BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 09 January, 2006, 13:20 GMT 18:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ سے احتجاج میں دیر کیوں؟
افغانستان میں موجود امریکی فوجی (فائل فوٹو)
افغانستان میں موجود امریکی فوجی (فائل فوٹو)
پاکستان نے افغانستان میں موجود اتحادی افواج سے شدید احتجاج کیا ہے اور گزشتہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ہیلی کاپٹر میں داغے گئے راکٹ کے نتیجے میں آٹھ افراد کی ہلاکت پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

شمالی وزیرستان کے سرحدی گاؤں سید گئی کے مقامی قبائلیوں کے مطابق پہلے امریکی فوجیوں نے ایک مکان سے دو افراد کو گرفتار کیا اور بعد میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے راکٹ داغے۔ تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کا ثبوت تو نہیں ملا کہ امریکی فوجی پاکستان میں داخل ہوئے تھے لیکن سرحد پار سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جن کے مطابق آٹھ لوگ ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں موجود اتحادی افواج کی پاک افغان سرحد عبور کرنے کے واقعات ماضی میں بھی میڈیا کے ذریعے سامنے آتے رہے ہیں۔ آپ کے خیال کیا پاکستان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ایک اہم اتحادی ہونے کے ناطے ان خلاف ورزیوں کو ختم کرواسکے؟ آخر پاکستان نے اس معاملے پر آواز اٹھانے میں دیر کیوں کی؟



یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئیں کی آرا درج ذیل ہیں۔

آپ کی رائے

زر خان، پاکستان:
یہ لیڈر اپنے ہر جرم کی سزا پائیں گے۔

جاوید، جاپان:
احتجاج تو اس دن کرنا چاہیے تھا مگر احتجاج کی اجازت ہی دیر سے ملی۔ اس میں حکومت پاکستان کا کوئی قصور نہیں، سپر پاور نے اتنی دیر لگا دی۔

خالد پختون، پشاور:
پاکستان آرمی پاکستان کی عوام کی دشمن ہے۔ وہ صرف امریکہ کی وفادار ہے۔

نامعلوم، جرمنی:
یہ تو ایک سیاست ہے۔ یہ ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا، اس کی کہانی ایک فلم کی ہے۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان:
بی بی سی کو بھول ہوئی ہے، بھلا کبھی نوکر بھی مالک کے سامنے آواز اٹھا سکتا ہے۔ صرف ظلم کی شدت کو کم کرنے کی التجا اور بھیک مانگ سکتا ہے۔

شہزاد میاں، امریکہ:
احتجاج کیسا احتجاج اس سے پہلے بھی اتنے احتجاج کئے امریکہ سے پھر بھی وہی کچھ ہو رہا ہے۔ حکومت اپنے آقا کے سامنے کیسے بول سکتی ہے۔ کل وہ پھر آئیں گے معصوم عوام کو مار کر چلے جائیں گے حکومت صرف عوام کو بےوقوف بناتی رہے گی۔

عضرہ یاسین، لاہور، پاکستان:
پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بن کر لاکھوں افغانیوں کا ناحق خون کیا۔ کیا وہ انسان نہیں تھے؟ اب کہ شکوہ بھی محض لوگوں کی لان تان سے تنگ آ کر کیا۔ ورنہ پاکستانی حکومت بہت نمک حلال ہے۔

شفیق الرحمان، لندن، یو کے:
جرنل مشرف نے پاکستان کو بھی امریکہ کی کالونی بنا دیا ہے۔ مجاہدین کو شکست دینا ناممکن ہے کیونکہ یہ لوگ امریکہ کے غلام نہیں ہیں ہمارے حکمرانوں کی طرح۔

جبال سندھی، لندن:
غلام اپنے آقا کے سامنے احتجاج نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا احتجاج محض ایک دکھاوا ہے۔ پاکستان آرمی امریکہ کے سامنے ایک گیدڑ اور بلوچوں اور سندھیوں کے سامنے شیر ہے۔

نصراللہ خان بلوچ،نواب شاہ، پاکستان:
امریکہ امریکہ ہے اس کی مرضی جو چاہے کرے۔ اس کے سا منے ہمارے لیڈر کیا بولیں۔ بولیں گے تو دوسرے دن نظر ہی نہیں آئیں گے۔

شریف خان، جرمنی:
جو کچھ ہو رہا ہے مشرف صاحب کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ اس میں افغانی اور پاکستانی آرمی کی کوئی غلطی نہیں۔ جو کچھ بش بول رہا ہے وہی مشرف اور کرزائی کر رہے ہیں۔ دونوں طرف معصوم اور بے گناہ لوگوں کی جان لے رہے ہیں۔

