مہاراشٹر: یقین دہانی پر احتجاج ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت مہاراشٹر کے وزیر اعلی ولاس راؤ دیشمکھ نے سوموار کو ایک وفد کو یقین دلایا کہ وہ انیس سو بانوے اور ترانوے میں فرقہ وارانہ فسادات کے تقریباً دو درجن سے زائد کیسوں کی سماعت کے لیے جلد ہی عدالتیں قائم کریں گے تاکہ سری کرشنا کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد ہو سکے۔ دیشمکھ نے اپنے دفتر میں ملاقات کرنے آئے سماجی تنظیموں کے کئی وفود کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ حکومت اس معاملہ میں بہت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس ہائی کمان کو انہوں نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اور وہ جلد ہی ہائی کورٹ سے مخصوص عدالتیں قائم کرنے کی اجازت طلب کریں گے۔ دیشمکھ کی اس یقین دہانی کے بعد وفد نے بیس اگست کو آزاد میدان میں ایک زبردست ریلی نکالنے کا منصوبہ پچیس اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ وفد میں شامل فلمساز مہیش بھٹ، سماجی رضاکار تیستا سیتلواد سمیت کئی مسلم تنظیموں نے بم دھماکہ کے مجرمین کو سزا ملنے کے بعد سے حکومت پر فرقہ وارانہ فسادات کے ملزمین کو سزا اور سری کرشنا کمیشن کی سفارشات پر عمل کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ فرید بٹاٹا والا نے دیشمکھ کے اس بیان کو ’صرف بھلاوہ‘ قرار دیا۔ سماجی کارکن فرید نےسری کرشنا کمیشن کی سفاشات پر عمل درآمد کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی تھی اور ان کی اپیل دیگر اپیلوں کے ساتھ ضم کر دی گئی ہے جس کی سماعت اب چھ ہفتوں کے بعد ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ دراصل حکومت بیس اگست کی ریلی کو روکنے کی کوشش میں ہے اور اس لیے یہ وعدے کرر ہی ہے۔ ’اگر حکومت اتنی ہی ایمندار ہوتی تو اتنے عرصہ رپورٹ پر عمل ضرور ہو گیا ہوتا۔ اور اب بھی جب تک کابینہ سے منظوری نہیں ملتی، حکومت عدالتیں قائم نہیں کر سکتی۔ اور کابینہ میں پہلے سے شیو سینا اور بی جے پی اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔‘ فلمساز مہیش بھٹ فرید کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتے۔’ہمیں حکومت کو ایک موقع دینا چاہئے، ویسے بھی ہم نے اپنا احتجاج ملتوی کیا ہے منسوخ نہیں۔‘ تیستا سیتلواد نے حکومت کو اور پولیس کمشنر کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں ان کیس کی تفصیلات ہیں جو سنگین نوعیت کے ہیں۔ تیستا کے مطابق کم سے کم 253 ایسے سنگین نوعیت کے کیس ہیں جو قتل کے زمرے میں آتے ہیں اور حکومت کو ان کی تفتیش کر کے قصورواروں کو سزا دلانی چاہئے۔ سری کرشنا کمیشن سفارشات کے نفاذ کے لیے ریاستی حکومت پر زبردست دباؤ پڑا ہے۔ کانگریس ہائی کمان سونیا گاندھی نے بھی اس سلسلہ میں جواب طلبی کے لیے وزیر اعلی کو دہلی طلب کیا تھا۔ جسٹس سری بال کرشن کی اس رپورٹ کو شیوسینا اور بی جے پی حکومت نے جانبدار رپورٹ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ اس رپورٹ میں کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور اعلی پولیس افسران کو قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ ان سیاسی جماعتوں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے ایسا کوئی قدم اٹھانے پر حکومت کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ایودھیا میں بابری مسجد انہدام کے بعد ممبئی میں دو ادوار میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ جس میں تقریباً ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ آج تک کسی بھی فسادی کو سزا نہیں ہوئی۔ | اسی بارے میں ممبئی میں زندگی معمول پر12 July, 2006 | انڈیا تعلیم مخالفوں سے تحفظ کی اپیل 12 June, 2007 | انڈیا تین کو سزائے موت، ایک کو عمر قید24 July, 2007 | انڈیا یعقوب میمن کو سزائے موت27 July, 2007 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکے: فرد جرم عائد07 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||