن میں واضح اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ سنہ 1944 میں شہزادی الزبتھ کو کورگی نسل کی کتیا سوزن ملی تھی۔ انھوں نے کورگیز نسل کو بہت ہی پیاری اور نرم طبیعت والے کتوں کے طور پر پیش کیا جبکہ انھوں نے شہزادی کو بہت ہی گرمجوش اور محبت کرنے والی انسان کے طور پر ظاہر کیا۔

کینل کلب کی لائبریری اور کلیکشنز مینیجر سیارا فیرل کہتی ہیں کہ 'لوگ اور کتوں کی افزائش کرنے والے ، ایک اچانک مقبول ہو جانے والے کتے کی نسل کو مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر رہے تھے۔ یہ 101 ڈالمیشنز کی طرح کا اثر تھا۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'آپ کو 70 اور 80 کی دہائی میں ڈیولکس پینٹ کے اشتہارات میں بھی کتے نظر آتے ہیں۔ اینڈریکس کتے، ایک مارکیٹنگ کی ایک بہت ہی کامیاب علامت تھی جو کہ نصف صدی سے چلتی آ رہی تھی۔‘

کیمروں سے دور شہزادی الزبتھ اور سوزن ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ ملکہ الزبتھ نے سوزن کے لیے ساتھی تلاش کرنے کے لیے شاہی خاندان کو اس نسل کے کتے فراہم کرنے والی بریڈر تھیلما سے رابطہ کیا اور 'روزویل لکی سٹرائیک' نامی کتے کا انتخاب کیا گیا۔ سوزن اور لکی سٹرائیک کے ملاپ سے ونڈزر پیمبروک کورگیز کی ایک نئی نسل سامنے آئی، جو 14 نسلوں تک جاری رہی۔

ملکہ کے کتوں کا شجرہ نصب

،تصویر کا ذریعہBBC

کورگیز نسل کے کتے ملکہ کے پالتو جانور ہونے کے ساتھ ساتھ اس لیے بھی اہم تھے کیونکہ وہ انھیں ان کے والد کی یادوں سے جوڑے رکھتے تھے اور انھیں روزمرہ کی شاہی مصروفیات کے دوران کچھ ذمہ داریوں سے آزاد وقت گزارنے کا موقع فراہم کرتے تھے۔ سوزن کے بعد ہر کتا یا کتیا ان کا اپنے ماضی کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے کا ایک طریقہ اور یہ یاددہانی تھی کہ زندگی اور بادشاہت چلتی رہتی ہے۔

یہ کتے وہ آزادی رکھتے تھے جو ملکہ کو میسر نہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ شہزادی ڈیانا نے ملکہ کے آگے چلنے والے کتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے لیے 'حرکت کرتا ہوا قالین' کی اصطلاح استعمال کی تھی لیکن ملکہ نے انھیں 'لڑکیاں' اور 'لڑکے' کہہ کر پکارا ۔ ان کتوں کے افزائش نسل کے تمام برسوں میں، انھوں نے کبھی بھی اپنے کسی بھی کتے کو فروخت نہیں کیا۔ سب ان کے ساتھ رہے یا اس نسل کی افزائش کرنے والوں، رشتہ داروں یا دوستوں کو تحفتاً دیے گئے۔

Queen Elizabeth walks through a door in Buckingham Palace, ready to meet players and officials from the New Zealand Rugby League Team, on October 16, 2007. Two dogs have walked into the room ahead of her - a corgi and a dorgi

،تصویر کا ذریعہTim Graham Picture Library/Getty

،تصویر کا کیپشنملکہ کے دو کتے انھیں دروازے سے رہنمائی کرتے ہیں جب وہ 2007 میں بکنگھم پیلس میں نیوزی لینڈ کی رگبی ٹیم کا استقبال کر رہی تھیں