اشفاق ناظر، یو کے:
نوکر کی تے نخرہ کی۔

زیاد احمد، کراچی، پاکستان:
یہ سب تو ایک منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے پاکستان کا احتجاج بھی ایک ڈرامہ ہی ہوگا۔ سب کچھ سامنے ہے، عوام کو پتا ہے پھر کسی احتجاج کا جواز نہیں۔

ضیاء ال اسلام، ٹورانٹو، کینیڈا:
یہ ان مجاہدین کی وجہ سے ہوا ہے۔ نہ یہ دہشت گرد وہاں ہوتے اور نہ ہی امریکہ وہاں آتا۔ اپنے گریبان میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ساجد شاہ، یو کے:
جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ مشرف کی کیا مجال جو امریکہ سے احتجاج کر سکے۔ ہاں زیرِ لب گلہ کر سکتا ہے وہ بھی بڑے ادب کے ساتھ۔ ہم تو کمزور پہلے سے تھے لیکن مشرف کی وجہ سے وہ رہا سہا برہم بھی گیا۔

ذوالقرنین حیدر شاہ، راولپنڈی، پاکستان:
یہ صحیح ہے کہ امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ساتھ ہیں لیکن امریکہ کو یہ ذہن نشین کرنا چاہیے کہ نہ ہی پاکستان افغانستان ہے اور نہ ہی عراق ہے جس میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لیں اور عوام کے جان ومال کو اہمیت دیں۔

انجم ملک، جرمنی:
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ کاش ان معصوم لوگوں کی جگہ کچھ کرپٹ سرکای افسر مارے جاتے تو کتنا اچھا ہوتا۔

آصف محمود میاں، لاہور، پاکستان:
پھر کیا ہوت جو چریاں چوغ گئیں کھیت۔ چلیں زندگی ہی میں اظہارِ جرات کر تو دیا۔ ورنہ ’فرینڈز نوٹ ماسٹرز‘ تو صرف کتاب کے عنوان ہد تک ہی محدود رہا تھا۔ جب یہ خود ہی مار رہے ہیں تو باڈر پار سے مارنے کی اجازت کیسے دیں۔

خٹک، کرک، پاکستان:
یہ عوام بھی بہت غلط سوچ رکھتی ہے۔ آٹھ غریب مرگئے اور وہ بھی مائی باب امریکہ کے ہاتھوں تو اس میں احتجاج کون سا، ہزاروں مرتے ہیں مائی باب کے ہاتھوں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
آزادی اور خودمختاری کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ ہمیں بھی امریکہ کی ایک کالونی بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے بھی بےگناہ شہری مارے جا رہے ہیں۔ ہمیں شدید انداز میں اپنا احتجاج رکارڈ کرانا چاہیے تھا۔

شکیل ملک، لاہور، پاکستان:
جناب کیسا احتجاج، کس سے احتجاج اور کون کرے گا احتجاج؟ ہماری حکومت احتجاج کرے گی امریکہ بہادر سے؟ یہ تو صرف ایک بیان اخبارات کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔ تمام حکومتیں امریکہ کی پٹھو ہیں، اپنے آقا سے کیسے احتجاج کر سکتی ہیں؟

اسحاق ملک، ملتان، پاکستان:
امریکیوں کا اپنا ملک ہے، جب چاہیں، جیسے چاہیں کر گزریں۔ پاکستانی ترجمان کا بیان آئے، نہ آئے یا دیر سے آئے قومی مفاد میں ہوتا ہے اور امریکہ سے پوچھ کر آتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی انہونی بات نہیں ’آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا۔‘

نامعلوم:
ہم لوگوں اورہماری آرمی کو چا ہیے کہ چوڑیاں پہن لیں اور گھر میں بیٹھ جائیں۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
مجھے تو ابھی یقین نہیں آ رہا کہ پاکستان نے اپنے باس سے ظلم کا شکوہ کیا بھی ہے کہ نہیں۔ پاکستان کا بیان یوں ہونا چاہیے تھا کہ ’اسلام امن و آشتی کا مزہب ہے، تحمل اور بردباری کا درس دیتا ہے‘ اس لیے ہم نے دینی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے خاموشی کو بہتر سمجھا۔

