پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ان چار پاکستانی شہریوں کو واپس پاکستان بھیجنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اور پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں اور انہیں گزشتہ ایک دہائی سے کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ اس عرضی کے جواب ميں دیا ہے جس میں ایسے قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست کی گئی تھی جو بغیر کسی مقدمے کے ملک جموں کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے صدر اور پروفیسر بھیم سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ميں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان لوگوں کو جیل میں قید رکھا گیا لیکن کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جن چار پاکستانی شہریوں کو رہا کرنے کو کہا ہے ان میں رضا الحق، محمد عثمان شیخ، محمد فاروق راجہ اور قدرت اللہ شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو تیس نومبر دو ہزار سات تک اس سلسلے میں آخری فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور اس مہم میں شامل بلونت سنگھ بلوریا کا کہنا ہے کہ ’اس سے پاکستانی قیدی ہی نہیں بلکہ ہندوستانی قیدیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا‘۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیے گئے ایسے قیدی ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہيں اور کئی قیدی دس سے بھی زیادہ سالوں سے جیلوں میں قید ہیں۔ ہندوستان کے قانون میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اگر کوئی شخص مجرم قرار دیا جاتا ہے تو زیادہ سے زیادہ اسے دو برس کی سزا ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں تہاڑ سے 627 قیدیوں کی رہائی 19 June, 2007 | انڈیا بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش31 May, 2007 | انڈیا حکومت نے مزید مہلت مانگ لی17 July, 2007 | انڈیا بہار کی جیلوں میں قیدیوں سے کمائی20 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||