دنیا کے چھوٹے ترین دارالحکومتوں میں سے ایک شہر جس کا رقبہ بڑھایا نہیں جا سکتا

،تصویر کا ذریعہAlamy
- مصنف, اینٹونی ہام
- عہدہ, بی بی سی ٹریولز
سمندر سے بازیافت کی جانے والی زمین پر بنائے گئے ’سیشلز‘ نامی ملک کے چھوٹے سے دارالحکومت کا رقبہ بڑھایا نہیں جا سکتا ہے، لیکن اپنی متحرک ثقافت اور زبردست تاریخ کی وجہ سے اُسے بڑھانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
میں ’سیشلز‘ کی جانب پرواز کے دوران ایک منٹ بعد بظاہر ایک حد نگاہ پھیلے ہوئے سمندر کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ نہ ختم ہونے والے سمندر کے اوپر تھا۔ اُس کے بعد میرے طیارے کی کھڑکی کے سامنے گرینائٹ کی چٹانیں تھیں، جہاں سمندر کے اوپر منڈلاتے ہوئے بادلوں میں صدیوں پرانے ڈوبنے والے بحری جہازوں کی پُر اسرار کہانیاں پوشیدہ تھیں۔ میں گھبرا گیا کہ میرا طیارہ یقیناً یا تو پانی پر اترنے والا ہے یا پہاڑ سے ٹکرانے والا ہے، کیونکہ ان دونوں کے درمیان بہت کم جگہ دکھائی دیتی تھی۔
سیشلز 115 جزیروں پر مشتمل ایک جزیرہ نما ملک ہے، جہاں نیلے آسمان کے نیچے سمندر اور زمین کا ایک ناقابلِ یقین حسین ملاپ ہوتا ہے۔ یہاں سب سے بڑے جزیرے 'ماہے' کے آتش فشاں پہاڑ کے مرکز سے لے کر 1,800 کلومیٹر سمندر تک، جو اسے سرزمین افریقہ سے الگ کرتا ہے، کا ایک سلسلہ چلتا ہے۔
یہاں سب کچھ بہت بڑا اور عظیم نظر آتا ہے سوائے سیشلز کے دارالحکومت وکٹوریہ کے جو ایک چھوٹا سے شہر ہے۔
دنیا بھر میں کئی دارالحکومت ایسے ہیں جن کی آبادی کم ہے۔ سان مارینو یا ویٹیکن سٹی ہی کی مثال لے لیجیے، یا بحرالکاہل میں پھیلے ہوئے چند جزائر پر بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے شہر۔ اس کے باوجود وکٹوریہ کی تقریباً 30,000 نفوس پر مشتمل آبادی کئی دیگر دارالحکومتوں کے لحاظ سے کافی کم ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ایسا لگتا ہے کہ اگر ایک طرف ماہے کی تنگ ساحلی پٹی کے ساتھ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے جگہ کم ہے، تو دوسری طرف دارالحکومت کے لیے بھی اتنی ہی کم زمین ہے۔ ماہے صرف 20 مربع کلومیٹر پر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ شہر کے مرکزی حصے سے اس کے قطر تک کا سفر تنگ گلیوں میں چلتے ہوئے صرف 10 منٹ میں پورا ہو جاتا ہے۔ مکانات آس پاس کی پہاڑیوں پر تعمیر کیے گئے ہیں۔
آج وکٹوریہ کا جتنا بھی رقبہ ہے یہ ماضی کی اعلیٰ جیوگرافکل انجینیئرنگ کی مرہونِ منت ہے۔
سیشلز کے مشہور فنکاروں میں سے ایک جارج کیملی جو وکٹوریہ میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ یہاں گزارا ہے، وہ کہتے ہیں کہ 'وکٹوریہ کا آدھا حصہ سمندر سے بازیافت کیا گیا ہے۔ جہاں اب ٹیکسی سٹینڈ ہے وہاں پہلے سمندر تھا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتنے چھوٹے شہر کے لیے وکٹوریہ شہر مضبوطی سے کھڑی اپنی عمارتوں کے جھرمٹ کے ذریعے جدید سیشلز کی داستان بیان کرتے نظر آتا ہے۔ یہ ساحلوں اور کھجور کے درختوں کی مشہور سیشلز کی ایسی تصویر ہے جو دنیا اور اس کے شور سے دور زندگی کے لیے ایک تریاق ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
وکٹوریہ کی تاریخ کی جڑیں حیرت انگیز طور پر اس کے جغرافیائی ساخت سے جُڑی ہوئی ہیں۔
فرانسیسیوں نے سنہ 1778 میں اس شہر کی بنیاد رکھی، ایک ایسے وقت میں جب امریکہ میں آزادی کی جنگ چل رہی تھی، آسٹریلیا کی کالونی اب بھی محض ایک خیال تھی اور افریقہ کا بیشتر حصہ یورپیوں کے لیے عنقا تھا۔ اُس وقت تعمیر ہونے والی نئی بستی - جو کہ ہر لحاظ سے لکڑی اور گرینائٹ کے مکانات کی ایک معمولی جگہ تھی، کچھووں کے فارمز تھے اور فوجیوں کے لیے ایک بیرک اور حساب کتاب کے لیے چند دفاتر تھے - جس کا نام، بلکہ اس کے نام کو اور زیادہ شاندار ظاہر کرنے کے لیے، کنگ آف اسٹیبلشمنٹ' رکھا گیا تھا۔
نئے شہر کو بڑھانے کے لیے بہت کم کام کیا گیا تھا، یا تو اسے فرانسیسیوں نے بنایا تھا یا پھر انگریزوں نے جنھوں نے اسے سنہ 1811 میں اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ یہ اتنا چھوٹا اور غیر اہم تھا کہ انگریزوں کو نام بدل کر وکٹوریہ رکھنے میں 30 سال لگے۔ انہھوں نے ایسا سنہ 1841 میں شہزادہ البرٹ کے ساتھ ملکہ کی شادی کی یاد میں کیا تھا۔
انیسویں صدی میں اس علاقے کا کسی بھی خاص تاریخی واقعہ میں ذکر نہیں ملتا ہے۔ شدید بارش کے بعد 12 اکتوبر سنہ 1862 کو شہر پر مٹی اور گرینائٹ کا برفانی تودہ گرا۔ بہت سے لوگ مارے گئے تھے۔ سنہ 1890 میں سوئس ملکیت والا ہوٹل 'ایکوٹیور' کھلا جو سیاحوں کی آمد و رفت کی بڑھتی ہوئی تعداد کا پیش خیمہ تھا جس نے بعد میں سیشلز کی مستقبل کی سمت کا تعین کیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAlamy
شاید وکٹوریہ کی سب سے قدیم عمارت جو آج بھی اچھی حالت میں موجود ہے، تاریخ کا قومی میوزیم بن چکی ہے۔
تحریری معلوماتی پینلز اور دیوار سے چھت تک ڈسپلے کے اس کے دلکش آمیزے کے ساتھ یہ میوزیم قدیم ترین نوآبادیاتی دور، غلاموں کی آزادی اور مغربی مجمع الجزائرِ ہند اور ہسپانوی امریکا میں بسنے والے لوگوں کی ثقافت کی معنی خیز تاریخ کی کہانی بیان کرتا ہے۔
شہر کی بہت سی آج تک قائم تاریخی عمارتیں وکٹوریہ (اور سیشلز کی) نوآبادیاتی تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں، ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہ یہ فرانسیسی اور برطانوی تھے جنھوں نے یہاں اپنی تعمیراتی تاریخ چھوڑی ہے۔
لیکن یکم فروری سنہ 1835 کو سیشلز میں 6,521 غلاموں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اس وقت پوری آبادی صرف 7,500 تھی۔ ان میں سے تقریباً 90 فیصد آزاد غلام تھے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مستقبل میں مغربی مجمع الجزائر ہند اور ہسپانوی امریکا کی 'کریول' کہلانے والی قوم بنتے ہیں۔
سنہ 1885 میں تعمیر کی جانی والی عمارت جو پہلے سپریم کورٹ آف سیشلز تھی، اسے میوزیم میں سنہ 2018 میں تبدیلی کیا گیا تھا اور یہ لکڑی کے شٹروں اور کھجور سے بھرے باغات سے گھری ہوئی اونچی چھتوں کا ہلکا اور ہوا دار عمارتی ڈھانچہ ہے۔ اسی کے قریب 'فریڈم ایونیو' اور 'فرانسس ریچل اسٹریٹ' بھی واقع ہیں۔
اس چوراہے کے مرکز میں اور میوزیم کے میدان سے نظر آنے والا وکٹوریہ کی سب سے دلچسپ یادگاروں میں سے ایک جگہ 'کلاک ٹاور' کی ایک چھوٹی سی نقل ہے جسے 'لٹل بین' کہا جاتا ہے جو لندن میں ووکزال برج روڈ پر کھڑا ہے (جسے بِگ بین کہا جاتا ہے)۔
اسے سنہ 1903 میں وکٹوریہ لایا گیا تھا اور یہ ایک ایسے چھوٹے شہر کے لیے مناسب نشانی ہے جو کبھی بھی بڑا نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
قریب کی پر ہجوم گلیوں اور تنگ راستوں کے اندر وکٹوریہ کی اصل زندگی نظر آتی ہے۔
شہر کا یہ حصہ کاروں اور ان کے ہارنوں، لوگوں، اور دکانوں پر لٹکے ہوئے چمکدار کپڑوں کا ایک تنگ علاقہ ہے۔ سر سِلوِن سِلوِن-کلارک مارکیٹ کے ارد گرد شور مچانے والے مچھیروں کی وجہ سے مچھلی منڈی اور تازہ پیداوار فروخت کرنے والوں کا خطہ ہے جس میں ناریل اور پودے سے لے کر ونیلا پوڈز اور مرچیں وغیرہ سب ہی فروخت ہوتی ہیں۔
البرٹ سٹریٹ کے ساتھ ساتھ پرانے سکول کی لکڑی سے بنے تجارتی گوداموں میں پرانے پیسٹلز میں شیشے کی دیواروں والے کیسینو کے ساتھ اسٹریٹ فرنٹیج کا تعلق بنتا ہے۔ قریب ہی، 'ڈومز' (چرچ کے درجہ بندی کے لیے ایک رہائش گاہ، جو 1934 میں تعمیر کی گئی تھی) کا غیر معمولی بالکونی والا اگواڑا ہے۔
کوئنزی سٹریٹ پر ہندو سری نواسکتی ونیاگر مندر اس علاقے میں جدید عمارتوں کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAlamy
مقامی تاجر، شوقیہ مورخ اور تاحیات وکٹورین، کونی پٹیل نے کہا کہ 'لوگوں کو لگتا ہے کہ سیشلز صرف ساحلوں کا شہر ہے۔ اور یقیناً اس کے ساحل اہم ہیں۔ لیکن سیشلز کی ہر چیز یہاں ہے۔ یہاں ماہے پر بہت زیادہ سڑکیں نہیں ہیں، تقریباً سبھی وکٹوریہ سے گزرتی ہیں۔ اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سیشلز کے عام شری کہاں سے کاروبار کرنے آتے ہیں تو وکٹوریہ ہی وہ جگہ ہے جہاں آپ کو سب کچھ دیکھنے کو ملے گا۔ یہ سیشلز کی کہانی کا ایک لازمی حصہ ہے۔'
وہاں کی ایک رہائشی گیتیکا پٹیل نے اتفاق کیا کہ 'وکٹوریہ شہر درحقیقت سیشلز کی ایک تصویر پیش کرتا ہے۔ یہاں شور و غوغا اور بدنظمی ہو سکتی ہے اور ہم سب ٹریفک کے بارے میں شکایت کرتے ہیں۔ لیکن یہ جدید سیشلز ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھیں۔ یہ چہروں اور فن تعمیر کی آمیزش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آپ اس کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ اگر آپ سنیں تو آپ سب کو کریول میں بات کرتے ہوئے سنیں گے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ سیشلز کو جانتے ہیں جب تک کہ آپ یہاں آئے نہ ہوں۔'
شہر کے اوپر پہاڑیوں سے بلند اور ریوولوشن ایونیو کے باہر 'میری اینٹوئنیٹ' ریسٹورنٹ ایک پرانے گھر کی عمارت میں واقع ہے جہاں سنہ 1870 کی دہائی میں ویلش-امریکی صحافی اور ایکسپلورر ہنری مورٹن نے اسٹینلے سے افریقہ واپسی پر ایک ماہ کے لیے قیام کیا تھا اور ان کی مشہور و معروف شخصیت ڈاکٹر ڈیوڈ لیونگسٹون سے ملاقات ہوئی۔
سٹینلے کو ایک امریکی اخبار نے ڈاکٹر لیونگسٹون کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا تھا، جن کا کئی سال پہلے بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
اس سفر میں ان کی پہلی ملاقات میں اسٹینلے نے آج مشہور ہونے والے الفاظ کہے، 'ڈاکٹر لیونگسٹون، میرا خیال ہے؟'۔ گھر کے راستے سیشلز پہنچنے پر جب وہ واپس یورپ جانے کا انتظار کر رہا تھا تب اسٹینلے سے ایک فرانسیسی بحری جہاز چھوٹ گیا، جس کی وجہ سے اُسے ایک ماہ کے لیے سیشلز میں رہنا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAnthony Ham
پہاڑی کے بالکل نیچے آرٹسٹ جارج کیملی، جو وکٹوریہ کو کریول ثقافت کے علاقائی دارالحکومت میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھتے ہے، نے کیسوارینا، مہوگنی اور دیگر سخت لکڑیوں سے بنے ایک روایتی گھر کو اصلی حالت میں بحال کیا ہے، اور اسے ایک نمائشی جگہ اور اپنے شہ پاروں کے لیے آرٹ گیلری میں تبدیل کر دیا ہے جسے 'کاز زنانا' کہا جاتا ہے۔
وکٹوریہ کے گھر کبھی ایسے ہی نظر آتے تھے۔ کیملی کہتے ہیں کہ 'یہ معدوم ہونے والی دنیا کا ایک نشان ہے۔'
شام ڈھل چکی تھی جب میں کاز زنانہ سے نکلا اور شہر کے مرکز میں گھوم رہا تھا۔ سوچوں میں گم میں نے کچھ دیر میں اپنے آپ کو بازار سے باہر پایا۔
بازار کے تاجروں کی طرح دن کی گرمی بھی ختم ہو چکی تھی۔ سڑکوں پر ٹریفک نہیں تھی۔ گلیوں میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
اس لمحے وکٹوریہ شہر نے محسوس کیا کہ شاید ایک گاؤں کی طرح، جیسا کہ یہ کبھی تھا، یہ حقیقت میں کبھی بڑھ نہ سکا۔












