کیا فرق ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سب سے پہلے تو پچھلے ہفتے کے پڑھنے والوں کو تسلّی دیتا چلوں کہ میں نے امانت کو بلاخیانت منزل تک پہنچا دیا ہے۔ ہندوستانی کسٹم والوں نے پاکستانی اور وہسکی دونوں کو چکھنے کی کوشش نہیں کی۔ البتّہ امیگریشن والے صاحب مجھے دیکھ کر کچھ سٹپٹائے۔ کہنے لگے: آپ یہاں نہیں آسکتے، آپ کو تو صرف دہلی، ممبئی یا واہگہ سے ہندوستان میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ میں نے کہا: بھائی، اب تو آگیا ہوں، کیا کیا جائے؟ انہوں نے گھبرا کر اپنے باس کو بلایا۔ باس نے کافی غور سے مجھے اور پاسپورٹ کو دیکھا۔ دو چار سوال کیے۔ پھر پہلے صاحب کو ہدایت دی کہ مجھے جانے دیں۔ اور یوں میرا ہندوستان کا دورہ شروع ہوا۔ میں یہاں اپنی بےنامی سے بہت خوش ہوں۔ سڑک چلتے لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ میں ہندوستانی نہیں (اور اگر ہوتا بھی ہے تو اتنے تہذیب یافتہ ہیں کہ ذکر نہیں کرتے۔) مثال کے طور پر میں میوزیم وغیرہ میں باآسانی ہندوستانی ٹکٹ پر گھس جاتا ہوں۔ غیر ملکیوں کے لیے ٹکٹوں کی قیمت عموماً دس گناہ زیادہ ہوتی ہے۔ دیکھنے میں بھی یہ شہر بالکل میرے آبائی شہر کراچی جیسا ہے۔ ذہن میں ایک نامعقول سوال ابھرا کہ اگر دونوں شہر واقعی ایک جیسے ہیں، تو پھر تقسیم کی کیا ضرورت تھی؟ اپنی تسلّی کے لیے میں نے ایک فہرست بنائی جس سے کراچی اور حیدرآباد میں فرق صاف نمایاں ہے۔ * حیدرآبادی خواتین اسکوٹر چلاتی ہیں۔ کراچی کی خواتین درمیانے طبقے کی ہوں تو بلینڈر چلاتی ہیں، امیر ہوں تو گاڑیاں، بہت امیر ہوں تو کچھ نہیں۔ * کراچی میں سڑک چلتے مرد زیادہ تر شلوار قمیض پہنے دکھائی دیتے ہیں۔ حیدرآباد میں صرف مجھ جیسے چند بےوقوف دیسی نظر آنے کی کوشش میں شلوار کرتا پہنتے ہیں۔ باقی سب پتلون قمیض۔ * حیدرآباد میں دیگر غیر ملکی نظر آتے ہیں۔ 11-9 کے بعد کراچی میں اکّا دکّا نظر آنے والے غیر ملکی یا تو نہایت مجبور ہوتے ہیں یا نہایت دلیر۔ * حیدرآبادی رکشوں میں سائلینسر ہوتے ہیں۔ * حیدرآباد میں رات کو اگر بجلی جاتی ہے تو صرف چند منٹوں کے لیے۔ کراچی میں رات کو اگر بجلی آتی ہے تو صرف چند منٹوں کے لیے۔ * حیدرآباد میں آپ کے بچّے ’پاور رینجرز‘ اور ’پوکی مون‘ تیلگو زبان میں دیکھ سکتے ہیں۔ کراچی میں انہیں اردو میں ’ننجا ٹرٹلز‘ پر گزارا کرنا پڑے گا۔ * حیدرآباد میں کراچی بیکری ہے مگر کراچی میں حیدرآباد بیکری نہیں ہے۔ * حیدرآباد جس صوبے میں ہے (آندھرا پردیش) وہاں کی مادری اردو زبان بولنے والوں میں سے اڑتیس فیصد صوبائی زبان (تیلگو) بھی بولتے ہیں۔ کراچی جس صوبے میں ہے (سندھ) وہاں کے مادری اردو زبان بولنے والوں میں سے صفر فیصد صوبائی زبان (سندھی) بھی بولتے ہیں۔ * حیدرآباد کے آوارہ کتّے کراچی کے آوارہ کتّوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ اور سب سے بڑا فرق۔ * حیدرآبادی بریانی کا سندھی بریانی سے کوئی مقابلہ نہیں۔
شفیع احمد، سعودی عرب ضیاء صاحب ماشاءاللہ حیدرآباد آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ کیا ہی بات ہو کہ پاکستان سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ جنوبی ہندوستان بھی آئیں اور وہاں کی تہذیب کو جانیں۔ حیدرآباد کے لوگوں کو پاکستان آنے کی اجازت آسانی سے ملے اور ہم زیادہ قربت محسوس کریں۔ انشاءاللہ جب میں کراچی میں ہوں گا تو اپنا بلاگ آپ کے لیے لکھ بھیجوں گا۔ عدیل اظہر، کراچی رضوان عباس، دمام عمیر حسین، پشاور جاوید اقبال ملک، چکوال محمد عدنان، لندن اعجاز، لاہور مدن لال عمران، کراچی فیصل حفیظ، سعودی عرب شاہدہ اکرام، ابو ظہبی ثناءاللہ خان خٹک، لاہور ثناء خان، کراچی |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||