ڈاکو ددوا پولیس مقابلے میں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتر پردیش پولیس کے مطابق چتر کوٹ کے علاقے مانک پور میں ہونے والی ایک جھڑپ میں انتہائی مطلوب ڈاکو ددوا اور اس کے پانچ ساتھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ددوا اور ان کے ساتھی مدھیہ پردیش کے جنگلات میں گزشتہ تین دہائیوں سے سرگرم تھے اور ’بندیل کھنڈ کے ویرپن‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کے خلاف ملک کے مختلف پولیس تھانوں میں قتل، اغوا، جنسی زیادتی، ڈکیتی اور لوٹ مار کے ایک سو پچاس سے زائد مقدمات درج تھے۔ ددوا کا اصلی نام شیو کمار پٹیل تھا اور ان کے سر کی قیمت پولیس نے ساڑھے پانچ لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس برج لال نے بی بی سی کو بتایا کہ ددوا اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت پولیس کے ساتھ مانک پور کے علاقے کیلہا میں اتوار کو ہونے والی ایک جھڑپ میں ہوئی ہے۔
ددوا نے مجرمانہ سرگرمیوں کا آغاز بیڑی بنانے کے کام آنے والے تیندو کے پتے کے سرکاری ٹھیکے داروں سے بھتہ وصول کرنے سے کیا تھا۔ حال میں انہوں نے سیاست میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کرنی شروع کی تھیں۔ پہلے انہیں حکمراں جماعت بہوجن سماج پارٹی کی سرپرستی حاصل تھی، بعد میں انہوں نے سماج وادی پارٹی سے اپنا رشتہ قائم کرلیا تھا۔ سماج وادی پارٹی سے قربت کے سبب ددوا کا بیٹا ضلع پرشد (کونسل) کا صدر منتخب ہوا اور پھر ددوا کے بھائی کوگزشتہ اسمبلی انتخاب میں پرتاپ گڑھ ضلع میں سماج وادی پارٹی کا امیدوار بنایا گيا۔ لیکن ریاست میں بہوجن سماج وادی پارٹی کےاقتدار میں آنے کے بعد ہی پولیس نے ددوا پر شکنجہ سخت کرنا شروع کر دیا تھا اور خصوصی حفاظتی دستے کی بڑی تعداد باندہ اور چتر کوٹ کے جنگلوں میں بھیجی گئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق ددوا کے نیٹ ورک پر قابو پانے کے لیے تقریباً سو کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ | اسی بارے میں پھولن دیوی کی یاد اور اثر ابھی زندہ ہے 28 April, 2004 | انڈیا بھارتی ڈاکوؤں کے انوکھے مقابل 27 August, 2005 | انڈیا پھولن دیوی قتل کا مفرورملزم گرفتار 25 April, 2006 | انڈیا بھارت کی نئی پھولن دیوی سیما پریہار05 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||