BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 June, 2006, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اگر ’گولی‘ نہ ہوتا


آٹھ جون: ’اگر گولی نہ ہوتا تو یقیناً گول تھا‘



میرے ساتھ آج سے چار سال قبل کچھ اس طرح ہی ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ اکتیس مئی دو ہزار دو کی صبح تھی جب فٹبال ورلڈ کپ کے پہلے ہی میچ میں عالمی چیمپئن فرانس نئی ٹیم سینیگال کے ہاتھوں ایک صفر سے ہار گیا۔

یہ ہی وہ صبح تھی جب میرا یکدم امیر ہونے کا خواب بھی ’بن کھلے مرجھا گیا‘۔

ہوا کچھ یوں کہ میں نے اپنی پرانی فرانس دشمنی میں رات سے ہی سینیگال کی حمایت شروع کر دی تھی بلکہ جب مجھے پتہ چلا کہ بکی فرانس اور سینیگال میں تقریباً سو ایک کے حساب سے ریٹ دے رہے ہیں تو تہیہ کیا کہ اپنے دشمن کے خلاف ’جہاد‘ مجھ پر فرض ہو گیا ہے۔

میری اور فرانس کی دشمنی پرانی ہے۔ اس کی وجہ انیس سو اٹھاسی میں فرانس کا میری پسندیدہ ٹیم برازیل کو ہرانا ہے۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ برازیل بہتر ٹیم تھی اور اسے جیتنا چاہیئے تھا لیکن شاید وہ جیتنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ خیر برازیل نے تو فرانس کو معاف کر دیا ہو گا میں نے نہیں۔

تو اس روز بستر سے اٹھ کر سب سے پہلے اعلان کیا کہ میں سینیگال پر پیسے لگانے جا رہا ہوں۔ ’کیا کوئی خواب دیکھا ہے‘، میرے پیسوں کی’ کنجی‘ نے پوچھا۔ جواب میں فوراً دشمن کے خلاف اعلانِ جنگ کی تفصیل بتاتے ہوئے ٹی وی آن کر دیا۔ میچ شروع ہونے والا تھا۔

چائے کی پیالی لی اور صوفے پر بیٹھا، سوچا کہ ابھی کچھ دیر بعد باہر بکی کے پاس جاتا ہوں۔ میچ شروع ہوا، ’کچھ دیر کے بعد‘ اندر سے آواز آئی۔ ’ٹھیک ہے‘ دل بھی مطمئن ہوا۔

’ابھی جاتا ہوں، ابھی جاتا ہوں‘ کہتا ہوا آہستہ سے صوفے سے کھسک کر قالین پر آ گیا۔ پھر کیا؟ کھیل کے تیسویں منٹ میں یکدم سینیگال کے مِڈ فیلڈر پاپے بوبا دیوپ نے فرانس کے دوبارہ عالمی کپ جیتنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ یہ شاید عالمی کپ کی تہتر سالہ تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ تھا۔

سینیگال کے بوبا نے اپنے گول کے ساتھ فرانس کے دوبارہ عالمی کپ جیتنے کے خواب چکنا چور نہ کیئے بلکہ میری ’ آسودہ اور بے فکر‘ زندگی کے خوابوں کو بھی تہس نہس کر ڈالا اور میں قالین پر بیٹھ کر میچ دیکھنے کی بجائے لیٹ کر دیکھنے لگا۔ کاش۔


تبصرہ کریں

جاوید اقبال ملک، چکوال
لگتا ہے آپ پر بھی ’ساکر‘ کا بخار چڑھ گیا ہے۔ کسی ٹیم یا کھلاڑی کی وجہ سے دلچسپی ہونا ایک فطری بات ہوتی ہے جیسا کہ پاکستان اگرچہ اس کھیل میں شامل نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم مسلمان ممالک سعودیہ اور ایران کے ساتھ ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اچھا کھیل پیش کریں گے۔ ویسے آپ جوئے کی زیادہ تشہیر نا کیا کریں، آپ کا کالم برائی کے خلاف چلنا چاہئے۔

اعجاز احمد، ٹورانٹو
چچا شمیم نہیں ریساں تہاڈے فلسفے دیاں۔اب میرے لیٹنے کی باری ہے۔

سید ارشد حسین، نارتھ کراچی
اس بار برازیل پر پیسے لگا دیں عارف صاحب۔ ایک پر سو کا ریٹ ہوگا یا پھر چھکا یا چار، یہی ہوگا کہ یا تو اک دم سے امیر یا پھر اک بار گولی۔

ساجد پردیسی، کینیڈا
عارف بھائی اس لئے تو جوا حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ تمام کھلاڑی پیسے کے لیے ہی کھیلتے ہیں۔آپ بھی کسی کھیل کے میدان میں جائیں اور خوب پیسا بنائیں۔ ابھی تو آپ بہت ’ینگ‘ ہیں۔

شاہدہ اکرام، ابو ظہبی
افسوس، شمیم بھائی ہم سب آپ کے دکھ میں دل سے شریک ہیں۔ ہار جیت تو زندگی کے سکے کے دو رخ ہیں جن کے ہونے سے ہی یہ زندگی بنی ہے۔ اس بات کو دل پر کیا لینا، ہار نہ ہو تو جیت کا کیا مزا مقابلے میں ہی اصل مزہ ہے۔ آپ کو سمجھانا خود سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ دل سے پرانے دکھ بھلا کر نئی تیاریوں میں جت جائیں۔ رات گئی بات گئی، یہ بھی نہیں اب تو چار سال گزر گئے اور زخم مندمل ہونے کے لئے اتنی مدت میرے خیال میں کافی ہوتی ہے۔ تو پھر بکی کے پاس اس دفعہ کب جانا ہے؟ فوراً یا صوفے کے بعد یا کارپٹ پر لیٹنے کے بعد، سوچ رکھیں ابھی سے۔

سلیم اختر، گجرات
واقعی آپ لوگ نام کے مسلمان ہو، ورنہ کیا خرابی نہیں آپ لوگوں میں۔ جوا، حرامکاری، شراب، مسلم دشمنی، وغیر وغیرہ۔ (یہ سب کچھ یہ نام نہاد مسلمان ان بلاگز میں بیان کر چکے ہیں)۔ ویسے ہم سودیہ اور ایران کو سپورٹ کریں گے۔ ایران فیورٹ ہے۔

ثناء خان، کراچی
امیر ہونے کا خواب خواب رہ گیا۔ اس مرتبہ برازیل فیورٹ ہے لیکن میچ پہلے سے ہی قالین پر لیٹ کر دیکھنا۔ کل ہو نا ہو۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
نیا بلاگ شیما کاگٹار اور ڈکار
نیا بلاگ شیما کمال کا
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
اسد علیاگلےدن بہت مزہ آیا
وہ میرا خواب سن کر خوش ہوئی: اسد علی
سونے بھی دو یارو۔۔۔’کچھ نہیں بدلا‘
گیارہ بج گئے، عارف شمیم کےلئے کچھ نہ بدلا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد