جنرل پر جنسی استحصال کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے لداخ خطے میں ہند چین سرحد پر تعینات انڈین آرمی کی سولہویں کور کے میجر جنرل کو ایک خاتون افسر کے ساتھ جنسی استحصال کرنے کے الزام میں عہدے سے معطل کر کے سرینگر کے فوجی ہیڈکوارٹر کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ ہندوستانی فوج کی شمالی کمان نے ہند چین سرحد پر تعینات فوج کی سگنل کور کے ساتھ وابستہ خاتون افسر نیہا راوت کی تحریری شکایت کے بعد یہ قدم اٹھایا۔ سرینگر میں فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کی تفتیش کے لیے کورٹ آف انکوائری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ لداخ میں تعینات فوجی برگیڈ کے ترجمان کرنل ابھیجیت نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’لیہہ میں تعینات سولہویں کور کی ایک خاتون سگنل افسر نیہا راوت نے ادھم پور میں تعینات ناردرن کمانڈ میں تحریری طور پر یہ شکایت درج کروائی ہے کہ انڈو چین سرحد پر تعینات میجر جنرل اے کے لال ان کے ساتھ غیر شائستہ سلوک کرتے ہیں‘۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ میجر جنرل اپنے عہدے کا فائدہ اٹھا کر خاتون افسر کے ساتھ جنسی استحصال کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ ذہنی خوف وپریشانی میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیہا راوت نامی خاتون افسر نے اپنی شکایات میں جوالزامات میجر جنرل پر لگائے ہیں ان کے بارے میں فوج کی شمالی کمان نے خفیہ طریقہ سے تحقیقات شروع کیں جس کے دوران اس بات کے شواہد ملے کہ میجر جنرل اے کے لال مذکورہ خاتون افسر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ فوج کے میجر جنرل کے عہدے پرتعینات کسی آفسر کے خلاف یہ اس قسم کی پہلی کارروائی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نیہا راوت پنجاب کی رہنے والی ہیں اور ان کے والد امبالا فوجی چھاؤنی میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جموں میں میگا رازدان نامی ایک کشمیری پنڈت خاتون افسر نے اسی قسم کی صورتحال میں خودکشی کی تھی، تاہم واقعہ کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ حال ہی میں جموں میں ہی سشمتا چکرورتی ساکنہ مدھیہ پردیش نے بھی اپنے افسران پر جنسی استحصال کے الزامات لگا کر اپنی جان دی تھی۔ | اسی بارے میں بچوں سے ’زيادتی‘ کا ملزم گرفتار27 May, 2007 | انڈیا گھریلو تشدد سے متعلق قانون نافذ26 October, 2006 | انڈیا ہریانہ: جنسی ہراس کے خلاف کمیٹیاں 17 September, 2006 | انڈیا کے پی ایس گِل قصوروار 27 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||