کرکٹ کا وہ تاریخی مرحلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرانے کاغذات کی ایک دراز صاف کرتے ہوئے مجھے یہ تصویر ملی۔ یہ سنہ انیس سو اناسی کی ہے اور یہ کرکٹ کی تاریخ کی ایک بڑے اہم مرحلے سے ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کیری پیکر نے دنیائے کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پیکر نامی اس آسٹریولی ٹیلی وژن ٹائیکون نے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو اپنے ’ورلڈ سیریز کرکٹ‘ یعنی ڈبل یو ایس سی کی ٹیموں میں بھرتی کر لیا تھا۔ پیکر ہی نے ون ڈے کرکٹ کے جدید کھیل کو بنایا۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ اس سے پہلے مقررہ اوورز کرکٹ کا ورلڈ کپ شروع ہو چکا تھا لیک پیکر نے ٹی وی، ٹیکنولوجی اور ایک خاص آسٹریلوی جارحیت سے اس کھیل کو ایک ماڈرن اور سنسنی خیز مقابلہ بنایا۔ اس تصویر کو دیکھ کر اس زمانے کے پیکرز ’سرکس‘ کا پورا تنازع یاد آگیا۔ جب پیکر نے دنیا کے درجنوں بہترین کھلاڑیوں کو نہایت اچھی رقم کے اعوض بھرتی کر لیا تو متاثرہ کرکٹ بورڈز نے ان کھلاڑیوں کو برا بھلا کہا اور ان کے راضی ہونے کے باوجود انکو کئی مہینوں تک قومی ٹیم میں شامل نہ کیا یعنی ان پر پابندی لگا دی۔ بوڑڈ اور عوام اس موضوع پر خاصے جذباتی ہوگئے اور لوگوں پیکر والے کھلاڑیوں کو غدار کہنا شروع کر دیا۔ ان کا جرم کیا تھا؟ بس یہی کہ ان کو جب ایک آسٹریلوی بزنس مین نے پروفیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع دیا تو وہ اس کی ٹیموں میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے لاکھ جذباتی عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ ان کی روزی کا بھی سوال تھا اور ان کی پروفیشنل تربیت کا بھی۔ بعد میں سب کو یہ بات سمجھ ہی آگئی (یا شاید اب اعتراض کرنے والے سب مر چکے ہیں) ۔ میرے لیے یہ ایک تاریخی تصویر ہے۔ اس میں ڈبل یو ایس سی کی ورلڈ الیون کی ٹیم ہے اور عمران ، ماجد، ظہیر اور مشتاق کے علاوہ ٹونی گریگ اور جان سنو جیسے کھلاڑی بھی ہیں( اس میں اور بھی کھلاڑی ہیں جو ابتدائی مرحلے میں شامل نہ تھے لیکن بورڈز کے موقف کے بدلنے کے بعد ان مقابلوں میں کھیلنے آگئے) ۔ مجھے یہ تصویری پوسٹ کارڈ عمران خان سے ملا، جو اس زمانے کے کافی ہیرو تھے۔ میں نے ان سے ایک مداح کی حیثیت سے تصویر کی فرمائش کی اور انہوں دنیا کے دوسرے کونے سے اپنے انتہائی مصروف شیڈول میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر مجھے یہ تصویر بھیج دی۔ ستائیس برس پہلے کی یہ تصویر کرکٹ کی ایک یادگار دور کی فوٹو ہے۔ وہ دور جب ماڈرن کرکٹ کے کھیل کا ابتدا ہوا۔
میری بہن مجھے اور ہمارے کئی اور ساتھیوں کو دیکھ کر اکثر کہتی تھی کہ ’آرٹ تو ایک بیماری ہے۔‘ ایک لحاظ سے اس کی یہ بات صحیح تھی۔ جو شخص اپنی زندگی اپنے فن کے نام کردیتا ہے، اس کے لیے زندگی خاصی غیر یقینی بن جاتی ہے۔ میں بھی آرٹسٹ یا پینٹر بننے کا سوچتی تھی لیکن آخر فیصلہ کیا کہ یہ ایک خطرناک اور ناخوشگوار راستہ ہوگا۔ دراصل میں نے بہت آرٹسٹ اور فنکار دیکھ لیے تھے جو دوسروں کے لئے ایک مسئلہ ہی بنے رہتے، یعنی ہر وقت مدد یا تسلی مانگتے رہتے تھے۔ ’یہ پینٹنگ بکوا دیں‘ یا ’ہمارے ڈرامے کے کچھ ٹکٹ خرید لیں‘ یا پھر کسی اہم شخص سے ’ہمارا تعارف کرادیں۔‘ ایسے ضرورت مند وں کے علاوہ فنکار کی ایک اور نسل بھی ہے جو انتہائی چالاکی اور مصلحت پسندی سے کام لیتی ہے۔ ایسے لوگ فنکارانہ زندگی کی بےیقینی سے بچنے کے لیے لوگوں اور مواقع کو ضائع نہیں جانے دیتے۔ ہر شخص سے خوب فائدہ اٹھاتے اور اپنی تعریفیں کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے ہیں۔ کامیاب آرٹسٹ تو وہی ہوگا جو اپنی مارکیٹنگ ٹھیک طرح سے کرسکے، جو دنیا کو اس بات پر قائل کر سکے کہ واقعی اس کا کام شاندار ہے۔ ایک نسبتاً ’پریکٹکل‘ زندگزارنے کا میں نے فیصلہ تو بہرحال کر لیا لیکن کبھی کبھی افسوس بھی ہوتا ہے اور خیال آتا ہے کہ کاش اپنی زندگی آرٹ کے نام کی ہوتی۔۔۔ اس بیماری کا پھر میں وقتی طور پر علاج کرتی ہوں، گھر والوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر کسی آرٹ کلاس میں چلی جاتی ہوں اور کئی گھنٹوں تک اس کام میں گم رہتی ہوں۔ اس کے بعد واپس روزمرہ کی ذمہ داریاں: سودا خریدنا، کھانا پکانا، بچوں اور شوہر سے تھوڑی بہت بد مزاجی کرنا۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تخلیقی کام کرنے کے لیے واقعی انسان کو تنہائی درکار ہے؟ کیا خود غرضی کے بنا تخلیقی عمل ممکن ہے؟ اور کیا مجھ جیسے لوگوں نے غم و مایوسی سے بچنے کے لئے اپنے فنی فرائص کو ایک طرف رکھ کر صحیح راستہ چنا ہے؟
نجم عباسی، کینیڈا: میرے خیال میں ہر سوچنے والا انسان اپنے اندر ایک تخلیقی ذہن رکھتا ہے لیکن جب یہ عمل ایک معاشی مسئلہ بن جاتا ہے تو اسے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ شاہدہ اکرام، یو اے ای: عبدالوحید خان، برمنگھم: عثمان منظور، لاہور: جاوید اقبال ملک، چکوال: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||