BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عورت ہر جگہ ظلم کا شکار ہے‘

سولہ نومبر، دو ہزار چھ:

مختار مائی

امریکہ میں ہم پندرہ تاریخ کی شام میں پہنچے جبکہ ہمارے ہاں سولہ تاریخ ہوئی ہے۔ امریکہ میں سولہ تاریخ کو ہماری کئی ملا قاتیں تھیں۔ نیو یارک میں ایک بہت ہی اچھی خاتون لیا الٹر ہیں جو کہ اعلی تعلیم یافتہ، سچی اور کھری ہیں۔ پچھلے ایک سال سے میرے لیے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ ان کی دو بچیاں ماشاء اللہ ’گرل لرن انٹرنیشنل‘ تنظیم کی ذمہ دار سربراہ ہیں۔ یہ تنظیم دنیا میں تعلیم کے فروغ اور بین الاقوامی روابط کی اپنی نوعیت کی ایک منفرد تنظیم ہے۔

لیا الٹر صاحبہ بذات خود کاپی رائٹس کی وکیل ہیں۔ امریکہ میں قانونی معاملات میں میری معاونت بڑے احسن طریقے سے کر رہی ہیں۔ ان کی ذات میرے لیے قابل قدر ہے۔ تقریباً پورا دن ہمارا لیا صاحبہ کے دفتر میں گزرا۔ آمنہ جی بھی ہمارے ساتھ تھیں۔ شام میں لیا صاحبہ اور ’گلیمر میگزین‘ والوں نے مل کر ایک ڈِنر کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ڈِنر کے بعد ہم اپنے ہوٹل واپس آگئے کیونکہ تھکاوٹ اور نزلہ زکام کی وجہ سے میری طبعیت بوجھل سی محسوس ہو رہی تھی۔


سترہ نومبر، دو ہزار چھ:

صبح گیارہ بجے نیو یارک میں ایک رٹائیر پروفیسر خاتون سے ملاقات تھی، جس نے خواتین پر تشدد سے متعلق اخبارات میں آرٹیکل کی صورت میں بہت کچھ لکھا تھا۔ ان کے ہاں ہمارا ناشتہ تھا۔ ہم ان کے گھر پہنچے تو وہ دروازے پر خود ہمیں لینے آئیں۔ گھر میں ہم داخل ہوئے تو تین خواتین اور بھی موجود تھیں۔

ساری خواتین بزرگ تھیں۔ اس گھر میں ایک ملازم تھی جو نوجوان تھی۔ سب نے ہمیں ویلکم کیا۔ ناشتہ کی ٹیبل کے گرد سب بیٹھ گئے۔ ناشتہ کے دوران گفتگو ہوتی رہی۔ زیادہ تر بات چیت خواتین کے مسائل پر ہوتی رہی۔ خواتین کے حقوق کے بارے میں۔ قرآن مجید کے احکامات سے متعلق بھی بات ہوئی۔ اس انہوں نے خواتین کے حقوق کے متعلق قرآنی آیات کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ ناشتے کے بعد ہم ان کے گھر سے رخصت ہوئے اور واپس ہوٹل آ گئے۔ اور تھوڑے آرام کے بعد ہم ’گلیمر میگزین‘ کے آفس گئے جہاں ہماری ملاقات بنیادی طور پر فیشن کا پرچار کرنے والے ایدیٹر سے ہوئی جو ایک سال سے میری جماعت کی مدد کر رہے ہیں۔

میں ان کی بے حد شکر گزار ہوں۔ اس کے بعد ہم اخبار نیو یارک ٹائمز کے دفتر گئے۔ وہاں ہم نکلس ڈی کرسٹوف سے ملے۔ یہ وہ انسان ہیں جنہوں نے میرے سکول کے بارے می اپنے آرٹیکل میں لکھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میرا سکول بند ہونے کے قریب تھا۔ لیکن اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ اور کامل یقین کے ساتھ سلائی کرھائی کر کے میں سکول کو چلا رہی تھی مگر کافی مشکلات کا سامنا تھا۔

کرسٹوف نے آرٹیکل لکھا تو لوگوں نے میرے سکول کے متعلق پڑھا۔ میرے سکول کے لیے چندہ یعنی ڈونیشن دس پچاس اور سو کے چیک نکلس ڈی کرسٹوف کے دفتر بھیجنے لگے۔ کرسٹوف صاحب نے وہ رقم اکھٹی کر کے مرسی کور تنظیم کو دی جس کے پاس میرے سکول کے لیے تین سال کا خرچہ ایک باقاعدہ بجٹ پرپوزل کے تحت جس سے میرا سکول اب بہتر طریقے سے چل پڑا ہے۔ انشا اللہ آئندہ بھی لوگ میرے سکول کو سپورٹ کرتے رہیں گے اور یہ سکول رہتی دنیا تک چلتا رہے گا۔


اٹھارہ نومبر، دو ہزار چھ:

فلم خواتین پر مشتمل کانفرنس شروع تھی جو کہ تین دن جاری رہی مگر میری طبیعت اتنی نا ساز ہوئی کی میں بخار کی وجہ سے صحیح طریقے سے شرکت نہ کر سکی۔ سارا دن ہوٹل میں بستر پر گزارا۔


انیس نومبر، دو ہزار چھ:

صبح گیارہ بجے کانفرنس ہال میں کانفرنس کے شرکاء سے کہ میں نے اپنی فلم بینوں سے جو سو سے زائد ملکوں سے تشریف لائیں تھیں سے معذرت کی کہ صحت کی خرابی کی وجہ سے میں شرکت نہ کر سکی۔


