پہلی ویمن کرکٹ چیمپیئن شپ: عنوان بھیجیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں ان دنوں انڈیا میں ہونے والی پاکستان انڈیا کرکٹ سیریز کا بہت چرچا ہے وہاں بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ لاہور میں پاکستان کی خواتین کی پہلی کرکٹ چیمپیئن شپ بھی منعقد ہورہی ہے۔ یہ تصویر قذافی سٹیڈیم میں لاہور اور کوئٹہ کے درمیان کھیلے جانے والے میچ سے لی گئی ہے جس میں کوئٹہ کی ٹیم نو اوورز میں صرف باون رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ لاہور کی ٹیم نے یہ ہدف صرف دو اوورز میں بغیر کسی نقصان کے پورا کرلیا۔ اس تصویر میں کوئٹہ کی مدیحہ عباسی بیٹنگ کر رہی ہیں جنہوں نے ایک رن بنایا۔
آپ کے عنوانات نیچے درج ہیں۔ محمد عامر، جرمنی: افسر زیب خان، شارجہ: آصف، اوسلو: اشرف علی سید، نیویارک: عاطف بٹ، بارسلونا: امجد محمود: فرحان خان، حیدرآباد دکن: اشفاق نوناری، سکھر: سعید خان، اسپین: نوشابہ خان، صادق آباد: عائشہ شاہ، آسٹریا: چھکے پر چھا۔۔۔ اختر عباس، کراچی: اچھی لگ رہی ہے وکٹ کیپر۔۔۔ ایس رخسانہ، کراچی: بہن تمہارا میں گول۔۔۔ عبدالرحمان صدیقی، لاہور: کرکٹ کھیلنے کے لئے آنکھوں کے لئے کھلا ہونا ضروری نہیں! عمران نقوی، میشیگان: ماں، کپتان اور وکٹ کیپر عذرا فراز، فلوریڈا: ہم کھیلیں گے اور مرد بچے پالیں گے۔۔۔ محمد ندیم، ٹورانٹو: جلدی سے گھر چلی جاؤ نہیں تو مولوی آجائیں گے۔۔۔ کامران منور، لاہور: لبرل اسلام ثاقب بٹ، بارسلونا: مسلماؤ تھوڑا شرم کرو ۔۔۔ (ایسے ہی لکھا ہے: ایڈیٹر) علینہ طاہر، ٹورانٹو: اگر باؤنسر آگیا۔۔۔۔ عطاء القدوس طاہر، ٹورانٹو: کرکٹ بال میرے شوہر کی کھوپڑی! نوید احمد، سیالکوٹ: کرکٹ کی بربادی نائلہ جمیل، کراچی: جلدی گھر جانا ہے ورنہ میاں بہت ناراض ہوگا۔۔۔ عمر حفیظ، فرانس: پھر نکل گئی فہیم، اوسلو: منہ بند کرو، بال چلی جائے گی نشا قاضی، اسلام آباد: ہم کسی سے کم نہیں۔۔۔۔ محمد زبیر، جرمنی: نہ چھیڑ ۔۔۔۔ سید عامر عباس، جنوبی کوریا: طاہر طاری، فیصل آباد: خان خان، بارسلونا: کوا چلا ہنس کی چال۔۔۔ فراز حیدر، فیصل آباد: نجم ولی خان، لاہور: سعید احمد بےگانہ، نماٹا سٹی: واہ واہ ایک پر کٹی۔۔۔۔ محمدعبیداللہ، فیصل آباد: پیٹ کی خاطر سب کچھ ہوسکتا ہے۔۔۔ فراز حیدر، فیصل آباد: وجودِ زن سے ہے کرکٹ کے میدان میں رنگ ارشد بھٹہ، جرمنی: عارف جبار قریشی، سندھ: نوید ملک، امریکہ: انور محمد، کوئٹہ: آہستہ مار، باؤنڈری قریب ہے۔۔۔ بلال، پاکستان: معین خان کا اسٹائل اور آفریدی کا چھکا! فواد شیخ، سکر: میں بھی شاہد آفریدی سے کم نہیں۔۔۔۔ زیاد احمد، کراچی: سلمان جاوید خان، اسلام آباد: زور لگا کے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیا، ہائے میری کمر!! شاہد اکرم، ابوظہبی: باپردہ کرکٹ، آپ کو یقین نہیں کیا؟ بینا اشرف، امریکہ: غلام پنوار، ٹیکسس: شاکرہ اسلم، انڈیا: نقل میں بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اشرف کاظمی، کینیڈا: جاویریہ منظور، کراچی: ہے جذبۂ جنوں تو ہمت نہ ہار۔۔۔ الیاس بنگش، ٹورانٹو: کبھی نہ کبھی تو جاوید کی طرح کا چھکا لگ ہی جائے گا! |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||