جناح ہاؤس ایک بار پھر عدالت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی بیٹی دینا واڈیا نے ممبئی میں واقع اپنے والد کے موروثی مکان ’جناح ہاؤس‘ کی ملکیت کے دعوے کے لیے عدالت میں ایک بار پھر درخواست دائر کی ہے۔ دینا واڈیا اس وقت اپنی بیٹی کے ساتھ برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے وکیل فالی نریمان نے منگل کے روز ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی جس میں انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور نہ ہی ان کی بیٹی دینا کو تارک وطن مانا گیا اس لیے اس مکان کے تمام اختیارات مسٹر جناح کے پاس تھے اور انیس سو اڑتالیس میں ان کی وفات کے بعد اس کی حق دار ان کی بیٹی دینا ہیں۔ مرکزی حکومت کے وکیل مہیندر سیٹھنا نے عدالت سے حلف نامہ داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی اور یقین دلایا کہ اس وقت تک اس عمارت کا کسی طرح بھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے حکومت کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ دینا نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے والد کے مکان کو ثقافتی مرکز بنایا جا رہا ہے اور اس کا افتتاح بقول ان کے پندرہ اگست کو کیا جائے گا۔
جناح ہاؤس ممبئی کے مہنگے علاقہ مالا بار ہل میں واقع ہے۔ ان کے پڑوس میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ دینا نے اس سے قبل انیس سو ترانوے میں بھی ایک اپیل دائر کی تھی لیکن مرکزی وزارتِ خارجہ کے اعتراض کے بعد انہوں نے اسے واپس لے لیا تھا۔ البتہ عدالت نے انہیں دوبارہ اپیل کی اجازت دی تھی۔ محمد علی جناح کا یہ مکان ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ دینا کے علاوہ حکومتِ پاکستان نے بھی اس پر اپنا دعویٰ پیش کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وہ اسے ممبئی میں پاکستانی قونصل کی سرکاری رہائش گاہ بنائیں۔ اس دوران اس مکان کو جنوبی ایشیائی سینٹر فار آرٹ اینڈ کلچر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ آئی سی سی آر نے کیا۔ اس عمارت کے صدر دروازے پر اس کی تختی بھی لگائی گئی تھی۔ دینا نے جناح ہاؤس کو ثقافتی مرکز بنائے جانے کی مخالفت کی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ سے تحریری طور پر رابطہ قائم کیا۔ دینا کے بیٹے نسلی واڈیا نے اس مکان کی اطلاعات حاصل کرنے کے لیے آر ٹی آئی ( رائٹ ٹو انفارمیشن ) قانون کا سہارا لیا اور تیس جولائی کو عرضی داخل کی۔
جناح ہاؤس کو جناح نے انیس سو سترہ میں خریدا تھا۔ اس وقت وہ بیرسٹر تھے۔انیس سو اڑتیس میں یہ مکان مکمل طور پر بن کر تیار ہوا تھا۔ جناح شادی کے بعد اسی مکان میں رہتے تھے۔ دینا ان کی اکلوتی بیٹی تھیں لیکن انہوں نے اپنے والد کی زندگی میں ہی ان کی مرضی کے بغیر شادی کر لی تھی۔ تقسیمِ ہند کے بعد دونوں ممالک سے عوام ایک ملک سے دوسرے ملک میں نقل مکانی کر گئے تھے اور اس وقت کے قانون کے مطابق انہیں تارکِ وطن قرار دے کر ان کی املاک پر حکومت نے قبضہ کر لیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ جناح کو تارکِ وطن قرار نہیں دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جناح نے اپنی وصیت میں یہ مکان اپنی بہن فاطمہ کے نام کر دیا تھا اور فاطمہ انیس سو سینتالیس میں آزادی ملنے کے بعد پاکستان نقل مکانی کر گئیں اس لیے انہیں تارکِ وطن قرار دیا گیا۔ اسی لیے اب اس مکان پر حکومت کا قبضہ ہے۔ دینا حکومت کے اس دعوے کو غلط قرار دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے کسی طرح کی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ | اسی بارے میں نوادرات منتقل کرنے کی اجازت17 December, 2006 | پاکستان جناح: بھارت کی نظرمیں 07 June, 2005 | پاکستان دختر قائد مزار قائد پر26 March, 2004 | پاکستان قائد کے خاندان کی لاہور آمد24 March, 2004 | کھیل جناح ہاؤس سے ثفافتی مرکز07.06.2003 | صفحۂ اول جناح کا گھر: برائے فروخت24.12.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||