’قربان علی کنگلے کی روح‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی نے کہا ’وطن عزیز نے تین چیزوں میں دنیا میں بڑا نام پیدا کیا ہے: شربت روح افزا، نیوکلیئر بم، اور سیاسی کارکنوں کی گمشدگیاں!‘ آج تک پاکستان میں جو بھی حمکران آیا اس نے بڑے شوق سے کہا ’میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی تھوڑی ہی ہے!‘ لیکن اب لگتا ہے انہوں نے جادو کی چھڑی پا لی ہے۔ وہ جس بھی سیاسی مخالف و منحرف کو اس چھڑی سے چھوتے ہیں وہ غائب ہو جاتا ہے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ سیاسی نظربندوں کو مجسٹریٹ، عدالت، کچہریوں میں پیش کرنے کے تکلفات میں کون پڑے! بس جعلی مقابلوں میں سینچریاں کرنے کے بعد انہوں نے گمشدگیوں کا ’فورتھ ڈگری میتھڈ‘ اپنا لیا ہے اور وادي مہران سے بولان تک ریاستی اغوا نے ایک صنعت کا درجہ لے لیا ہے۔ ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ایسے گمشدگان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ اب ریاستی کارندوں کو ظابطہِ فوجداری یا تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت اس ملک میں اغوا کا مجرم کون ٹہرائے جہاں اغوا کے قوانین میں ترمیم کر کے اسے قابل سزائے موت صرف اس لیے بنایا گیا تھا کہ آصف زرداری کو مرتضٰی بخاری اغواکیس کا سامنا تھا۔ ورنہ پاکستان کی قومی اسیمبلی سینیٹ ، اور صوبائی اسمیبلیوں میں پتھارید اروں کی کون سی کمی تھی جہاں بیشتر بڑی مچـھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو نگل گئيں۔ خیر، وطن میں گمشدگیوں کی رسم بھی ذوالفقعار علی بھٹو کے دور میں پڑی جب عطاءاللہ مینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل اور اس سے پہلے سندھ میں جامشورو انجنيئرنگ کالج کے لیکچرر اشوک کمار گم کردیئے گئے تھے اور جن کا آجتک پتہ نہ چل سکا! تب سندھی زبان کے دو چوٹی کے افسانہ نگاروں امر جلیل اور نسیم کھرل نے ایسی گمشدگیوں کے پس منظر میں افسانے لکھے تھے۔ امرجلیل کے افسانے کا عنوان تھا ’قربان علی کنگلے کی روح‘ اور نسیم کھرل نے ’مساوات` کے عنوان سے افسانہ لکھا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ جو پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شادیوں میں باراتیوں کو کھانا کھلانےاور پتنگ اڑانے پر از خود نوٹس لے رہے ہیں وہ ملک میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں سینکڑوں سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں پر کیوں نوٹس نہیں لیتیں؟
مدن لعل کھتری، کراچی ان میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔وہ ویسا ہی کرتے ہیں جیسا انہیں کہا جائے۔ یہ ادارہ عوامی معاملات میں چند واضح حدود میں رہتا ہے۔ مصطفی مہیسر، لندن شاہدہ اکرام، ابو ظہبی جاوید اقبال ملک، چکوال
چلو کہ آج ایک دوسرے سے خواب شیئر کرلیتے ہیں۔ میں کہ ٹہرا ایک خواب پرست شخص، سوچ رہا ہوں یہ خواب نہ ہوتے تو میں کیا کرتا۔ پھر تو نیند قبر کا عذاب ہو جاتی میرے جیسے شخص کیلیے جو زندگی بعدالممات پر یقین نہیں رکھتا، لیکن خوابوں بھری زندگی میں ضرور ایمان رکھتا ہوں۔ بس خوابوں کے تعاقب میں سارے بال سفید ہوگئے۔ آدھی زندگی خواب میں گزری تو آدھی خوف میں۔ جیسے اپنے ہاں آدمی کی آدھی عمر ماں کی گود میں تو آدھی بیوی کی گود میں گزر جاتی ہے۔ نیند سے جب آپکی آنکھ کھلتی ہے تو پھر پچھلے منٹوں دیکھے یا ٹوٹے ہوئے خواب یا تو آپ کو دکھی کر جاتے ہیں یا پھر نہال۔ ’جب خوابوں کے شیش محل ٹوٹتے ہیں تو اسکی کچھ کرچیاں روح میں بھی اتر جاتی ہیں۔۔۔‘ بہت سال پہلےکہیں پر پڑھا تھا۔ میں نے رات کیا خواب دیکھے: میں نے ایک مسجد سے باہر نکلتے ہوئے بڈھے نمازیوں سے کسی چھوٹی پہاڑی پر پیسیفک کی تیز ہوا میں ’جرمن کلاسیکل فلسفے کا خاتمہ‘ اور لوئی نیپولین بونا پارٹ پر بحث کرتے خود کو پایا۔ دوسرے خواب میں، خود کو کسی مرد کے ساتھ پایا۔ ایک اور خواب میں ایک عورت کو لہنگے اور تھانگ میں دیکھا۔ ایک بڑا سیاسی جلسہ دیکھا جس میں حفیظ قریشی تقریر کر رہے تھے (وکیل، سندھی دانشور اور فلسفی نما حفیظ قریشی ایک بہت بڑے کیریکٹر اور مقرر تھے)۔ تو اور میں نے خواب میں کیا دیکھا! اپنے کچـھ پاکستان سے آئے صحافی دوستوں اور ایک وہاں پاپولر لیکن اپنے ناپسندیدہ کالم نگار سے کچھ گلے شکوے کے بعد انکی اپنے گھر پر بئير، وائين، وہسکی سے خاطر مدارات کرتے دیکھی اور میری بہت پرانی ہمسائی عائشہ کے چند سال پہلے قتل ہونے والے بیٹے کا جنازہ دیکھا۔ خود کو بار بار خواب میں کموڈ پر بیٹھا پایا! خود کو سگرٹیں پیتے دیکھا جو تین دن پہلے میں چھوڑ چکا۔ کیا یہ بھی میں نے خواب میں دیکھا! نہیں یہ تو میں نے پرسوں جاگتے چلتے دیکھا تھا۔ ہالووین کے لباسوں کے طرز پر سیاہ لبادے اوڑھے ہوئے سیاہ رنگ کے نقاب پہنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنکے ہاتھ میں نقلی کلہاڑیا ں تھیں اور وہ ایسے پرچے تقسیم کر رہے تھے جن میں ناول ڈاونسی کوڈ کے مصنف ڈان براؤن کیلیے سزائے موت کا مطالبہ تھا۔
عبدل علیم، جاپان شاہدہ اکرم، ابو ظہبی ثنا خان، پاکستان
شاہ لطیف بڑی مشکل میں ہیں۔ جب سے الطاف حسین اور ان کی ایم کیو ایم نے اندرون سندھ ان کا دن یا’جشن لطیف‘منایا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہجس رات خیرپور میرس کے کرنل شاہ ہاسٹل کے میدان پر ہزارہا لوگوں کے جلسے میں لندن سے براہ راست ٹیلیفون پر الطاف حسین اجرک اور سندھی ٹوپی پہنے شاہ لطیف کے شعر سنا رہے تھے اور سندھ کے دعاگو بنے ہوئے تھے اسی دن کراچی کی ایم کیو ایم کے ووٹوں سے منتخب’شہری حکومت‘نے پولیس اور رینجرز کے ساتھ بلڈوزر لے کر سکندرگوٹھ نامی گاؤں پر یلغار کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں کم از کم ایک نوجوان اور ایک شیر خوار بچہ ہلاک ہوئے اور بہت سے گھر منہدم کر دیے گئے۔ یہی کچھ کراچی کے مضافات میں شاہ لطیف کی زبان بولنے والوں کے ساتھ ہوا۔ کراچی کی شہری حکومت کہتی ہے کہ وہ غیر قانونی تجاوزات ہٹا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کے مضافات میں لینڈ مافیا اور سندھی قوم پرستوں نے بھی زمینوں پر قبضے کر رکھے ہیں۔ حیدرآباد سندھ میں سندھیوں کے سب سے طاقتور میڈیا کے ایک اخبار نے بھی مبینہ طور اپنا صدر دفتر قبضے کی زمین پر بنایا ہوا ہے۔ کراچی کے پٹواری’قائداعظم‘ کے مزار کو بھی شاید ہی بخشیں۔ مجھے خوشی ہوتی اگر سچ مچ اندرون سندھ سندھی وڈیروں، میروں اور پیروں سے ان کی آبائی جاگيریں بنے ہوئے انتخابی حلقے کوئی متوسط طبقے کے لوگ پھر وہ چاہے اردو بولنے والے ہی کیوں نہ ہوں آ کر چھین لیتے لیکن تاریخی طور ایسا نہیں ہو رہا۔ سندھ میں حکومت کرنے کے لیئے یہ اتحادی پیر پگاڑو جیسے طاقتور پیر اور وڈیروں کے بنتے ہیں۔
|
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||