بہار کی جیلوں میں قیدیوں سے کمائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں عام طور پر جیلوں کا ذکر بدنظمی، قدیوں کی بھر مار اور دیگر مسائل کے حوالے سے ہوتا ہے لیکن یہاں پر قید سزا یافتہ مجرم ریاستی حکومت کے لیے آمدنی کا بھی ایک ذریعہ ہیں۔ ریاست کے محکمہ جیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر وی سی پی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ گزشتہ مالی سال ریاست کی جیلوں میں سزا یافتہ تقریباً اٹھائیس سو قیدیوں کی محنت سے سات کروڑ انیس لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ اور اس طرح جیلوں سے آمدنی کے معاملے میں بہار ملک بھر میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پہلا نمبر مہاراشٹرا کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہندوستانی پارلیمان پر حملے کے جرم میں افضل گرو کو ملی سزائے موت کے بعد پھانسی کا پھندا مہیا کرنے والی بکسر جیل قیدیوں کی محنت کے لحاظ سے ملک بھر میں اول ہے۔‘ ان کے مطابق مشہور فلم سٹار سنجے دت کی وجہ سے شہرت پانے والی ریاست مہا راشٹر میں واقع یرودا جیل قیدیوں کی محنت سے ہونے والی کمائی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔
بہار کی جیلوں کے سزا یافتہ قیدی روزانہ کھادی کپڑا، کمبل، دریاں اور ترپال تیار کرتے ہیں۔ بہت سے قیدیوں سے لوہار کا کام بھی لیا جاتا ہے جو توا اور گھریلوں استعمال کی دوسری اشیاء تیار کرنے کے علاوہ مرمت کے کام بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان جیلوں میں ’لائفر‘ نام کا صابن بھی بنایا جاتا ہے۔ مسٹر سنگھ بتاتے ہیں کہ اس وقت ریاست کی جیلوں میں چالیس ہزار سے زائد قیدی ہیں جن میں سے چھ ہزار قیدی سزا یافتہ ہیں۔ بقول مسٹر سنگھ ’سزا یافتہ قیدیوں میں عمر رسیدہ قیدی اور مختلف درجات کے دوسرے چار ہزار قیدیوں سے کوئی مشق نہیں کرائی جاتی۔‘ انہوں نے بتایا کہ سن دو ہزار تک قیدیوں لیے مخصوص کپڑا دوسری ریاستوں کی جیلوں سے خریدا جاتا تھا لیکن اب اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان جیلوں میں کام کرنے والے قیدیوں کو ہر دن کی محنت کے لحاظ سے آٹھ، دس اور بارہ روپے بطور اجرت دیے جاتے ہیں۔ مسٹر سنگھ نے بتایا کہ قیدیوں کو سال بھر میں قریب سوا کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ پھانسی کے پھندوں بنانے کے لیے مشہور بکسر جیل سے بہار کی جیلوں سے ہونے والی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ آتا ہے۔ بکسر جیل کے سپرینٹینڈینٹ جے شنکر نے بتایا کہ ان کی جیل میں تیار کردہ کارپیٹ کافی معیاری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق کافی قیدی پاورلومز سے کپڑے بنانے کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ | اسی بارے میں عمر 107 سال، ابھی تم ضمانت پر ہو10 November, 2004 | انڈیا رہائی کی امید پھر زندہ09 September, 2005 | انڈیا شدت پسند، ملزم یا ضمیر کے قیدی22 May, 2006 | انڈیا جیل ہنگامے میں درجنوں زخمی17 December, 2006 | انڈیا قیدیوں اور جیلوں کی اصلاح 04 May, 2007 | انڈیا حکومت نے مزید مہلت مانگ لی17 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||