BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھئی یہ کیا ہو رہا ہے!

 لیانارڈو ڈاونچی کی مشہور پینٹنگ ’دی وٹروین مین‘
لیانارڈو ڈاونچی کی مشہور پینٹنگ ’دی وٹروین مین‘: کیا اب انسان کی شکل بدل جائے گی؟
بہت ڈر کی بات ہے۔ انتہائی ڈر کی۔ کپکپی سی آ رہی ہے۔

کیا ہو کہ جسم کے حصے نٹ بولٹ کی طرح اتار کر دوبارہ لگائے جا سکیں۔ اور جو لگے ہوئے بھی ہیں انہیں یہاں وہاں فکس کیا جا سکے۔

سائنسدان آج کل اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایک امریکی کنسلٹنٹ ڈاکٹر پال براؤن نے برٹش میڈیکل جرنل میں ’خدا کے نام ایک خط‘ میں یہاں تک لکھا ہے کہ کھڑے رہنے اور سیدھا چلنے سے گھٹنے اور جوڑ کمزور ہوتے ہیں اس لیئے ایسا نہیں ہو سکتا کہ انہیں کسی اور اینگل یا زاویہ سے لگا دیا جائے۔

سائنسدان سمجھتے ہیں کہ قدرتی طریقے سے بننے والا جسم جدید دور کی ضروریات کے مطابق نہیں اور اس میں تبدیلی ہونی چاہیئے۔

انگلیوں کے پوٹوں یا فنگر ٹپس کا سائز ذرا چھوٹا ہو تاکہ پام ٹاپ یا بلو بیری کے چھوٹے کی بورڈ کو آسانی سے استعمال کیا جا سکے۔

بات یہاں تک ہوتی تو ٹھیک تھا۔ لیکن اب یہ ذرا بیلٹ سے نیچے تک چلے گئی ہے۔ ڈاکٹر براؤن کہتے ہیں کہ انسانی جینیٹلز (شرم گاہیں) بغل میں بنا دی جائیں تاکہ یہ ان اعضاء سے دور رہیں جو ’ایکسکریشن‘ یا اخراج کے کام آتے ہیں۔ یہ سب کچھ صحت عامہ کے پیشِ نظر سوچا جا رہا ہے۔

او سائنسدانوں تمہارا بھلا ہو۔ (اگر کسی نے سب کے سامنے ڈیوڈرنٹ لگانا ہو تو وہ کیا کرے)۔

’خدا کے نام ایک خط‘
 کھڑے رہنے اور سیدھا چلنے سے گھٹنے اور جوڑ کمزور ہوتے ہیں اس لیئے کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ انہیں کسی اور اینگل یا زاویہ سے لگا دیا جائے؟
ڈاکٹر پال براؤن

اسی طرح کہا گیا ہے کہ انسان کے دو دل اور دو جگر ہونے چاہیں۔ تاکہ اگر ایک دل کی شریانیں بادام و روغن کھانیں سے بند ہو جائیں تو دوسرا کام کرتا رہے۔

جگر کا بھی یہی حال ہے لیکن دو جگروں کی ضرورت کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے پڑی ہے۔ یعنی اگر ایک پر بوجھ پڑے تو ’سپیئر‘ استعمال کریں۔

اب یہ آپ پر ہے کہ آپ ’تائیوان کا لیں، جاپان کا یا جینیئن‘۔

ایک برطانوی اخبار میں تو یہ بھی رپورٹ ہوا کہ بوڑھے ہونے کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ لوگ جلدی جلدی اپنی چھوٹی سی جوانی میں جو کرنا ہے کر لیں۔ نا کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیئے مستقبل کا انتظار کرتے رہیں۔

یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ جسم کے اعضا اتار کر دراز میں رکھے جا سکیں اور جب چاہے واپس لگائیں جائیں۔ ’آپ اپنی ٹانگ کسی اور کو دے دیں تاکہ وہ بازار جا کہ آپ کے ناپ کی پتلون لے آئے اور آپ مزے سے ٹی وی دیکھتے رہیں‘۔

بارہ انگلیوں کی بھی باتیں کہی گئیں کیونکہ بارہ دو، تین، چار اور چھ پر تقسیم ہو جاتا ہے اور دس صرف دو اور پانچ پر۔

