ہندی بولنے پر آٹھ افراد قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بدھ کی رات شدت پسندوں نے ہندی بولنے والی آبادی کے آٹھ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ لسانی بنیاد پر قتل کا یہ واقعہ ریاست کے کاربی آنگ لانگ ضلع میں پیش آيا ہے۔ ریاست کے اعلیٰ پولیس اہلکار ایل آر بشنوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً تیس مسلح شدت پسندوں نے کاربی آنگ لانگ ضلع کے ایک گاؤں میں آ کر تلاشی لی اور ہندی بولنے والے افراد کو ایک ساتھ باہر لے جا کر انہیں گولی مار دی۔ پولیس حکام کو شبہ ہے کہ اس واقعے کے پیچھے علیحدگی پسند تنظیم یونائٹیڈ لیبریشن فرنٹ آف آسام یعنی ’الفا‘ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ مسٹربشنوئی کے مطابق ایک مقامی قبائلی شدت پسند گروپ کاربی لانگپی نارتھ کیچر لیبریشن فرنٹ نے یہ واردات کرنے کے لیے الفا کی مدد کی ہے۔ جائے واقعہ پر اب پولیس کا پہرہ ہے اور علاقے میں مسلح شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے تلاشی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ الفا انیس سو اناسی سے آسام کی آزادی کے لیے مہم چلا رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہےکہ تازہ حملہ آزادی کے ساٹھ سالہ جشن سے پہلے ریاست میں اپنی سرگرمی کو علامتی طور پر دکھانے کے غرض سے کیا گیا ہے۔ الفانے پانچ اگست سے ہی ریاست میں حملوں کا آغاز کردیا تھا۔ گزشتہ چند دنوں میں چھ مختلف بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور پینتالیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں ناگاؤں نے آسام میں آگ لگا دی 05 July, 2007 | انڈیا آسام: بم دھماکہ 7ہلاک20 زخمی26 May, 2007 | انڈیا آسام بم دھماکے میں پندرہ زخمی04 May, 2007 | انڈیا آسام کی ’گمشدہ‘ خواتین11 April, 2007 | انڈیا آسام میں آٹھ باغی ہلاک: فوج10 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||