بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں’القاعدہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک وڈیو سی ڈی جاری کی گئی ہے جس میں ابو عبدالرحمان انصاری نامی شخص نے کشمیر میں القاعدہ تنظیم کا سربراہ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں القاعدہ نے کارروائیوں شروع کر دی ہیں۔ اس سی ڈی میں ابو عبدالرحمان انصاری جنہوں نے اپنا چہرہ نقاب سے ڈھانپا ہوا تھا کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں القاعدہ کی سرگرمیوں کا آغاز پورے بھارت میں کارروائیوں کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر ہندوستان میں جہاد کا دروازہ ثابت ہو گا۔ ابو عبدالرحمان انصاری نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند سیاسی اور عسکری تنظیموں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری جہاد کو ایک منظم سازش کے تحت دو ملکوں کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے پر جنگ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سازش میں کشمیر کی نتظیموں بھی آلہ کار بن گئیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس حکام نے اس سی ڈی پر فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں پروپیگنڈہ جنگ میں پیچھے ہیں: رمزفیلڈ18 February, 2006 | آس پاس امریکی عدالت، حامد پر جرم ثابت26 April, 2006 | آس پاس ’القاعدہ نائب سربراہ گرفتار‘03 September, 2006 | آس پاس القاعدہ ایک گلوبل تحریک ہے: فیصل06 November, 2006 | آس پاس ’القاعدہ رہنما کی موت نہیں ہوئی‘11 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||