| | باراک اوبامہ بیس جنوری کو امریکہ کے چوالیسویں صدر بن جائیں گے |
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما انتخابات جیتنے کے بعد سے اپنی ٹیم کے ارکان منتخب کر رہے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنا نظام حکومت چلائیں گے۔
| قومی سلامتی کے مشیر:جیمز جونز |
سابق میرین کمانڈنٹ جنرل جیمز جونز یورپ میں نیٹو اور امریکی فوج کے سپریم کمانڈر ہیں۔64 سالہ جونز نے بش انتظامیہ کی کچھ جنگی حکمتِ عملیوں کی تنقید کی تھی خاص طور پر افغانستان میں۔کیپٹل ہل میں ریپبلکن اور ڈیمو کریٹس دونوں ہی انہیں پسند کرتے ہیں۔بش انتظامیہ میں وہ مشرقِ وسطی کے امور کے خصوصی مشیر رہے ہیں۔
| قومی اقتصادی کونسل:لارنس سمر |
قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ کے عہدے کے لیے مسٹراوباما کی پسند لارنس سمر نے بل کلنٹن کی انتظامیہ میں وزیرِ خزانہ سمیت کئی عہدوں پر کام کیا۔ عالمگیریت کے زبردست حامی لارنس اقتصادی حلقوں میں خاصے مقبول ہیں اور ان کی ساکھ بہت اچھی ہے۔1990 کی دہائی میں ان کے دور میں امریکی معیشت نے بہت ترقی کی تھی۔سنہ 2008 میں انہوں نے کئی آرٹیکلز لکھ کر معیشت میں حکومت کی مداخلت کی اپیل کی تھی ان کی دلیل تھی کہ روایتی اقتصادی پالیسیاں موجودہ مالی بحران کو مؤثر ڈھنگ سے قابو کرنے کی اہل نہیں ہیں۔
| چیف آف سٹاف:راحم ایمینیول |
شکاگو کے سیاست داں راحم ایمینیول سنہ 1992_1998 تک بل کلنٹن کے مشیر رہے سنہ 2002 میں ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئے۔ ایمینیول باراک اوباما کے نزدیکی دوست ہیں لیکن صدارتی امیدوار کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے مہم میں انہوں نے کسی کا ساتھ نہیں دیا تھا کیونکہ کلنٹن فیملی کے ساتھ بھی ان کے نزدیکی تعلقات ہیں۔
| سینئیر مشیر:ڈیوڈ ایکسلروڈ |
امریکی سینیٹ اور صدارتی انتخابات کے دوران اوباما کے اہم پالیسی ساز ڈیوڈ نے اپنا زیادہ تر وقت شکاگو سیاست میں گزارا پہلے شکاگو تربیون کے رپورٹر کی حیثیت سے پھر بطور مشیر۔ مسٹر ڈیوڈ ایکسلروڈ نے شکاگو کے پہلے افریقی نثراد امریکی میئر ہیرالڈ واشنگٹن کےصلاح کار کے طور پر کام کیا۔ 1992 میں مسٹر اوباما کی ملاقات ڈیوڈ ایکسلروڈ سے ہوئی تھی۔
ڈیوڈ ایکسلروڈ اور راحم ایمینیول کی طرح ویلری بھی اوباما کے دوستوں اور شکاگو کی اہم شخصیات میں سے ایک ہیں۔1980 کی دہائی میں وہ شکاگو کے میئر ہیرلڈ واشنگٹن کے لیے کام کر چکی ہیں۔محترمہ جیرٹ جان پوستا کے ساتھ مل کر اوباما کی انتظامیہ کی شکل ترتیب دیں گی۔
| تبدیلی کے عمل کے نگراں:جان پوستا |
1998 سے 2001 تک کلنٹن کے چیف آف آرمی سٹاف رہنے والے جان پوستا کے پاس وہائٹ ہاؤس کا بے پناہ تجربہ ہےکلنٹن کے دور میں دو سال بعد ہی وہائٹ ہاؤس کو خیر باد کہہ کر انہوں نے بائیں بازو کا ٹھنک ٹینک بنایا جس کا نام سینٹر فار امریکن پروگریس ہے۔انہوں نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اوباما کی ٹیم تشکیل ہونے کے بعد وہ واپس اپنی تنظیم میں چلے جائیں گے۔ اس سال کے اوائل میں انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ ان کے خیال میں ڈیمو کریٹ کے نئے صدر کی ترجیحات کیا ہونی چاہیئیں۔
اوباما کی انتخابی مہم کے کمیونکیشن ڈائریکٹر رابرٹ گبس اوباما کے قریبی ساتھیوں میں جانے جاتے ہیں۔وہ اوبامہ کے پریس سکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔مسٹر گبس نے 2004 میں جان کیری کے پریس سیکریٹر کے فرائض بھی انجام دیے تھے۔ |