بیس نومبر، دو ہزار چھ:

زکام بخار کی وجہ سے گلے میں شدید تکلیف محسوس ہو رہی تھی مجھ سے چلا نہیں جا رہا تھا اور دوائی کا بھی کوئی خاں اثر نہیں ہو رہا تھا۔ خیر ہم ٹرین پر واشنگٹن روانہ ہو گئے جہاں سٹیٹ ڈپارٹمینٹ سے متعلقہ فلم فیسٹیول میں میری چار سالہ جدو جہد پر مشتمل ڈاکومنٹری کی سکریننگ تھی۔ تقریباً کوئی تین بجے دوپہر کو ہم واشنگٹن پہنچے۔ مجھ سے سانس بھی نہیں لیا جا رہا تھا۔ میری دوست نسیم کو بھی بخار ہوگیا تھا مگر وہ ہمت سے کام لے رہی تھی اور میری ہمت جواب دے گئی تھی۔ ہوٹل میں پہنچ کر نسیم نے پہلے مجھے بھاپ دلوائی اور ویکس کی مالش کی مگر مجھے پھر بھی معلوم نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔

شام کو مجھے سکریننگ پر جانا تھا۔ طبیعت سنبھلی تو میں پانچ دس منٹ کے لیے چلی گئی جہاں سٹیٹ ڈیپارٹمینٹ کے حکام نے میری اعزاز میں عشائیہ دیا۔ سارے لوگ مجھے پیار اور محبت سے ملے۔ میں نے سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکومینٹری سٹارٹ ہوتے ہی واپس ہوٹل روانہ ہو پڑی۔ راستے میں دوائی لی اور دوائی کھاتے ہی نیند آگئی۔


اکیس نومبر، دو ہزار چھ:

صبح ہوئی تو طبیعت کافی بہتر تھی۔ دس بجے وائٹل وائیسز تنظیم کے آفس میں جانا تھا جہاں کانگریس، سنیٹ اور سٹیٹ ڈپارٹمینٹ میں شامل خواتین کے گروپ سے میٹنگ تھی۔ یہاں بھی جب میں پہنچی تو خواتین ڈاکومینٹری دیکھ رہی تھیں۔ بعد میں سب نے مجھ سے بات چیت کی سکول کے بارے میں پوچھا۔ میری تنظیم مختار مائی ویمنز ویلفیئر کے تحت حل ہونے والے خواتین کے مسائل اور ملکی سطح پر خواتین کی مجموعی حالت پر تبادلہ خیال کیا۔ دو ڈھائی گھنٹے کی ملاقات کے بعد ’این ای ڈی‘ کے ولسن لی صاحب ہمیں لینے وہاں پہنچ چکے تھے۔ اس کے ساتھ ہم ’این ای ڈی‘ کے نئے دفتر گئے جہاں این ای ڈی کے صدر اور نائب صدر مسٹر برائن اور دیگر حکام سے ملاقات کے بعد دوپہر کا کھانا بھی کھایا۔ ہمیں کئی دنوں سے پاکستانی کھانا نہیں مل رہا تھا۔ بھوک سے ہمارا برا حال تھا کیونکہ ہم پاکستانی کھانوں کے علاوہ کچھ نہیں کھاتیں سوائے فروٹ کے۔

خیر این ای ڈی والوں نے ہمارے لیے پاکستانی فوڈ کا انتظام کیا۔ کھانا کھانے کے بعد این ای ڈی کے حکام سے ان کے دیے ہوئے پراجیکٹ سے متعلقہ اور ’رائزنگ‘ کے سیمینار اور کانفرنس خواتین کے قانونی حقوق کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

ولسن لی انتہائی شریف النفس انسان ہیں۔ بہت زیادہ عزت واحترام اور نفاست سے انہوں نے ہمیں دفتر کے مختلف حصوں کا وزٹ کرایا۔ لنچ انتہائی خوش گوار موڈ میں ہوا۔ سب لوگوں نے دنیا میں خواتین کو درپیش چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا اور یہ حقیقت بھی ہے۔ عورت جہاں پر ہے وہ مغرب کے ممالک میں ہے یا پھر مشرق میں ہر جگہ پر تشدد و زیادتی اور ظلم کا شکار ہے۔ یہ سلسلہ ازل سے جاری وساری ہے۔ ہمیں ولسن لی گیٹ تک چھوڑنے آئے۔ اس کے بعد ہم وائٹ ہاؤس کے قریب ایک بلڈنگ میں انمیٹر مائیکل جی گوزک سے ان کی دعوت پر ملنے آئے۔ بہت اچھے اور بھلے انسان ہیں۔ انہوں نے بڑی دلچسپی سے سکول کے بارے میں پوچھا اور میر والہ میں موجودہ فلاح و بہبود کے کاموں کے بارے میں معلومات لیں اور خوشی کا اظہار کیا۔ ہمت و حوصلہ کا مظاہرہ کرنے پر تعریف کی اور سکیورٹی کے حوالے سے پوچھا تو میں نے بتایا کہ میروالہ میں ایک عارضی پولیس چوکی ہے۔ مگر چار سال سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پولیس چوکی کو کنفرم کیا جائے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مائی بلاگمائی بلاگ
’اب یہ میری زندگی نہیں رہی‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’دردناک سچائی روز در پر کھڑی ہوتی ہے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’ظلم کے خلاف لوہے کی دیوار بن جائیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد