BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 June, 2006, 15:16 GMT 20:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
براہمن بہروپیا


براہمن بہروپیا، چودہ جون



جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔

حیدرآباد سے واپسی کے وقت ہوائی اڈے پر دو دلچسپ خواتین سے پالا پڑا۔ پہلی خاتون امریکی تھیں۔ امیگریشن افسر کی فضول پوچھ گچھ سے گھبرا کر جب وہ کمرہِ انتظار میں داخل ہوئیں تو نجانے کیوں میرا معصوم چہرہ نظر آیا۔ میری طرف لپکیں اور مجھے ایسے لہجے میں مخاطب کرنے لگیں جس میں شاید ذہنی طور پر معذور بچوں سے بات کی جاتی ہے۔ اونچی آواز اور انگریزی میں ایک ایک لفظ تلفّظ کے ساتھ ادا کرتے ہوئے کہا: کیا آپ انگریزی بولتے ہیں؟

میں بےاختیار ہنس پڑا۔ جی ہاں، میں نے کہا۔ ویسے انگریزی ہندوستان کی سرکاری زبان ہے۔ ان کے چہرے پر اطمینان کے آثار آئے۔ پوچھا: اب کہاں جانا ہے؟ میں نے کہا: یہیں بیٹھ کر جہاز کا انتظار کرنا پڑے گا۔ کہنے لگیں: شکر ہے آپ مل گئے۔ میں تو اس ہوائی اڈے کی بھول بھلیوں سے گھبرا گئی تھی۔ آپ کو دیکھ کر تقویت ہوئی۔ آپ کے انداز سے لگتا ہے جیسے آپ اس جگہ سے خوب اچھی طرح واقف ہیں۔

میں نے قہقہے کو لگام دی۔ بہت خوب! ایک پاکستانی جو زندگی میں پہلی دفعہ ہندوستان آیا ہے وہ امریکی آنکھوں کو مقامی باشندہ معلوم ہوتا ہے۔ انجانے میں امریکی خاتون نے کیسے پتے کی بات کر ڈالی۔

کچھ منٹوں بعد میں کمرہِ انتظار میں واقع واحد دوکان سے نکل رہا تھا تو کسی نے انگریزی میں کہا: بہت مہنگی دوکان ہے۔ میں نے نظر اٹھائی تو معلوم ہوا کہ مجھ سے مخاطب خاتون ہندوستانی اور ضعیف ہیں۔ جی ہاں، میں نے کہا۔ ان کے دوسرے سوال نے مجھے کلین بولڈ کردیا۔ انگریزی میں پوچھنے لگیں: آپ کی ذات کیا ہے؟

چند لمحوں کو مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دوں۔ کیا ہندوستان میں یہ سوال عام ہے، جیسے کسی کو رسمی سلام کیا جاتا ہے؟ بدذات کہنا بدتہذیبی ہوتی۔ جھوٹ بولنا ایک دلدل ہے۔ کافی سوچ سمجھ کر کہا: میں مسلمان گھرانے سے ہوں۔ خاتون نے مجھے سر سے پاؤں تک گھورا اور دو ایک رسمی سی باتیں کرکے غسل خانے کی طرف چل پڑیں۔

جہاز میں ایک ہمدرد ہندوستانی خاتون نے میرے پوچھنے پر کہا: کسی کی ذات پوچھنا نہایت اخلاق سے گری ہوئی بات سمجھی جاتی ہے۔ بڑی بی کسی بیٹی پوتی وغیرہ کے لیے لڑکے تلاش کررہی ہوں گی۔ اور کیونکہ آپ دیکھنے میں بالکل براہمن معلوم ہوتے ہیں، اسلیے ان سے رہا نہ گیا اور انہوں نے پوچھ ڈالا۔

براہمن دیکھنے میں کیسے معلوم ہوتے ہیں؟ میرا اگلا سوال تھا۔ چشمے، ناک نقشہ وغیرہ، انھوں نے بےاعتنائی سے کہا۔ جواب تسلّی بخش نہ تھا۔ گویا امریکی آنکھوں کو ہندوستان کا مقامی باشندہ لگنے والا ایک براہمن بہروپیا ہے۔ اپنی براہمن شکل سے نجات پانے کے لیے اب سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ چشمے کو الوداع کہہ کر کونٹیکٹس کا سہارا لوں۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

عبدالوحید خان، برمنگھم
کسی مرد حضرت سے ملاقات نہیں ہوئی یا پھر خواتین کے بارے میں ہی لکھنے کا شوق ہے؟

