مختار مائی میروالہ |  |
(اس ہفتے سے آپ مختار مائی سے سوالات بھی کرسکتے ہیں۔ ہم ان میں سے منتخب سوالات انہیں بھیج کر ان کے جوابات اسی صفحے پر شائع کریں گے۔)
میں اور میری دوست نسیم صبح آٹھ بجے اسلام آباد کیلئے روانہ ہو پڑے جہاں سارک کے زیر اہتمام اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکیوں پر تشدد کے خلاف ایک سیشن میں بطور چیف گیسٹ بولنا تھا۔ جب جھنگ پہنچے تو بارش شروع ہو گئی اور اسلام آباد میں بھی بتایا گیا کہ بارش ہو رہی ہے۔ بارش کی وجہ سے سفر بہت لمبا ہو گیا۔ رات کو تقریباً دس بجے اسلام آباد پہنچے۔ راستے میں کھانا بھی نہیں کھایا تھا، کھاتے ہی سو گئے۔
صبح گیارہ بجے اٹھے، جلدی جلدی تیاری کر کے نیچے کانفرنس ہال میں پہنچے۔ کانفرنس شروع ہو چکی تھی۔ کانفرنس ہال بھرا ہوا تھا۔ کچھ لوگ سٹیج پر بیٹھے تھے جن میں سویٹزرلینڈ کے سفیر بھی تھے۔ چائے کے وقفے کے دوران بہت سے تنظیموں کے لوگوں سے، جو پشاور، مالاکنڈ، مانسہرہ، کوئٹہ، رحیم یار خان، راجن پور، ڈی جی خان اور ملتان وغیرہ سے آئے ہوئے تھے، ملے اور تھوڑی بات ہوئی۔ میں نے اپنی تقریر میں عورتوں اور بچوں کے حلاف تشدد اور زیادتی کو ایک ریاست کے خلاف جرم قرار دیا۔ بہت سے لوگوں نے حقوق کی مختلف قسموں پر بات کی مگر میں نے افسوس سے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں عورتیں اور بچے بنیادی اور انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ جہاں ستر فیصد آبادی کو روٹی، کپڑا ، چادر اور چار دیواری کے حقوق میسر نہیں ہیں، وہاں کون کون سے حقوق روئیں گے۔
 | کس کس کو روئیں گے؟  بہت سے لوگوں نے حقوق کی مختلف قسموں پر بات کی مگر میں نے افسوس سے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں عورتیں اور بچے بنیادی اور انسانی حقوق سے محروم ہیں۔  |
بعد میں ہم ’آج‘ ٹی وی کے سینٹر گئے۔ ’آج‘ ٹی وہ میں ہمارے ایک بھائی ملتان سے ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ اصرار کر رہے تھے کہ اپنی زندگی پر لکھی جانے والی کتاب سے متعلق انٹرویو دوں۔ مجھے فوراً اپنے گاؤں واپس ہونا تھا کیوں کہ ناروے سے آئے مہمان میرے گاؤں روانہ ہو چکے تھے۔ سٹوڈیوں میں طلعت حسین بھائی مسکراتے ہوئے داخل ہوئے۔ میں نے ان کے بارے میں اپنی دوست نسیم سے سنا تھا کہ وہ بہت ذہین، سمجھدار اور آل راؤنڈ میزبانی کرتے ہیں جو کہ بڑے بڑوں کو مشکل میں ڈال دیتا ہے۔ انٹرویو بہت خوشگوار ہوا جس سے مجھے احساس ہوا کہ طلعت حسین بھائی دکھی لوگوں کے لیے درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔
میروالہ پہنچے۔ دوپہر فون کی بیل پر آنکھ کھلی کہ ناروے والے مہمان ملتان میں ہیں اور اگلے دن آئیں گے۔ شام کو ملتان سے آئے ہوئے ساؤتھ پنجاب این جی او فورم S P N F کے مہمانوں سے ملے۔ بارش یہاں بھی ہورہی تھی۔ دیہاتوں میں کچی بستیوں کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔
آج اسکول میں میٹنگ تھی اور کلاسز کی کاکردگی کا جائزہ لیا کیوں کہ اگلے مہینے بچوں کے بورڈ کے امتحان ہونے ہیں۔ بچیوں سے ملی اور ان سے ان کے مسائل بھی سنے۔ اتنے میں مہمان آ گئے۔ بچوں نے ناروے کے مہمانوں کو پر جوش ویلکم کیا۔ شام میں مہمان کھانا کھانے کے بعد جانے لگے تو قریبی گاؤں سے آئے ہوئے بلو بھائی نے گانا شروع کردیا، جو ڈھولکی بجاتے ہوئے گیت گاتے ہیں۔ ہم سب لوگ بیٹھ گئے۔ S P N F سے آئے ہوئے مہمانوں نےمل کر سرائیکی گیت گائے۔ کچھ لڑکوں نے بھنگڑا شروع کر دیا۔ ناروے کے مہمان بہت خوش ہوئے اور وہ خود بھی بھنگڑا ڈالنے لگے۔ ہمارے کلچر میں بہت مٹھاس ہے۔
آج میرے پاس خان پور سے تین خواتین آئیں۔ ان میں سے ایک خاتوں کا بازو اس کی بہن کے دیور نے محض اس لئے کاٹ دیا کہ وہ اس کی بہن اور اس کی بھابی کو میکہ لے کر جا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر میں حیران رہ گئی کہ کلہاڑیوں کے بےتحاشا وار ہونے کے باوجود وہ معجزاتی طور پر بچ گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ باقی تمام گھر والوں اور اپنی بہن سے اجازت لے کر گھر جا رہی تھی مگر دیور سے اجازت نہیں لی تھی۔ اس لئے اس نے یہ گھناؤنا کام کیا۔
