BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 September, 2007, 15:16 GMT 20:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا حکم
سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے حکومت کو تیس نومبر 2007 تک حتمی فیصلے کے لیے کہا ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ان چار پاکستانی شہریوں کو واپس پاکستان بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اور پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں اور انہیں گزشتہ ایک دہائی سے کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ اس عرضی کے جواب ميں دیا ہے جس میں ایسے قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست کی گئی تھی جو بغیر کسی مقدمے کے ملک
کی مختلف جیلوں ميں قید ہیں یا جو اپنی قید کی مدت کاٹ چکے ہیں۔

جموں کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے صدر اور پروفیسر بھیم سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ميں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان لوگوں کو جیل میں قید رکھا گیا لیکن کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے جن چار پاکستانی شہریوں کو رہا کرنے کو کہا ہے ان میں رضا الحق، محمد عثمان شیخ، محمد فاروق راجہ اور قدرت اللہ شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو تیس نومبر دو ہزار سات تک اس سلسلے میں آخری فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل اور اس مہم میں شامل بلونت سنگھ بلوریا کا کہنا ہے کہ ’اس سے پاکستانی قیدی ہی نہیں بلکہ ہندوستانی قیدیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا‘۔

پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیے گئے ایسے قیدی ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہيں اور کئی قیدی دس سے بھی زیادہ سالوں سے جیلوں میں قید ہیں۔ ہندوستان کے قانون میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اگر کوئی شخص مجرم قرار دیا جاتا ہے تو زیادہ سے زیادہ اسے دو برس کی سزا ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد