خاتون ریزرویشن بل پیش کر دیاگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں مرکزی حکومت نے زبردست شور شرابے کے درمیان منگل کو راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں یا ریزرویشن کا بل پیش کر دیا ہے۔ اس بل میں پارلیمان اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے تینتیس فیصد سیٹیں مختص کرنے کی تجویز ہے۔ راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر قانون ہنس راج بھاردواج نے اس بل کو شور شرابے کے درمیان زبانی طور پر پیش کیا۔ پیر کی رات کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گيا تھا کہ خاتون ریزرویشن بل کو پہلے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم یہ بل لوک سبھا یعنی ایوان زیریں میں پارلمینٹ کے اس اجلاس میں پیش نہیں ہوسکے گا کیوں کہ پیر کو ہی لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ گزشتہ ڈیڑھ عشروں سے خاتون ریزرویشن بل سیاسی نااتفاقی کا شکار رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی کم از کم دو بار لوک سبھا میں اس بل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے دوران بل کی نقول پھاڑ دی گئی تھیں۔ ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی، ریاست بہار کی حکمراں جماعت جنتادل یونائٹیڈ اور مرکزی حکومت میں شامل لالو پرساد کا راشٹریہ جنتا دل اور رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی جیسی بظاہر پسماندہ طبقوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتیں اس بل کی مخالفت کررہی ہيں۔ ان جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ريزرویشن کے اندر ریزرویشن کے طریقہ کار کو اپنایا جائے تاکہ پسماندہ طبقوں اور اقلیتوں کی خواتین کو بھی اس مجوزہ ریزرویشن سے فائدہ مل سکے۔ تاہم حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، مرکزی حکومت کے اتحادی کمیونسٹ سمیت کئی دیگر سیاسی جماعتیں اس بل کے حق میں ہیں۔ لالو پرساد کابینہ کے رکن ہیں اور پیر کو انہوں نے اپنے پرانے موقف میں نرمی کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ پسمناندہ طبقوں کی خواتین کے لیے الگ سے ریزرویشن دیئے بغیر ان کی پارٹی کو یہ بل منطور نہيں ہے۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے صدر شرد یادو نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش نہیں ہونے ديں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت خاتون ریزرویشن بل کے بارے میں سنجیدہ نہيں ہے۔ خاتون ریزرویشن بل ایک آئینی ترمیم ہے اس لیے اسے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے پاس کیا جانا ضروری ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا: ورکنگ وومن کی تعداد میں اضافہ10 March, 2007 | انڈیا پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش: قطرہ قطرہ بنے دریا ۔۔۔۔15 March, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا لڑکا چاہیے: ایک کروڑ لڑکیاں ہلاک09 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||