عنصر حسین صدیقی، لاہور
ضیا بھائی آپ کا یہ بلاگ پڑھ کر بہت ہنسی آئی۔ براہمن جیسی شکل کی بات پڑھ کر آپ کو غور سے دیکھا تو یقین مانیے آپ براہمن سے ہی لگے۔

فرخ بٹ، لاہور
اتنی بڑی سوسائٹی میں اس طرح کا تضاد ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ آپ اس عورت کو یہ نہ کہہ سکے کہ آپ پاکستانی ہیں اور پہلی بار آئے ہیں۔

طلعت محمود، جاپان
آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔

اعجاز احمد، ٹورانٹو
واہ بھئی واہ ، آپ کی تو لاٹری نکل آئی۔ بیٹھے بیٹھائے آپ کو کئی عورتیں ملی لیکن سب ہی مخبوط الحواس۔ پھر سونے پر سہاگہ وہ اپنے جیسے کو ہی ملیں۔ ویسے چشمہ اتارنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ خیر اب میری باری ہے۔ بچوں کے ساتھ پاکستان کی فلائٹ ہے کل۔ ڈرتا ہوں، ائیرپورٹ پر ہی میرے ہم وطن لیر و لیر کر دیتے ہیں۔ دعا کرنا۔

آصف رضا ملک، خانیوال
آپ عورتوں سے اتنی جلدی متاثر کیوں ہوتے ہیں؟ ایک بات اور، آپ نے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں اتنا سوچ کر کیوں جواب دیا؟

عرفان، ٹورانٹو
مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ آپ بہروپیے ہیں۔

سید حمدانی، امریکہ
اچھا تجربہ رہا آپ کا مسٹر ضیا۔ بھارتی کلچر کے بارے میں جاننا دلچسپ رہا۔

شاہدہ اکرام، ابوظہبی
مجھے یہ بلاگ پڑھ کر بہت مزا آیا۔ بہت تعریفوں کے پل باندہ رہے تھے نا ہندوستان کے، مزا آیا نا براہمن پتر بن کر۔ مجھے سب سے مزے کی بات اس بلاگ میں ذات والی لگی جو کہ آپ کے بقول ذات کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہوسکتی تھی۔ تو پھر لینز کب فٹ کروا رہے ہیں آنکھوں میں؟ تھوڑی تبدیلی اور کر لیں ، بالوں کا سٹائل بھی بدل لیں کہیں ذات پر پھر کوئی شک و شبہ نہ پیدا ہو جائے۔ یا پھر پورا شجرہِ نسب ہی گلے میں ڈال لیں۔ کیا خیال ہے؟ ہم نے تو کافی مشورے دے دیئے۔ اب دیکھتے ہیں کہ آپ کیا قبول کرتے ہیں۔

عباس، اسلام آباد
ضیا بھائی جتنے شکل سے سادہ لگتے ہیں اتنے ہیں نہیں۔ یا پھر ضیا بھائی نے جو چشمہ لگایا ہوا ہے اس میں سے صرف خواتیں ہی نظر آتی ہیں، مرد نہیں۔

عمر قریشی، جرمنی
محترم ضیا بھائی، کیا آپ برصغیر کے کسی شخص سے مل کر بتا سکتے ہیں کہ وہ انڈین ہے یا پاکستانی؟ سو پھر آپ کو اس امریکی عورت کی بات پر حیرانگی کیوں ہورہی ہے؟ بلاگ پڑھنے سے پہلے جب میں نے آپ کی تصویر دیکھی تو میں بھی آپ کو انڈین سمجھا۔ اصل میں برصغیر کے لوگوں کی رنگت میں کوئی واضح فرق نہیں۔ میرا تعلق بھی پاکستان سے ہے اور یہاں یورپ میں اکثر لوگ مجھے انڈین سمجھتے ہیں۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ضیاء بلاگکیا فرق ہے؟
حیدرآباد، آندھرا پردیش سے ضیا کا نیا بلاگ
نعیمہ بلاگنعیمہ بلاگ
حلال قرض اور حلال گوشت کا فرق
کھائیں تو کھائیں کہاںکھائیں توکھائیں کہاں
تھوڑے جھوٹ کے ساتھ عارف شمیم کا سارا سچ
عنبرخیری’سراسر دھوکا‘
بینک عنبر خیری کے پیسے کھا گیا
حسن بلاگ ’بی بی سی محلہ‘
فرائیڈ کی بیٹی اور بش ہاؤس کا پاک ٹی شاپ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد