الماری میں ڈھانچہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا آپ کی الماری میں کوئی ڈھانچہ ہے؟ اگر یہ سوال آپ سے انگریزی میں کیا جاتا تو آپ قطعاً حیران نہ ہوتے (پریشان شاید ضرور ہو جاتے) انگریزی میں کہا جاتا ہے۔ A skeleton in your cupboard یعنی کوئی ذِلت و رسوائی سے بھرپور راز جسکے کھُل جانے پر آپ کسی کو منہ دِکھانے کے قابل نہ رہیں: I know you have been in prison, any more skeletons in your cupboard میں جانتا ہوں تم جیل جا چُکے ہو۔ اسکے علاوہ بھی کوئی چکر ہے؟ امریکہ میں اس محاورے کا آخری لفظ تبدیل ہو کر ’ کلازٹ‘ بن جاتا ہے: None of us is perfect – we all have a little skeleton somewhere in our closet گویا ہر کسی کی جھولی میں چھید ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کی مثل وجود میں کیسے آئی۔ یہ جاننے کے لئے ہمیں جدید برطانوی تاریخ میں جھانکنا پڑے گا۔ 1832 سے پہلے برطانیہ میں انسانی لاش کی چیر پھاڑ ممنوع تھی، صرف پھانسی پانے والے مجرموں کی لاش پر تجربے کئے جا سکتے تھے۔ لیکن جب برطانیہ میں ایک نئے قانون کے ذریعے مُردوں کا جسم طبّی اور سائنسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی اجازت مِل گئی تو ہر ڈاکٹر کسی مُردے کی تلاش میں نِکل کھڑا ہوا۔ اُنیسویں صدی کا وسط ویسے بھی سائنسی تحقیق و تفتیش کا زمانہ تھا اور انسانی جسم کے پوشیدہ راز جاننے کی خواہش ساری طبّی برادری میں پائی جاتی تھی۔ جب مُردوں کی طلب اتنی بڑھ گئی کہ لاوارث لاشوں کے ذریعے پوری کرنا مشکل ہو گیا توڈا کٹروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مردوں کو دفنانے کی بجائے طبّی تحقیق کے لئے وقف کر دیں۔ اس اپیل کا اُلٹا اثر ہوا اور عوام میں ایسے ڈاکٹروں کے خلاف نفرت کی ایک عمومی فضا پیدا ہو گئی جو لاشوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ طلب اور رسد کے معاشی اصولوں کے مطابق مُردوں کی طلب میں اضافے کے باعث قیمت بھی بہت بڑھ گئی۔ اس صورتِ حال سے کفن چور قسم کے لوگوں نے خوب فائدہ اُٹھایا۔ وہ رات کو قبرستان میں جاتے اور کوئی تازہ مُردہ نکال کر کسی ڈاکٹر کے پاس بیچ آتے۔ اس طرح حاصل کئے ہوئے مُردے کی سرِعام نمائش ممکن نہ تھی چنانچہ ڈاکٹر اُس مُردے کو کسی اندھیرے کونے والی الماری میں چھُپا کے رکھتا تھا۔ لیکن اگر محلّے والوں کو پتا چل جاتا کہ فلاں ڈاکٹر نے گھر میں مُردہ چھُپا رکھا ہے تو وہ اس کے خلاف سخت احتجاج کرتے اور ڈاکٹر کو بھی بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ تا۔ انسانی جسم کے بارے میں تجسّس رکھنے والا ہرڈاکٹر اُس لمحے کے بارے میں خوف زدہ رہتا جب کوئی ہمسایہ دروازے پر دستک دے گا اور ڈاکٹر سے پوچھے گا : اُنیسویں صدی کے وسط تک تو یہ جملہ محض مُردہ چھُپانے والے ڈاکٹروں تک محدود تھا لیکن آہستہ آہستہ اس کا اِطلاق ہر اُس صورتِ حال پر ہونے لگا جہاں کوئی شخص اپنے کسی رسوا کُن راز کو چھُپانے کی کوشش کر رہا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||