ک سے کتا، ق سے قینچی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے اردو سپیکنگ (جن کی مادری زبان اردو ہے) دوستوں کے پاس میری اردو زبان جاننے کا صرف ایک ہی بیرومیٹر ہے۔ اور وہ ہے کہ ’تم ذرا ک اور ق میں فرق بتاؤ‘۔ میں کتنا ہی بولوں کہ بھیا فرق بہت واضح ہے ایک کو لمبے ڈنڈے سے لکھتے ہیں اور دوسرے کا پیٹ گول کرتے ہیں لیکن وہ میری ایک نہیں مانتے۔ ’اچھا اب یہ بتاؤ کہ تم کتے کا ک کہاں سے نکالتے ہو اور قینچی کا کہاں سے‘۔ بھئی اور کہاں سے نکالوں جہاں سے سب نکالتے ہیں یعنی کہ منہ سے۔ اب آپ اسے زبان کہیں یا حلق۔ ہے تو منہ ہی۔ لیکن میرے اردو زبان بولنے والے دوست مجھ پنجابی کو بس یہیں پہ گھیرے رکھتے ہیں۔ اکیلے میں بھی کئی مرتبہ کوشش کی اور اگرچہ کتا اور قینچی دونوں ہی کاٹنے کے کام آتے ہیں لیکن پھر بھی چاہے ان میں اپنے کانوں میں ہی سہی مگر صاف فرق محسوس کیا۔ لیکن بس میرے دوست نہیں مانتے۔ ایلیا میں اب تمہیں کیسے سمجھاؤں۔ بہت سوچا کہ کوئی ترکیب کروں لیکن کچھ نہیں سوجھا، سوائے جارج برنارڈ شا کے اس اقتباس سے۔ ایک مرتبہ جارج برنارڈ شا نے بھی کتوں اور زبان کے متعلق کچھ اس طرح ہی کہا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ برنارڈ شا نے انگریزی لفظ کینائن (کتے یا کتوں سے متعلق) کے متعلق نکتہ اٹھایا کہ اسکا تلفظ کے۔نائن (cay-nine) اپنایا جائے نہ کہ کنائن (ca-nine) جیسا کہ عام طور پر انگریزی میں کہا جاتا تھا۔ جب ان سے کہا گیا کہ پتا نہیں آپ نے یہ نکتہ کیوں اٹھایا ہے جبکہ سب کو معلوم ہے کہ لفظ کنائن (ca-nine) کس طرح پکارا جاتا ہے۔ برنارڈ شا کا جواب تھا کہ میں ہمیشہ چیزیں اسی طرح پکارتا ہوں جیسا کہ انہیں وہ لوگ ادا کرتے ہیں جو انہیں پیشہ وارانہ طور پر اپنی زبان میں استعمال کرتے ہیں۔ میرے دندان ساز ہمیشہ اسے کنائن (ca-nine) کہتے ہیں‘۔ کسی نے فوراً انہیں کہا کہ ’سو، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے دندان ساز امریکی ہوں گے‘۔ جارج برنارڈ شا کا جواب تھا ’یقیناً، تمہارا کیا خیال ہے کہ چھہتر سال کی عمر میں میرے سارے دانت کیوں سلامت ہیں‘۔ کیا اردو کی نشوونما اور بقا میں کچھ ایسا ہی کردار ’پنجاب کے دیہاتیوں‘ کا بھی نہیں ہے۔
قمر زیدی، ٹورنٹو: جاوید اقبال ملک، چکوال: ساحل: اعجاز احمد، ٹورنٹو: سجاد احمد، لاہور:
پاکستان بہت یاد آ رہا ہے۔ کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ وجوہات کا ایک پورا پلندہ ہے۔ ساتھ ساتھ کچھ موڈ بھی خراب ہے، بلکہ غصہ ہے شاید۔ کسی ایک پر نہیں سب پر۔ ان لوگوں پر جن کی زبانیں بند ہیں اور ان لوگوں پر بھی جن کی بہت زیادہ کھلی ہیں۔ وہ جو سب دیکھ کر خوش ہیں اور وہ بھی جو آنکھیں بند رکھ کر خوش رہنا چاہتے ہیں۔ سڑکوں پر آ کر جانیں دینے والوں پر بھی اور کمروں میں بند رہ کر گھٹ کر مرنے والوں پر بھی۔ ’کراچی میں بم دھماکہ ہو گیا، کتنے لوگ مر گئے، اوہ۔ آج کھانے میں کیا لیں گے۔ بریانی پکا لیں‘۔ گھن آتی ہے۔ پاکستان بہت یاد آ رہا ہے۔ گرمی ہے، بہت گرمی ہے۔ لوگ مر رہے ہیں، پینے کو پانی نہیں اور جو ہے وہ بھی زہر اور ایسے میں ’ارباب رہے گا یا ایم کیو ایم۔ کون کس کی سمری پر دستخط کرے گا‘۔ حکومت نے گزشتہ چار سال میں القاعدہ سے تعلق رکھنے کے شبہے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک کیے اور اس سے زیادہ تعداد میں گرفتار۔ کہاں کسی اور ملک میں؟ ٹمبکٹو میں یا کہیں اور۔ اپنے ہی ملک میں ہزاروں ہلاک اور گرفتار۔ بمباری، گھر تباہ، اموات، بے مکانی۔ یہ سب کچھ ذہنوں سے نکل سکے گا۔ یا ’وقت ہر زخم ہر غم کو بھلا دیتا ہے‘۔ کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ یہ سوچے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کا ذکر، حکومت ناراض۔ جہادیوں کی بے وجہ اور لا حاصل جنگ پر تنقید، جہادی ناخوش۔ کیا کوئی بیچ کا راستہ نہیں۔ کیا مذہب کے لیئے دوسرے کو مارنا ضروری ہے۔ کیا میں اپنے اچھے اخلاق سے کسی کو متاثر نہیں کر سکتا۔ میں کیوں اپنے ہمسائے کو خوش دیکھ کر خوش نہیں رہ سکتا۔ یا اس کی خوشی سے مجھے آخر کیا مسئلہ ہے۔ کیا وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔ اگر پاکستان میں کسی بدامنی، کسی برائی یا اس کے کسی پاکستانی لالچی حکمران کی کارستانی یا اسکی ملکی مفاد کے خلاف کسی پالیسی پر اگر مجھے غصہ آتا ہے یا کسی نام نہاد جہادی کی قتل وغارت گری سے میرا خون کھولتا ہے تو میں ملک دشمن کیسے ہو گیا۔ یا مجھ پر ملک کے خلاف ہی لکھنے کا الزام کیوں۔ یہ دکھ ہے، غصہ ہے، شرمندگی ہے اور دعا ہے۔ یہ دعا ہے کوئی گلہ نہیں میری آرزو ہے خدا کرے میری زندگی اک گلاب پاکستان بہت یاد آ رہا ہے۔ (آپ کو لگتا نہیں کہ بہت ساری چیزیں اکٹھی دماغ میں گھس گئیں ہیں)
جاوید اقبال ملک، چکوال میں سمجھتا ہوں کہ آپ بہت سکون میں ہیں کم از کم رات کو نیند تو پوری کر سکتے ہیں، یہاں تو نہ رات کو سکون ہے نہ دن کو۔ ہر وقت یہ خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بس یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب کوئی آئے گا اور گن پوائنٹ پر سب کچھ لے جائے گا۔ محمد نواز، جاپان بھئی جب تک ہمارے دلوں سے کینہ اور حسد نہیں نکلتا دنیا اسی طرح دکھوں کا گھر ہو گی۔ شاہد سعید، شکاگو بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران اور سیاسی جماعتیں یہ جانتی ہیں کہ کس طرح حکومت میں رہا جاتا ہے اور کیسے عوام کو مسائل میں الجھا کر رکھنا چاہیئے تاکہ ان کی حکومت چلتی رہے۔ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو اسقدر الجھا دو دو کہ عوام سبح سے شام تک اپنی جوتیاں اسے میں گھساتی رہے۔ محمد شیخ، ناظم آباد آپ کا خون جلنا بالکل بجا ہے مگر جو آپ بات کر رہے ہیں نہ وہ ایک تہذیب یافتہ معاشرے کی ہے۔ اب دیکھیں نہ کراچی میں دھماکہ ہوا اور ہوتے ہی رہتے ہیں مگر لوگوں کی زندگی پہ اس کا کیا اثر پڑ رہا ہے کسی پہ بھی نہیں۔ ذوالفقار علی، کینیڈا آپ کی بات تو میرے دل کی آواز ہے شاید۔ کتنے دنوں سے میں یہی سوچ رہا تھا کہ کوئی اور بھی اس بات کو ایسے ہی سوچتا ہے یا پھر میں ہی ہوں۔ بے شک ہم لوگ بے حس ہو چکے ہیں اور بھول چکے ہیں کہ ہم کیا ہیں۔ شاید بے حسی ہی ان تمام واقعات کی اصل وجہ ہے۔ ثنا خان، کراچی پاکستان کو آپ یاد رہے بس بات اتنی سی ہے۔ خالد علی، کینیڈا آپ سے متفق ہوں۔ اور جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ ہمیں بھی ہمیشہ غصہ دلاتی ہیں۔ سیدہ شازیہ، کینیڈا ظاہر ہے کہ جب اتنے مسائل سے روز سامنا ہو گا تو دماغ میں ہر طرح کی چیزیں گھسیں گی۔ جن مسائل سے بالخصوص پاکستان کو سامنا ہے اس میں پاکستان میں رہنے والوں کو داد دینی چاہیئے۔ نجم عباسی، کینیڈا شمیم صاحب، یہ ساری باتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ آپ کے دل میں بھی وہی تڑپ ہے جو ہر صاحب اقدار کے دل میں ہونی چاہیئے۔ اور پاکستان کے لیئے کوئی کسی نہ کسی حوالے سے سوچے۔ فرخ مقصود، لاہور جو بھی کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔ میں جب بھی اس طرح سوچتا ہوں تو برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔ ہم لوگ بے حس ہو چکے ہیں۔ اب جتنا اس بارے میں بات کریں گے اتنا بلڈ پریشر ہائی ہو گا۔ ڈاکٹر محمد حسن، فرانس بد قسمتی سے آج کل کے دور میں شیطانی قوتوں کا غلبہ ہے اور ان کا اثر زندگی کے میکرو لیول سے لے کر مائکرو لیول تک ہے۔ جس کی وجہ سے ہر شخص کسی نہ کسی ٹینشن میں مبتلا ہے۔ امجد بٹ، سیالکوٹ عارف صاحب جن کے پاس اختیار ہیں وہ نمبر ون کی طرح ہیں اور باقی زندہ لاش بن گئے ہیں۔ عدنان محمد، لندن سچ پوچھیں تو میرے دماغ میں بھی بہت ساری چیزیں گھس گئی ہیں۔ آپ کا یہ بلاگ پڑھ کر میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ پاکستان کو صحیح راہ پر چلائے۔ آمین۔ نوید میمن، ملیشیا بالکل صحیح عکاسی کی ہے۔ نامعلوم، پاکستان آپ کا دماغ خراب ہے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||