کل ہمیں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے دن کے موقع پر تقریب میں شرکت کرنا ہے۔ معلوم ہوا کہ سکیورٹی کے لیے وہ اے ایس آئی، اقبال آیا ہوا ہے جس نے میرے خلاف میروالہ چیک پوسٹ پر مارچ میں جھوٹی رپٹ درج کی تھی اور اسے کے علاوہ اخبارات میں میرے اور میری دوست کے خلاف بیان دیئے تھے۔ اسی کی وجہ سے مجھے ڈیرہ رینج کے پولیس افسر نے دھمکی دی تھی کہ خبردار حکومت تمہارے خلاف ہے، تم لوگوں کا وہ حشر کروں گا کہ سپریم کورٹ تک میں حمایت نہیں ہوگی۔ یہ ایک اے ایس آئی سے لے کر ڈی آئی جی تک کی بات ہے۔ ایسی باتیں ہم دونوں کو پریشرائز کرنے، ڈرانے دھمکانے کے لیے تسلسل سے کی جاتی ھیں تاکہ ہم حوصلہ ہار جائیں۔ مگر حق، سچ اور ظلم کے خلاف لڑنے سے اگر ہماری جان بھی جائے تو جائے۔ ان باتوں میں ایک اور دلچسپ بات آپ کو بتاتی چلوں کہ پچھلے سال جون میں ایک انشورنس کمپنی سے کچھ لوگ آئے اور مجھ سے اور میری دوست نسیم سے اصرار کرنے لگے کہ آپ دونوں لائف انشورنش کروائیں۔ ہمارے انکار کے باوجود انہوں نے کئی چکر لگائے اور آخر کار ایک دن مروت میں ہم نے دس دس ہزار کی بییمہ پالیسی کی حامی بھر لی۔
 | خود ہی اصرار، خود ہی انکار  ایک دن مروت میں ہم نے دس دس ہزار کی بییمہ پالیسی کی حامی بھر لی۔ چند مہینوں کے بعد انشورنس آفیسر آیا اور یہ کہہ کر صاف جواب دے گیا کہ ہماری ہیڈ برانچ نے آپ دونوں کی لائف انشورنس لینے سے انکار کر دیا ہے کیوں کہ پاکستان میں آپ دونوں کی زندگی کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔  |
چند مہینوں کے بعد انشورنس آفیسر آیا اور یہ کہہ کر صاف جواب دے گیا کہ ہماری ہیڈ برانچ نے آپ دونوں کی لائف انشورنس لینے سے انکار کر دیا ہے کیوں کہ پاکستان میں آپ دونوں کی زندگی کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ ہم نے کہا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے، ہماری قبر میں آنے والی رات باہر نہیں آسکتی اور باہر والی رات قبر میں نہیں آسکتی۔ خیر مجھے اقبال کی سکیورٹی پر اعتماد نہیں تھا سو ہم دونوں اکیلے ہی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے۔ بعد میں اگلی سکیورٹی ہمارے ساتھ رہی۔
 | بچوں کے پروگرام میں نہیں  ہمارے وزیر شیخ رشید صاحب نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کر دیا کہ کانفرنس میں بچے بیٹھے ہیں۔ اصل میں اقلیتوں کے سابق وزیر جے سالک اپنے ساتھ غریب بچوں کو بھی لائے تھے۔  |
اسلام آباد ہالی ڈے اِن ہوٹل میں انسانی حقوق کے عالمی دن کی کانفرنس میں پہنچے جہاں ہمارے وزیر شیخ رشید صاحب نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کر دیا کہ کانفرنس میں بچے بیٹھے ہیں۔ اصل میں اقلیتوں کے سابق وزیر جے سالک اپنے ساتھ غریب بچوں کو بھی لائے تھے۔
صبح کئی خواتین آئی ہوئیں تھی۔ ان میں سے ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی دوسری برادری میں اس کی پسند سے کر دی تو خاندان کے لوگوں نے ان لوگوں کو گھر سے نکال دیا ہے اور وہ بچاری در بدر ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہیں۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ہم لوگ بنیادی طور پر مسلمان ہیں مگر ذات پات کے چکر سے نہ نکلے۔ میل پر اکثر لوگ سوال بھیجتے ہیں، ساری شام ان کے جوابات دیتی رہی اور رات ہوگئی۔
دن بھر تنظیم کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیتے اور اسکول میں بچیوں کے اگلے سال کی پلاننگ کرتے رہے۔ اسی دوران کئی اور کیسز بھی سامنے آتے رہے جن میں بھکر سے خادم کی پسند کی شادی کا معاملہ، خان گڑھ سے ثمرین بی بی کی پسند کی شادی، محمود کوٹ سے آنے والی فیملی جن کے خلاف تھانہ محمود کوٹ میں ایم پی او کے تحت محض یہاں کے مقامی وڈیروں کے حکم پر بے بنیاد اور جھوٹا پرچہ وغیرہ۔ خیر میں اپنی دوست نسیم کے ساتھ ہنس رہی تھی کہ دیکھو اس دفعہ ہمارے پاس پسند کی شادی والی لڑکیاں آئی ہیں۔ لہذا اب تم بھی پسند کی شادی کر لو۔
(اس ہفتے سے آپ مختار مائی سے سوالات بھی کرسکتے ہیں۔ ہم ان میں سے منتخب سوالات انہیں بھیج کر ان کے جوابات اسی صفحے پر شائع کریں گے۔) |