پتہ نہیں مستقبل میں ہم کیسے ہوں گے۔ ڈر لگ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہماری تصویریں بچوں کو ’ڈریگن‘ بتا کر دکھایا کریں۔

آپ کیا کہتے ہیں:

طارق علی، پاکستان
اب ڈاکٹروں کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ان کے لیئے یہ مشورہ ہے کہ کہیں وہ خود ختم نہ ہو جائیں کیونکہ یہ خدا کے قانون میں دخل اندازی ہے۔ میرا یقین ہے کہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

جاوید، امریکہ
سب ممکن ہے۔ میں جب بچہ تھا میرے ایک بزرگ تھے جو خاصے پڑھے لکھے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جو کچھ انسان کے ذہن میں آتا ہے وہ سب کچھ کرنا ممکن ہوتا ہے۔ یہ ذہن میں آتا ہی اس لیئے ہے کہ اس پر عمل ہو سکتا ہے۔ میں اس کی بہت سی مثالیں پہلے ہی دیکھ چکا ہوں۔

عائشہ، جرمنی
یہ بالکل بیوقوفی ہے۔ اللہ نے ہر چیز ٹھیک جگہ بنائی ہے۔ ایک دن آپ کو بھی پتہ چل جائے گا۔ اپنا وقت اس طرح نہ ضائع کریں۔

ظفر، آسٹریلیا
اللہ نے انسان تو کیا پوری کائنات کو بالکل مکمل اور متوازن بنایا ہے اور کسی بھی قدرتی کام میں ردوبدل خود انسان کے لیئے نقصان دہ ہے۔

ثناء، کراچی
یہ سارے ڈاکٹروں کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اب تک تقریباً بہت کچھ کر لیا ہے سائنس نے، اب ان کو عجوبے بنانے ہیں، نمونے۔ ان ڈاکٹروں کو چاہیئے کہ خدا سے کہیں کہ اے خدا ہمارا دماغ کسی گدھے کو لگا دے ام از کم اس کا دماغ چل پڑے۔

عبدالرحیم، متحدہ عرب امارات
میرا ئال ہے کہ یہ سب ’فول‘ ہے۔

محمد نجیب، حیدرآباد
یہ سب بہت اچھا ہے اور اسے رکنا نہیں چاہیئے۔

ریاض آفریدی، فیصل آباد
آفرین ہے بھئی اس قسم کے اقتباسات کہاس سے مل جاتے ہیں آپ کو۔ دور نہ جائیں اپنے اردگرد دیکھ لیں، کسی لینڈ سکیپ، کسی پورٹریٹ کو خواہ وہ کسی بھی ایبسٹریکٹ آرٹ کا نمونہ ہو انسپائر وہ نیچر سے ہی ہوتا ہے۔ انسان کی شکل تو نہیں بدلنے لگی کہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہونے لگا کہ ناک کی جگہ پر کان ہو، منہ کی جگہ انسان کان سے سونگھے، ناک سے کھائےمنہ سے سنے، داڑھی کے بال سر پر ہوں اور سر کے بال بغلوں میں۔

اشرف سیعد، کینیڈا
اللہ کے کام میں دخل اندازی نہیں ہونی چاہیئے۔

حامد مروت، پاکستان
میرے خیال میں یہ خدا کے ساتھ ایک مذاق ہے۔

ڈاکٹر وسی اللہ شنواری، برطانیہ
میں سمجھتا ہوں کہ انسان ایک کامل تخلیق ہے اور اس میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں ہونا چاہیئے۔ فل سٹاپ۔ ہاں، میں طبی سائنس سے سپیئر جگر اور دل پر اتفاق کرتا ہوں جو اگلے دس، پندرہ سال تک ہو جانا چاہیئے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیئے پنکریاس (لبلبہ) پہلے ہی برطانیہ میں دستیاب ہے۔ یہ بالکل قبول ہے اور مناسب بھی اور اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

فیضان، گجرات
بڑا فنی لیکن بکواس ہے۔

وقاص ملک، راولپنڈی
قدرت سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔

نجم کاظمی، امریکہ
جو باتیں آپ نے لکھیں ہیں شاید بہت سے لوگوں کو صحیح لگیں لیکن وقت ثابر کرے گا کہ جو اعضاء جہاں لگے ہیں وہ اس کی مناسب اور بہترین جگہ ہے جو قدرت نے مقرر کی ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد