اگر ’گولی‘ نہ ہوتا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے ساتھ آج سے چار سال قبل کچھ اس طرح ہی ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ اکتیس مئی دو ہزار دو کی صبح تھی جب فٹبال ورلڈ کپ کے پہلے ہی میچ میں عالمی چیمپئن فرانس نئی ٹیم سینیگال کے ہاتھوں ایک صفر سے ہار گیا۔ یہ ہی وہ صبح تھی جب میرا یکدم امیر ہونے کا خواب بھی ’بن کھلے مرجھا گیا‘۔ ہوا کچھ یوں کہ میں نے اپنی پرانی فرانس دشمنی میں رات سے ہی سینیگال کی حمایت شروع کر دی تھی بلکہ جب مجھے پتہ چلا کہ بکی فرانس اور سینیگال میں تقریباً سو ایک کے حساب سے ریٹ دے رہے ہیں تو تہیہ کیا کہ اپنے دشمن کے خلاف ’جہاد‘ مجھ پر فرض ہو گیا ہے۔ میری اور فرانس کی دشمنی پرانی ہے۔ اس کی وجہ انیس سو اٹھاسی میں فرانس کا میری پسندیدہ ٹیم برازیل کو ہرانا ہے۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ برازیل بہتر ٹیم تھی اور اسے جیتنا چاہیئے تھا لیکن شاید وہ جیتنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ خیر برازیل نے تو فرانس کو معاف کر دیا ہو گا میں نے نہیں۔ تو اس روز بستر سے اٹھ کر سب سے پہلے اعلان کیا کہ میں سینیگال پر پیسے لگانے جا رہا ہوں۔ ’کیا کوئی خواب دیکھا ہے‘، میرے پیسوں کی’ کنجی‘ نے پوچھا۔ جواب میں فوراً دشمن کے خلاف اعلانِ جنگ کی تفصیل بتاتے ہوئے ٹی وی آن کر دیا۔ میچ شروع ہونے والا تھا۔ چائے کی پیالی لی اور صوفے پر بیٹھا، سوچا کہ ابھی کچھ دیر بعد باہر بکی کے پاس جاتا ہوں۔ میچ شروع ہوا، ’کچھ دیر کے بعد‘ اندر سے آواز آئی۔ ’ٹھیک ہے‘ دل بھی مطمئن ہوا۔ ’ابھی جاتا ہوں، ابھی جاتا ہوں‘ کہتا ہوا آہستہ سے صوفے سے کھسک کر قالین پر آ گیا۔ پھر کیا؟ کھیل کے تیسویں منٹ میں یکدم سینیگال کے مِڈ فیلڈر پاپے بوبا دیوپ نے فرانس کے دوبارہ عالمی کپ جیتنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ یہ شاید عالمی کپ کی تہتر سالہ تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ تھا۔ سینیگال کے بوبا نے اپنے گول کے ساتھ فرانس کے دوبارہ عالمی کپ جیتنے کے خواب چکنا چور نہ کیئے بلکہ میری ’ آسودہ اور بے فکر‘ زندگی کے خوابوں کو بھی تہس نہس کر ڈالا اور میں قالین پر بیٹھ کر میچ دیکھنے کی بجائے لیٹ کر دیکھنے لگا۔ کاش۔
جاوید اقبال ملک، چکوال اعجاز احمد، ٹورانٹو سید ارشد حسین، نارتھ کراچی ساجد پردیسی، کینیڈا شاہدہ اکرام، ابو ظہبی سلیم اختر، گجرات ثناء خان، کراچی |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||