| یکم جولائی: سائیکل کی ایجاد ترکیب کے ساتھ |
بیڈ کی حد تک ٹھیک تھا، کتابوں کی الماری بھی چلو قبول ہے لیکن پوری کی پوری سائیکل۔ یہ ذرا کم ہضم ہونے والی بات لگی۔بات کچہ یوں ہے کہ مغرب میں کئی ایسے سٹور ہیں جہاں سے آپ اگر چیزیں خریدیں تو وہ ’اسیمبل‘ یا جوڑنی آپ کو خود ہی پڑتی ہیں۔ حال ہی میں میں نے اور میری بیوی نے فیصلہ کیا کہ اب ہم دونوں جیون ساتھی اب زندگی دو پہیوں کی طرح، (الگ الگ سائیکلوں کے) ساتھ ساتھ گزاریں گے۔ سو انٹرنیٹ پر بیٹھے اور سائیکلوں کا آرڈر دیا۔ ایک دن گھنٹی بجی اور پارسل آیا۔ لانے والے سے گزارش کی کہ اندر پہنچا دے مگر اس نے ’یہ اتنا بھاری نہیں ہے‘ کہہ کر اپنا رستہ لیا۔ خیر سائیکل کو کھولا تو روح فنا ہوئی۔ پہیئے الگ اور ہینڈل الگ۔ گدی وہاں اور لائٹیں یہاں۔ مستری صدیق یاد آیا کہ سائیکل کی چین کو تیل لگوانے کے لیئے بھی اس کے پاس جاتے تھے اور وہ پورا پورا دن سائیکل رکھ کر اسے اوور ہال کرتا تھا۔ خیر بیوی نے ’مینول‘ جسے میرا بیٹا کنسٹرکشن کہتا ہے پڑھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ نٹ بولٹس جڑنا شروع ہوئے۔ معاملہ اٹکا جا کے ہینڈل کے ’چمٹے‘ اور اگلے پہیے کو جوڑ پر۔ نٹ کھل نہیں رہا تو اور جو اوزار ڈبے میں ساتھ آئے تھے وہ ایسا لگتا تھا کہ اسے کھولنے کے لیئے نہیں۔ خیر جیسے تیسے کر کے ایک طرف سے کھول لیا مگر دوسرا کہ کھلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ تھک ہار کر بیٹھے اور یہ پروگرام بنانے لگے کہ بازار سے جا کر نیا اوزار لے آتے ہیں کہ اتنے میں پیکنگ پر نظر پڑی جہاں لکھا تھا کہ اگر سائیکل جوڑنے میں دشواری ہو تو اس نمبر پر فون کریں۔ جھٹ سے فون کیا، بہت ساری آٹومیٹک آوازوں کے بعد ایک خاتون آئی۔ اسے مسئلہ بتایا تو وہ ہنسنے لگی اور فوراً کہا کہ کہیں کوئی نٹ کھول تو نہیں لیا۔ جواب ہاں تھا۔ کہا فوراً بند کر دیں۔ اور صفحہ نمبر گیارہ پر جائیں۔ گیارہ کھولا تو ادھر کا نقشہ ذرا مختلف تھا۔ اس خاتون نے بتایا کہ مینول میں دو طرح کے آپشن ہیں اور ہم نے یہ جو پتلی سی چیز دی ہے اسے پہیے اور چمٹے اور چمٹے کے سوراخوں کو ساتھ ملا کر گزارے اور بس نیچے کی طرف دبا کر کلک کر دیں۔ سائیکل تیار۔ اپنے آپ پر ہنسے بھی اور حیران بھی ہوئے۔ ارے یہ تو سائیکل بن گئی۔ جس نے سائیکل ایجاد کی ہو گی وہ ہماری خوشی کا بخوبی اندازہ کر سکتا ہے۔ یہ سب کیا دھرا آئیکیا کا ہے جس نے انیس سو چھپن میں پہلا فرنیچر بنایا جسے گھر جا کر جوڑا جا سکتا تھا۔ پھر کیا تھا ہر چیز ہی اس طرف جانے لگی۔ اب تو سنا ہے کہ اب گھر تک کمپنی سے پیک آیا کریں گے اور آپ خود ہی اسے کھول کر بنا لیا کریں گے۔ فائدہ: لینٹر ڈالنے کی دیگ نہیں دینے پڑے گی۔
ثناء خان، کراچی: کمال ہو گیا۔ آپ کی خوشی کا اندازہ ہو رہا ہے۔ واہ بھی اگر سائیکل کی طرح گاڑیاں بھی گھر پر بنائی جائیں تو کتنا اچھا ہو۔ جب دل کرے پرزے پرزے کردو، جب چاہے جوڑ کر چلانا شروع کر دو۔ اعجاز احمد، گوجرانوالہ: چچا شمیم، گورے کا سارا کام سسسٹم کے تابع ہے جس سے میں اتفاق کرتا ہوں۔ کچھ کام انسانوں پر چھوڑا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی کامن سینس کو استعمال کریں اور اسے پالش کریں۔ پاکستان آ کر جس بے ترتیبی کا شکار ہوا ہوں، دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جس طرح اسلام آباد ائر پورٹ پر کسٹم آفس نے میرا ائر کنڈیشنر مجھ سے ہتھیایا وہ ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ بقول میرے نو سالہ بیٹے کے ’بابا ائیر پورٹ پر اس شخص نے ہمیں کیوں لوٹا‘۔ میرے پاس اس کا جواب شاید ساری زندگی نہ بن پائے۔ |