ملکہ کے پالتو کورگیز ایک محل سے دوسرے محل تک ہر اس جگہ جاتے جہاں جہاں ملکہ جاتی تھیں۔ چاہے وہ ہیلی کاپٹر، ٹرین یا لیموزین کا سفر ہی کیوں نہ ہو۔ سینڈرنگھم میں کرسمس کے موقع پر ان میں سے ہر ایک کتے کے لیے تحفے کا انتخاب خود ملکہ کرتی تھیں۔

بکنگھم پیلس میں 775 کمرے ہیں، یہ کورگیز کتے ملکہ کے اپنے اپارٹمنٹ میں سوتے تھے۔ جیسا کہ شاہی مصنفہ پینی جونور نے کتاب 'آل دا کیوئنز کورگیز ‘میں لکھا ہے کہ 'محل میں ایک کورگیز کے لیے ایک خاص کمرہ تھا جہاں ان کی ٹوکریوں میں تکیے رکھے جاتے تاکہ سوتے ہوئے انھی ہوا بھی تنگ نہ کرے۔'

ملکہ کی زندگی کے آخری چند ماہ میں ان کی صحت متاثر ہونے کے باعث نقل و حرکت میں مشکلات سے قبل ان کے ساتھ روزانہ چہل قدمی یا سیر ملکہ کے معمول کا حصہ تھا۔ اور گزرے برسوں میں، انھیں ایک پرانی واکسہال گاڑی میں ان کتوں کو بٹھا کر، سر پر سکارف پہن کر ڈرائیو کے لیے روانہ ہونے کے علاوہ اور کچھ بھی پسند نہیں تھا۔

Queen Elizabeth II with one of her corgis at Sandringham, 1970

،تصویر کا ذریعہFox Photos/Hulton Archive/Getty Images

،تصویر کا کیپشنملکہ اپنے کتوں کو ہوائی جہاز سمیت ہر جگہ لے جاتی تھی۔ (سنہ 1970 کی تصویر)

ایک عام کتے کی زندگی میں گھومنے پھرنے کے لیے ہزاروں ایکڑ جگہ، یا شاہی باورچی خانے میں تیار کی جانے والی گوشت کی بوٹیاں، چکن بریسٹ، سبزیوں اور چاولوں کے شاہی کھانے شامل نہیں ہوتے لیکن شاہی مصنفہ جونور کا خیال ہے کہ ایک لحاظ سے، کورگیز نے ملکہ کو عوام سے رابطے کا ایک قیمتی موقع دیا۔

وہ لکھتی ہیں کہ 'کتے اور گھوڑوں کا انھیں (ملکہ الزبتھ کو) جنون کی حد تک شوق ہے اور وہ ان کے درمیان اور ایسے لوگوں کے درمیان جو یہ شوق رکھتے ہیں بہت پرسکون محسوس کرتی ہیں۔ گھوڑے امرا کا شوق ہیں لیکن کتے نہیں۔ کتے زندگی کے تمام شعبوں اور ہر طبقے کے افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اور ان تمام برسوں کے دوران، ملکہ کی ایسے بہت سے افراد سے مضبوط اور حقیقی دوستی رہی ہے جو کتوں کے شوقین تھے۔'

سنہ 1933 سے سنہ 2018 کے درمیان ملکہ کے پاس ہمیشہ کم از کم ایک کورگی کتا ضرور رہا لیکن بیشتر اوقات میں ان کی تعداد ایک سے زیادہ ہی رہی۔ پرنس فلپ کو، جو اپنی بیوی کے پسندیدہ کتوں کے کبھی بھی شوقین نہیں رہے، بظاہر یہ شکایت کرتے ہوئے سنا گیا کہ ’ملکہ کو اتنی زیادہ تعداد میں کتے رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟'

اور پھر وہاں ڈورگیز نسل کے کتے بھی تھے، جو کہ بنیادی طور پر سنہ 1970 کی دہائی میں شہزادی مارگریٹ کے ڈیشنڈ، پپکِن، اور ٹائنی نامی ایک کورگی کتے کے درمیان حادثاتی ملاپ کا نتیجہ تھے۔ ملکہ اور شہزادی مارگریٹ اس تعلق سے پیدا ہونے والے کراس نسل ڈورگی کے کتوں سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انھوں نے ان دونوں کتوں کا دوبارہ سے ملاپ کرایا اور آنے والے برسوں میں کم از کم دس ڈورگی نسل کے کتے پیدا ہوئے۔

ان کے ظاہری صورت و جسامت مختلف ہے، کچھ کے کان کورگی نسل کی طرح اوپر کھڑے ہوتے تھے اور کچھ کے نیچے لٹکتے تھے لیکن ان سب کی دم لمبی اور نسلی کورگیز سے نسبتاً چھوٹی تھیں۔

A picture released in London on February 4, 2022, and taken in January, shows Elizabeth II stroking Candy, her Dorgi, as she looks at a display of memorabilia from her Golden and Platinum Jubilees at Windsor Castle

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنملکہ اپنی ڈورگی کینڈی کو پیار کرتی ہے، جب وہ جنوری 2022 میں اپنے گولڈن اور پلاٹینم جوبلیوں کی یادگاری چیزوں کو دیکھ رہی ہے۔

ایک مرتبہ جب ایک شاہی فوٹوگرافر نے پوچھا کہ کورگیز اور ڈیشنڈ کے درمیان اونچائی کے فرق کے پیش نظر اچھی تصویر کیسے لی جائے، تو ملکہ نے جواب دیا کہ 'یہ بہت آسان ہے۔ ہمارے پاس ایک چھوٹی اینٹ ہے۔'

A graphic of a corgi

کچھ معاملات میں جب ملکہ کے چند عزیز و اقربا انتقال کر گئے تو ان کے کتوں کو بھی ملکہ نے گود لے لیا۔ اس میں سنہ 2002 میں مادر ملکہ کے تین کورگیز کتے بھی شامل تھے۔ 'وینیٹی فیئر' نامی جریدے کے مطابق، جب ملکہ اپنی والدہ کے آخری دیدار کے لیے کلیرنس ہاؤس گئیں تو وہ وہاں سے مادر ملکہ کے کورگی کتوں کو اپنے ساتھ گھر لے آئی تھیں۔

انھوں نے ایک اور وسپر نامی کتا بھی گود لیا تھا - جو ونڈسر میں ان کے سابق ہیڈ گیم کیپر، بل فینوک اور ان کی بیوی نینسی کا پالتو تھا۔ بل ملکہ الزبتھ کے ایک عزیز دوست تھے جنھوں نے پانچ دہائیوں تک ملکہ کی کورگی نسل کے کتوں کی افزائش میں مدد کی، اور ان کا شمار ان چند افراد میں ہوتا ہے جن کی ٹیلی فون کال ہمیشہ ملکہ تک پہنچائی جاتی تھیں چاہے کچھ بھی ہو۔

شاہی خاندان نے کورگی کتوں کی افزائش نسل کا پروگرام کئی سال پہلے ختم کر دیا تھا، کیونکہ کہا جاتا تھا کہ ملکہ اپنی موت کے بعد ان کتوں کے چھوٹے بچوں کو اکیلا چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں۔

جنوری میں ان کی اپنے ڈورگی نسل کے پالتو کتے کینڈی کے ساتھ تصویر بنائی گئی تھی۔ ان کے پاس موک اور سینڈی نامی دو چھوٹے کورگیز کتے بھی تھے، جو سنہ 2021 میں ان کے بیٹے پرنس اینڈریو اور ان کی بیٹیوں نے انھیں تحفے میں دیے تھے۔