شردیل جدون، سویڈن:
پاکستان کا کوئی سیاستدان بھی امریکہ سے کچھ نہیں کہ سکتا۔ یاد کریں جب پچھلے الیکش میں ایم ایم اے نے ذرا اکثریت حاصل کی تو پہلہ بیان یہ دیا کہ حکومت بنانے کے بعد وہ امریکی فوجوں کو فوراً ملک بدر نہیں کریں گے بلکہ موجودہ معائدہ ختم ہو نے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

اسد خان، اسلام آباد:
احتجاج کیسا؟ جو کام اپنی پاک فوج نے کرنا تھا، امریکہ نے کر ڈالا۔ کتنا آسان ہوگیا ہے ایک معصوم انسان کو مار کر اس پر دہشت گرد کا لیبل لگا دینا۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
اتنی بھی کیا جلدی ہے حضور، آواز ہی بلند کرنی ہے ناں، کرلیں گے۔ ایک تو اپ کو جلدی بہت ہوتی ہے، بھائی وہ ہمارے بڑے ہیں، چوہدری ہیں، بات کرنے میں جھجھک تو ہوتی ہی ہے۔ ہم نے آخر میں اپنا فرض تو پورا کر ہی دیا ناں، اور آپ کیا چاہتے ہیں۔ ہمری قوم کو بھی تو حکومتی مجبوریوں کی سمجھ ہونی چاہیے۔

نوید نقوی، کراچی:
اس طرح کے نجانے کتنے واقعات ہوتے ہوں گے جو میڈیا کی نظر میں نہیں آتے یا آنے دئیے جاتے۔ دراصل ہم امریکہ سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ اپنی جائز بات بھی نہیں کہہ سکتے۔ یہ تو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ سب اسلامی ممالک جانتے ہیں کہ یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ ان کے خلاف ہے جو ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔

نسیم الدین، ٹورنٹو:
مشرف کے پاس اس کے علاوہ راستہ ہی کیا ہے۔ وہ ایک آمر ہیں جنہیں اقتدار میں رہنے کے لیے امریکی حمایت کی ضرورت ہے۔ وہ امریکہ کے خلاف بات کرنے کا کیسے سوچ سکتے ہیںجب وہ امریکہ سے ہی تمام تر تربیت اور مشینری پاکستانی عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے حاصل کرتے ہیں۔

اسد ملک، فن لینڈ:
ہمارے حکمران امریکہ کی ناراضگی سے خوفزدہ رہتے ہیں۔

نعیم خان، اسلام آباد:
بس پاکستانی حکمران اللہ سے کم اور امریکہ سے زیادہ ڈرتے ہیں، اسی لیے امریکہ کی شان میں کبھی گستاخی نہیں کرتے۔ اگر پاکستان امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا تو اس طرح کے واقعات ہی کیوں پیش آتے؟

چاند بٹ، جرمنی:
مشرف کے سب سے بڑے محسن تو امریکی ہی ہیں۔ اگر امریکہ ہی ہاتھ کھینچ لے تو مشرف کس کام کے؟ یہ تو میڈیا ہی قوم کو فوجیوں کے حالات سے باخبر کر رہا ہے وگرنہ فوی پاکستان کے لیے کیا کریں گے؟

سید تقی شاہ، برطانیہ:
امریکہ پاکستان کو اپنی کالونی سمجھتا ہے اور جو مرضی آئے گا وہاں کرے گا۔ یہ تاخیر کا احتجاج بھی سیاسی جماعتوں کے دباؤ میں آکر کیا گیا ہے۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
دیر آید درست آید۔ اگر پاکستان کی مذہبی جماعتیں شور نہ مچائیں تو حکومت آواز اٹھانے میں دیر تو کیا، اپنے منہ کو ہی سی لے۔

معصومہ جان، راوالپنڈی:
’بڑوں‘ کی اجازت کے بغیر چڑی پر نہیں مارتی، ان ہی کے خلاف احتجاج کیسے کرے گی؟

قبائلی علاقوں میں فوج کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہےآپ کی رائے
قبائیلی علاقوں میں ہونے والی لڑائی کااثر کیاہوگا؟
وانا آپریشن: آخر حل کیا ہے؟آخر حل کیا ہے؟
وانا میں فضائی اور زمینی حملے: آپ کی رائے
افغان پناہ گزینوں کا پاکستانی معاشرے پر اثرآپ کی رائے
افغان پناہ گزینوں کا پاکستانی معاشرے پر اثر
عزیز جو بچھڑ گیاعزیز جو بچھڑ گیا
وہ فرائض کی بجاآوری میں جان سے گزر گیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد