اولمپکس ای سروے: عالمی رجحانات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں آپ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اولمپک گیمز کے بارے میں کرائے جانیوالے ایک سروے میں حصہ لیا تھا۔ اس سروے کے نتائج پر مبنی تجزیہ حسب ذیل ہے: بی بی سی کی ویب سائٹوں پر کرائے جانیوالے ای سروے میں حصہ لینے والوں کی بھاری اکثریت یعنی اکسٹھ فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ ایتھنز میں کھیلے جانے والے اولمپک گیمز اولمپک تحریک کے اقدار کا احیاء نہیں کرسکیں گے۔ جبکہ اس سروے کے صرف چھیالیس فیصد شرکاء کو یقین ہے کہ ابھی بھی فٹ بال، کرکٹ اور ٹینس کی طرح اولمپک گیمز نوجوانوں کے اندر کھیلنے کا نیا جوش و جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ لیکن چالیس فیصد لوگوں نے یہ بھی کہا کہ آج کے نوجوانوں کے اندر ان کھیلوں کی وجہ سے کوئی امنگ نہیں پیدا ہوتی۔ اولمپک گیمز کے بارے میں عوامی رجحانات جاننے کے لئے یہ ای سروے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے علاوہ، بی بی سی عربی، بی بی سی فارسی، بی بی سی ہسپانوی، بی بی سی انگلش اور بی بی سی روسی ویب سائٹوں پر کرایا گیا۔ اس تحریر کے وقت تک اس سروے میں چودہ ہزار دو سو چھبیس لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اس سروے کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ خواتین اور کم عمر کے لوگ اولمپک گیمز کے بارے میں مثبت خیال رکھتے ہیں۔ اس سروے میں حصہ لینے والی پچپن فیصد خواتین اور پچیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں کی باون فیصد اکثریت کا خیال تھا کہ اولمپک گیمز آج کے نوجوانوں میں ایک نئی امنگ پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پینتالیس سال سے زیادہ عمر والے لوگوں کی ستر فیصد اکثریت کا خیال ہے کہ ایتھنز گیمز اولمپک تحریک کے قدیمی اقدار کو عوام میں مقبول کرانے میں اہم ثابت نہیں ہونگے۔ تاہم مجموعی طور پر اولمپک گیمز کے بارے میں لگ بھگ باسٹھ فیصد لوگ مثبت رویہ رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر تینتیس فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ اولمپک گیمز ”کھیل کا تہوار” ہیں، اور انتیس فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ اولمپک گیمز قوموں کو ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن سروے کے شرکاء میں سے سینتیس فیصد کا رویہ منفی تھا۔ چھبیس فیصد نے کہا کہ یہ گیمز کمرشیل بن کر رہ گئے ہیں جبکہ گیارہ فیصد نے یہ بھی کہا کہ ان کھیلوں کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ بی بی سی کے اس سروے میں شرکت کرنیوالے بھاری اکثریت سے اس بات پر ضرور متفق تھے کہ ایتھنز گیمز میں امریکہ کو سب سے زیادہ تمغے ملیں گے۔ ستر فیصد لوگوں نے کہا کہ امریکہ سب سے زیادہ تمغہ حاصل کرے گا، جبکہ اٹھارہ فیصد نے چین کے حق میں، آٹھ فیصد نے روس کے حق میں اور چار فیصد لوگوں نے جرمنی کے حق میں حصہ دیا۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک سے اس سروے میں حصہ لینے افراد کی اکثریت کا بھی یہی خیال تھا کہ امریکی ایتھلیٹ سب سے زیادہ میڈل حاصل کریں گے۔ اس علاقے سے چھپن فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ امریکہ سب سے زیادہ تمغے حاصل کرے گا جبکہ انتیس فیصد نے چین کے حق میں ووٹ دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||