اب اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ کورگیز کتوں کا یہ جوڑا شہزادہ اور ان کی سابقہ بیوی سارہ، ڈچز آف یارک کے ساتھ ونڈزر میں واقع حویلی، رائل لاج میں رہنے کے لیے جائے گا۔

تاہم اس تحریر کے لکھتے وقت تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کینڈی نامی کتا بھی ان کے ساتھ ہو گا یا نہیں۔

A 1966 black and white picture of Prince Andrew, a young boy in knee socks, encouraging a reluctant royal corgi to leave the train at Liverpool Street Station in London

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنپرنس اینڈریو اور کوگیز کی زندگی بھر کی رفاقت ہے (سنہ 1966 کی تصویر)

شہزادے کو کورگیز کی موجودگی سے ہمیشہ کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ شاہی مصنف جونور نے مشاہدہ کیا کہ ملکہ جو 'بنیادی طور پر ایک بہت شرمیلی خاتون' تھیں وہ اپنے رشتہ داروں اور اجنبیوں سے اعتماد کے ساتھ بات کرنے میں مشکل کو کم کرنے کے لیے کتوں کا استعمال کرتی تھیں۔

'ان کا خاندان اسے 'ڈاگ میکنزم' کہتے ہیں یعنی اگر صورتحال بہت مشکل ہو جاتی تو وہ اس محفل سے کبھی کبھی کتوں کو لے کر باہر نکل جاتیں۔' جونور لکھتی ہیں کہ 'کہا جاتا ہے کہ شہزادہ اینڈریوز کی شادی جب سارا فرگوسن کے ساتھ مسائل کا شکار تھی تو کتوں کی وجہ سے اُنھیں یہ بات اپنی ماں کو بتانے میں تین ہفتے لگے تھے۔'

ملکہ نے دوسروں کو آرام دینے کے لیے بھی کتوں کو خاص تربیت دی ہوئی تھی۔ فوجی سرجن ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ نے بتایا کہ جب وہ جنگ زدہ شام کے شہر حلب سے واپس آئے تھے، اور پوسٹ ٹرومیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی وجہ سے کسی سے بات کرنے سے قاصر تھے تو کس طرح ملکہ نے انھیں بکنگھم پیلس میں دوپہر کے کھانے کے لیے مدعو کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اس وقت ملکہ کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنے کورگیز کو بلانے سے پہلے کہا کہ 'اچھا، کیا میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں؟ پھر اچانک سے عملہ ملکہ کے کورگیز کتوں کو لایا اور وہ آتے ہی میز کے نیچے چلے گئے، ملکہ نے بسکٹ کا ڈبہ کھولا اور ملکہ اور میں نے دوپہر کے کھانے کے دوران تقریباً 20 منٹ تک کتوں کو کھانا کھلایا۔ انھوں (ملکہ) نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ میں بہت شدید صدمے کا شکار ہوں۔‘

A graphic of a corgi

دنیا میں لاکھوں عمر رسیدہ افراد جو کتے پالنے کے شوقین ہیں، 96 سال کی عمر پانے والی ملکہ کو صرف ایک سفید بالوں والی دادی اور پڑدادی کی حیثیت سے جانتے تھے۔

اس لیے کورگیز کو بزرگ افراد کے لیے کتوں کی نسل کے طور پر سمجھا جانے لگا۔

سنہ 1960 کی دہائی میں تقریباً 9,000 کتوں کی رجسٹریشن کے ساتھ ان کی شہرت عروج پر تھی، کیونکہ عوام نوجوان ملکہ کی ان کے کتوں کے ساتھ تصویروں سے متاثر ہوئے تھے لیکن سنہ 1990 کی دہائی کے اواخر سے اس رجحان میں ایک زوال نظر آیا ، اور سنہ 2014 ان کے لیے خوفناک سال تھا۔ صرف 274 نئی رجسٹریشنوں کے ساتھ، پیمبروکس برطانیہ میں کتوں کی غیر محفوظ مقامی نسل کی فہرست میں شامل ہو گیا۔

اس کے بعد 'نیٹ فلِکس' کا دور آیا، اور 'دی کراؤن' نامی سریز میں شاہی دور کی عظمت کو بحال کیا گیا، جس کے سنہ 2016 کے پہلے سیزن نے وقت کو ماضی کی ملکہ کے دور کی طرف موڑ دیا۔ کلیئر فوئے نے نوجوان ملکہ کا کردار ادا کیا، جن کی شاندار اداکاری کی تعریف کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس ڈرامہ سیریز میں نوجوان ملکہ کو اکثر کورگیز کے ایک گروہ میں گِھرا ہوا دکھایا گیا، جبکہ بعد میں جب ملکہ کا کردار اولیویا کولمین نے ادا کیا تو بھی یہی صورتحال تھی۔

Actress Olivia Colman in character as Queen Elizabeth II in Netflix show The Crown, pictured on a sofa with two Corgis

،تصویر کا ذریعہSophie Mutevelian / Netflix

،تصویر کا کیپشناولیویا کولمین اپنے ساتھی اداکاروں کے ساتھ ملکہ کے کردار میں۔

فوئے نے وینیٹی فیئر نامی جریدے کو بتایا کہ کس طرح سیٹ پر موجود کتوں کو رشوت کے طور پر پنیر دے کر اور پیار کر کے فلم میں کام کرنے کے لیے راضی کیا جاتا تھا۔

'آپ جب ان کو پنیر کھلا رہے ہوتے تھے تو وہ بہت زیادہ پنیر کھاتے تھے اور آپ کو اس بات کی فکر ہوتی تھی کہ انھیں دل کا دورہ پڑ جائے گا۔ وہ ہر روز پنیر کے بڑے بڑے ٹکڑے کھاتے تھے، یہ بہت خوفناک تھا۔'

پہلے سیزن کے نشر ہونے کے بعد سنہ 2017 میں کورگیز کتوں کی رجسٹریشن میں 16 فیصد اور دوسرے کے بعد 2018 میں 47 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ صرف 'دی کراؤن' کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ سنہ 2012 کے اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں جیمز بانڈ کے ساتھ ملکہ اور تین شاہی کورگی نسل کے کتوں کے ایک خاکے کی وجہ سے بھی ان میں عوام کی دلچسپی پیدا ہوئی تھی۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

یہاں تک کہ نیٹ فلکس کی شاہی روایات کے بارے میں بہت مقبول ڈرامہ سیزن برجرٹن نے دوسرے سیزن میں تاریخی طور پر غلط کورگی کے کردار کو شامل کیا۔ 'کو اسٹار' جریدے کے فلمی جائزے کے تبصرے میں کہا گیا کہ یہ کردار غیر ضروری تھا مگر شائقین نے اس کے کردار کو پسند کیا۔

سوشل میڈیا نے بھی عوامی سطح ہر کورگی نسل کے کتوں کی دلچسپی میں کافی کردار ادا کیا ہے جیسا کہ ٹک ٹاک سٹارز ہیمی اور اولیویا نامی کتوں کے مالک کرس ایکول کو سب جانتے ہیں۔

34 سالہ کرس نے اپریل سنہ 2020 میں اتفاقیہ طور پر اولیویا نامی ایک کورگی کتے کی ویکیوم کلینر پر بھونکنے کی ویڈیو پوسٹ کی جو وائرل ہو گئی۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ 'اسے صرف 20 منٹ سے بھی کم وقت میں 250,000 ریویوز ملے۔'

اس ویڈیو کے دو سال اور ستر لاکھ فالوورز حاصل کرنے کے بعد، انھوں نے 700 سے زیادہ مرتبہ ٹاکنگ کورگی نامی ویڈیو اور خاکے بنائے ہیں۔ ان میں 'ڈریگن' کے ساتھ کتوں کی جنگ کے بارے میں ایک مشہور لطیفہ بھی شامل ہے، اور اس کے بعد ویکیوم کمپنی کے پاس سپانسرز کی ایک طویل قطار لگ گئی۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کورگی نسل کے کتوں کے بارے میں وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو متوجہ کرتی ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ 'کورگی کے بارے میں کچھ بہت ہی منفرد ہے، یہ صرف ایک ایسا کتا ہے جسے آپ واقعی گلے لگانا چاہتے ہیں۔ پہلی نظر میں جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے، کیا یہ کتا ہے، یا کوئی روٹی کا ٹکڑا ؟ ان کے بارے میں کچھ بہت پیارا ہے۔‘

،ویڈیو کیپشنہیمی اور اولیویا کی نسل کی انوکھی اپیل:

کینیل کلب کی سیارا فیرل اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ کوگی کی جسمانی ساخت ان کی نمائشی کشش کی بنیادی وجہ ہے۔

'کئی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ بڑے کان کو پسند کرتے ہیں- ایسی چیز جس کی جانب آپ بڑھ کر جھکتے ہیں اگر آپ ایک نرم کھلونا دیکھ رہے ہیں۔ ان کے چہرے پر لومڑی پن ہوتا ہے، وہ سخت لگتے ہیں۔ لیکن پیارے لگتے ہیں۔'

مسٹر ایکویل ملکہ کو اس 'نسل کی بنیاد رکھنے والی شخصیت' کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ ان کتوں کو ایک بڑے آلو کی طرح بیان کرتے ہیں۔ 'میرے پاس صرف یہ دونوں (ہیمی اور اولیویا) سات سال سے ہیں؟ سو دس مرتبہ ان کی افزائش نسل کروانا لچسپ لگتا ہے.

'باغ میں، یہ ہمیشہ پہلی چیز ہوتی ہے جو کسی راہگیر کے منہ سے نکلتی ہے کہ: 'اوہ تم جانتے ہو کہ یہ ملکہ کے کتے ہیں'!'

A woman in a fancy dress hat featuring Queen Elizabeth II and a corgi, pictured during the Diamond Jubilee concert at Buckingham Palace in 2012

،تصویر کا ذریعہWPA Pool/Getty Images

،تصویر کا کیپشنکوگیز اینڈ دی کوئین: ایک برانڈنگ پارٹنرشپ جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔

ملکہ کے دورِ اقتدار میں عوامی تصور میں کورگی نسل بادشاہت سے گہری طور پر جڑی ہوئی تھی لیکن شاہ چارلس سوم کے دور میں جنھوں نے ایک بار کہا تھا کہ وہ لیبراڈورز کو ترجیح دیتے ہیں اور طویل عرصے سے جیک رسل ٹیریئرز کے مالک ہیں، کیا کورگیز نسل کے کتوں کی مقبولیت میں کمی کا خدشہ ہے؟

فیرل کہتی ہیں کہ 'میں امید نہیں کروں گی۔ میرے خیال میں کوگیز نے حالیہ برسوں میں بہت ترقی کی ہے۔' اس کا خیال ہے کہ وہ ہمیشہ ملکہ کے کتوں کے طور پر مشہور رہیں گے، لیکن جتنا زیادہ ممکنہ مالکان کوگیز کو آن لائن دیکھیں گے، اتنا ہی ان کا شاہی تعلق کمزور ہوتا جائے گا۔

'ایسے لوگوں کی ایک نسل پیدا ہونے والی ہے جو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں جو انہیں باکمال اور مزے دار پائیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ (کورگی کتے) یہاں ہمیشہ رہیں گے۔'

A Pembroke corgi walks down a sunny street, turning to look back at the person with the camera

،تصویر کا ذریعہKiatanan Sugsompian/Getty images

ان تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

یہ فیچر پہلی بار 3 جون 2022 کو انگریزی میں شائع ہوا تھا۔